ایک صاحب نے دستی استفتاء پیش کیا دریافت فرمایا کہ جواب کی کب ضرورت ہے عرض کیا کہ ابھی لکھ دیجئے فرمایا کہ اتنی جلدی تو یہ کام نہیں ہو سکتا بعض اوقات کتاب دیکھنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے بعض مرتبہ تلاش میں دیر لگ جاتی ہے تلاش سے تو میں نہیں گھبراتا کیونکہ ایک مسلمان کی خدمت ہے مگر تلاش کے لئے کچھ وقت کی بھی ضرورت ہے عرض کیا کہ بہت اچھا فرمایا کہ اب یہ بتلاؤ کہ تمہارے پاس کسطرح پہنچا جائے گا عرض کیا کہ میں خود آ کر لیجاؤنگا فرمایا کہ ممکن ہے کہ آج ہی تیار ہو جائے تو اسکو امانت رکھنے کا ایک مستقل کام ہے میں کثرت مشاغل سے بھول بھی جاتا ہوں عرض کی کہ بذریعہ ڈاک روانہ فرمادیں فرمایا کہ ماشاءاللہ یہ بات کہی کام کی بہت اچھا اب یہ کیجئے کہ ایک لفافہ خرید کر اور اپنا پورا پتہ لکھ کر مجھکو دیا جائے جس وقت بھی فتوی تیار ہو جائیگا روانہ کردونگا اصول سے کام کرنے میں راحت ہی راحت ہے میں کام سے نہیں گھبراتا نہ انکار ہے چاہتا یہ ہوں کہ ہر کام اصول کے ماتحت ہو میں آلہ آباد ایک مرتبہ گیا ہوا تھا تعویذوں کی فرمائش ایسے وقت ہوئی کہ وہ عین چلنے کا وقت تھا میں نے کہا اسکی صورت یہ ہے کہ کاغز قلم دوات اسٹیشن پر ساتھ لیچلو میں ریل میں بیٹھ کر لکھونگا اور جب گاڑی چل دیگی کاغز قلم دوات واپس کر کے میں بھی چل دونگا چناچہ میں بیٹھا ہوا لکھتا رہا جب ریل چلی قلم دوات حوالہ کر کے روانہ ہو گیا تو اصول سے بڑی راحت ملتی ہے آجکل یہ ہی بات نہیں رہی اصول اور ضابطوں سے لوگ گھبراتے ہیں اور میں بے اصولی اور بے قاعدہ باتوں سے گھبراتا ہوں کیونکہ وہ دوسروں کے کام کے ساتھ اپنی بھی کچھ مصلحتیں ہیں آرام بھی ہے کوئی کام بھی ہے کس طرح پابند ہو جاؤں دوسروں کا ـ
( ملفوظ 493)ایک صاحب کے مشورہ مانگنے پر حضرت کا جواب
ایک بہت طویل خط آیا جس میں کسی معاملہ میں مشورہ چاہا تھا اور لکھا تھا کہ اپنے قلب سے مشورہ فرما کر لکھیں جواب میں حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ میرا قلب کا یہی مشورہ ٹھرا ہے کہ دعاء کی جاوے سو دل کرتا ہوں کہ جو مصلحت ہو آپ کے قلب میں آ جاوے ـ
( ملفوظ 491) اہل علم کا شان بے تکلفی اور تواضع
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم کی شان ہی جدا ہوتی ہے مچھلی شہر میں میرا قیام تھا باہر سے ایک عالم آ گئے وہ عالم ہمسے عقائد میں اختلاف رکھتے تھے جمعہ کا دن تھا وہ عالم ممبر کے پاس مصلے کے قریب بیٹھے تھے امام ان کے معتقد تھے میں ذرا فاصلہ سے بیٹھا تھا اب جماعت کا وقت آیا امام نے ان صاحب سے کہا کہ آپ نماز پڑھا ئیے مگر لوگوں کا خیال اسکے مخالف تھا کہ میں نماز پڑھاؤں ایک تحصیلدار صاحب کع عوام کے اس خیال کا اطلاع تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں میں نے کہا با آواز بلند کہا کہ مجھ کو امام کی اجازت نہیں یہ میں نے اس لئے کہا کہ امام سنکر شاید اجازت دیدں کیونکہ وہ عالم غیرمقلد تھے اور وہ ممبر کے قریب پہنچ چکے تھے امام تو کچھ کھڑا کر دیا کہ آپ نماز پڑھائیں میں کھڑا ہو گیا اور یہ خیال کیا کہ اب نماز نہ پڑھانے میں اندیشہ فتنہ کا ہے میں خطبہ اور نماز پڑھائی وہ مولوی صاحب بیچارے اپنی جگہ پر جا بیٹھے کلام اسپر تھا کہ علم کی شان ہی اور ہوتی ہے یہ تحصیلدار صاحب عالم تھے اس لئے مناسبت سے بے تکلف بغلوں میں ہاتھ دے کر مجھ کو کھڑا کر دیا اسی طرح شاہجہانپور میں ایک کورٹ انسپکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی بظاہر انکی وضع خلاف ثقات تھی مگر انکی طرف میرے دل کو کشش ہوتی تھی میں متعجب تھا کہ کیوں کشش ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عالم ہیں کتنا ہی بڑا آدمی ہو مگر عالم ہو اس میں بے تکلفی اور تواضع ضرور ہو گی ـ
