ایک شخص نے بیعت کی درخواست کی دریافت فرمایا کہ کیا کام کرتے ہو کچھ لکھے پڑھے بھی ہو یا نہیں عرض کیا کہ کتابیں دیکھتا ہوں فرمایا کہ کتاب دیکھنے کو میں نہیں کہہ رہا ہوں جو سوال ہے اسکا جواب دینا چاہیئے خیر اس سے معلوم ہوا کہ کچھ لکھ پڑھ لیتے ہو اچھا اس کے متعلق خط و کتابت وطن سے کرنا خط و کتابت سے آپ کے خاص حالات معلوم ہونگے ان حالات پر خاص تعلیم ہو گئی اس پر عمل کر کے دیکھنا کہ پہلے حالات میں کچھ فرق ہوا یا نہیں اس کے بعد اگر بیعت کی درخواست کیجائے تو مضائقہ نہیں جلدی کرنے میں کبھی دھوکہ ہو جاتا ہے ـ
( ملفوظ 483)اختیاری اور غیر اختیاری کا فرق
ایک صاحب نے سوال کیا حضرت ایک شخص مقصود میں مشغول ہے مگر غیر مقصود کی مشغول کا خیال آتا ہے تو کیا یہ مذموم ہے فرمایا کہ اگر وہ غیر اختیاری ہے تو کچھ مذموم نہیں محمود اور مذموم ہونے کا مدار اختیاری اور غیر اختیاری ہونے پر ہے اگر غیر اختیاری ہے تو مذموم نہیں اور اگر اختیاری ہے تو مذموم ہے
( ملفوظ 482)اپنے عیب نظر نہ آنا بہت بڑا عیب ہے ـ
ایک خط کے جواب میں فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا تھا اصلاح چاہتے تھے میں نے لکھا کہ تم ان عیوب کو بیان کرو میں اصلاح کا طریقہ بتا دونگا لکھا کہ میری سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ میرے اندر کیا عیب ہے میں لکھا کہ تبلیغ دین کا مطالعہ کرو آج خط آیا ہے لکھا ہے کہ تبلیغ دین کو پڑھا چند عیوب اپنے اندر سمجھ میں آئے فرمایا کہ جب طلب ہوتی ہے راہ نکل ہی آتی ہے اور انہوں نے تو یہ ہی لکھا تھا کہ سمجھ میں نہیں آتا ایک شخص نے تو یہ لکھا تھا کہ میرے اندر کوئی عیب ہی نہیں ارے بندہ خدا یہ ہی کیا تھوڑا عیب ہے کہ اپنے اندر کوئی عیب ہی نہیں بتلاتا اگر حقیقت معلوم ہو جائے تو یہ کہنے لگے کہ میں سرتاپا عیوب ہی میں غرقاب ہوں حقیقت سے بے خبری ہے جس وجہ سے اپنے کو عیوب سے پاک ہونیکا خیال ہے میں نے جواب میں لکھا کہ جب کوئی عیب ہی نہیں تو بالکل بے فکر رہو اصلاح ہی کی ضرورت نہیں ـ
( ملفوظ 481)مہر کم کرنے کا مطلب
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مہر کم کرنے سے مراد یہ ہے کہ تمام برادری جمع ہو کر اس کو کم کر دے ورنہ مقدار متعارف لڑکی کا حق ہے ولی کم کے اسکا نقصان کرتا ہے جسکا اسکو حق نہیں عرض کیا کہ یہ سنا ہے کہ تیس روپیہ سے کم مہر نہ ہو فرمایا کہ غلط ہے دس درہم سے کم نہ ہو میں نے حساب لگایا تھا ایک درہم چار آنہ چار پائی کا ہوتا ہے تو دس درہم قریب پونے تین روپیہ کے ہوتے ہیں اس سے کم مہر نہ ہونا چاہئے ـ
( ملفوظ 480)آجکل کے مصنف
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے سیرت میں ایک قائد غیر مسلم کی مدح لکھی ہے وہ کتاب میرے پاس بھی بھیجی میں نے لکھ دیا کہ میں ایسی کتاب اپنی ملک میں رکھنا نہیں چاہتا جس میں روح سیرت یعنی نبوت کے مکذب کی مدح کی گئی ہو آجکل ہر شخص مصنف بن بیٹھا ہے آزادی کا زمانہ ہے مگر میں نے حقیقت کو ظاہر کر دیا اور یہ ایک ضروری چیز ہے کہ حقیقت ظاہر ہونا چاہیئے پھر خواہ کوئی اسطرف جائے خواہ اسطرف انا ھدینہ السبیل اما شاکر واما کفورا دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں البتہ جہاں تبلیغ نہیں ہوئی تو تو کہنا واجب ہے اور تبلیغ وہاں کرنی چاہیئے اب یہ صاحب یہاں پر آتے ہیں اس میرے لکھ دینے پر لکھا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں ایسا لکھا گیا ہے ـ
23 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ
( ملفوظ479 )دوسروں کے کہنے پر کسی سے شکایت نہ ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو جو کسی سے شکایت پیدا ہوتی ہے وہ اپنی تحقیق سے ہوتی ہے کسی کے اثر سے نہیں ہوتی بعض لوگ احباب میں سے دوسروں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے اس معاملہ سے یہ فاسد غرض ہے مگر الحمد اللہ میں کبھی اس سے اثر نہیں لیتا حسن ظن اسقدر عطا ہوا ہے کہ روایت سے کبھی سوء ظن ہوتا ہی نہیں یہ بھی میرا ایک معمول ہے ـ
( 478)تجدید بیعت سے متعلق ایک سوال کا جواب
تجدید بیعت کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر شیخ سابق متبع سنت تھے تو ان کی بیعت مع اپنی برکت کے ویسی ہی باقی ہے پھر ضرورت نہیں تجدید بیعت کی اور اگر متبع سنت نہ تھے تو وہ بیعت ہی صحیح نہیں ہوئی اب جہاں چاہے اور جس سے چاہے بیعت