( ملفوظ 492)غیر مسلم لیڈر اور مسلمان لیڈر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر ایک مولوی صاحب آئے تھے نیک نیت آدمی ہیں مجھ سے کہنے لگے فلاں غیر مسلم قائد میں ایسی کیا بات ہے کہ ہندو سب اسکی اقتدا کرتے ہیں میں نے کہا کہ جس چیز کی وہ دعوت دے رہا ہے اس کے لوگ پہلے سے طالب ہیں یعنی دنیا تو حقیقت میں یہ اسکا اتباع یا اقتدا نہیں اپنی خواہش و غرض کا اتباع اور اقتدا ہے اور اسکا معیار یہ ہے کہ وہ اس دنیا سے منع کر کے دیکھے تو معلوم ہو جائیگا کہ پھر کون اقتدا اور اتباع کرتا ہے سمجھ گئے
بہت خوش ہوئے اور یہ کہا کہ بالکل ٹھیک ہے یہ ہی بات ہے سوچنے سے بھی سمجھ میں نہ آئی تھی پھر کہنے لگے کہ مسلمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں سب مسلمان اسکی اقتدا کریں میں نے کہا کہ اس سے کیسے ثابت ہوا کہ کوئی ایسی ہستی نہیں اسکو ایک مثال سے سمجھ لیجئے جماعت میں ایک عالم فاضل موجود مگر لوگ بلا جماعت نماز پڑھ رہے ہیں اب اگر اس عالم فاضل امام سے سوال کیا جائے کہ یہ تمہارے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے تو وہ یہی کہے گا کہ مجھ کو کیا معلوم یہ تو نماز نہ پڑھنے والوں سے سوال کیا جاوے کہ میرے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے اگر مسلمانوں میں کوئی اہل نہیں تو وہ کمی کی بات تحقیق کر کے بتلائی جاوے تاکہ کوئی اسکو اپنے اندر پیدا کرے بشرطیکہ پیدا کرنے کی ہو اور اگر ایسے اہل ہیں تو پھر مسلمانوں سے پوچھئے کہ اسکی اقتدا کیوں نہیں کرتے اس پر خاموش ہو گئے
( ملفوظ 490) شکستہ خط سے تنفر
ایک خط کو ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ نہایت ہی شکستہ لکھا ہے پڑھنے میں بھی تکلف ہوا ایک شکستہ خط اور ایک غیر مانوس لغات سے یعنی تقریر میں ایسے لغت بولنے سے اور وجہ ظاہر ہے کہ تقریر اور تحریر سمجھانیکے واسطے ہے جب یہ مقصود حاصل نہ ہو تو نتیجہ کیا ـ
( ملفوظ 489) انہ دوستی نہ دشمنی
یک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص یہاں پر آتا ہے اس سے اول کہدیا جاتا ہے کہ نہ کسی سے دوستی کرو نہ کسی سے دشمنی جو ایسا کرتے ہیں وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں اور جو دوستی وغیرہ میں پھنس جاتے ہیں وہ محروم جاتے ہیں ـ
( ملفوظ 488) آدمی اپنے اوپر بھی اعتماد نہ کرے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں بہت قوت کے ساتھ کہ آدمی اپنے اوپر بھی اعتماد نہ کرے مراد یہ ہے کہ نفس کسی وقت میں فرشتہ ہے اور کسی وقت میں شیطان ـ
( ملفوظ 487 )بزرگوں کی غلطی پکڑنا پکڑنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ غلطی تو اپنے بزرگوں کی بھی پکڑنا چاہیئے مگر ادب کیساتھ ہو اور فہم ہی آدمی کر سکتا ہے ـ
( ملفوظ 486 )بازار میں تجارت کے لئے احکام فقہ سے واقف ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل سیاست سیاست گاتے پھرتے ہیں کیا آجکل کی سیاست ہے اس کا بھی نور فہم ہی سے تعلق ہے اور یہ بدون وحی کے اتباع کے میسر نہیں ہو سکتا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عجیب تجویز فرمائی آجکل کے تمام مدبریں اور عقلا سر رگڑ کر مر جائیں وہ ذہن میں آہی نہیں سکتی یعنی یہ حکم دیا تھا کہ بازار میں صرف وہ لوگ تجارت کریں جو فقہیہ سے واقف ہوں اس تجویز سے تمام لوگ مسائل سے واقف ہو سکتے ہیں انہوں نے تمام ملک کو درسگاہ بنا دیا تھا تمدن بھی کوئی ان ہی حضرات سے سیکھ لے ـ
( ملفوظ 485)اہل تدین میں بدعت کا سبب دو چیزیں ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل تدین میں بدعت شدت محبت اور قلت فہم سے پیدا ہوئی تھی پہلے جو بدعتی ہوئے تھے وہ اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے مگر محبت کی زیادتی اور فہم کی کمی سے بدعت میں مبتلا ہو جاتے تھے جس سے انکی نیت کا اچھا ہونا ثابت ہوتا ہے ـ
24 صفر المظفر 1351 مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

You must be logged in to post a comment.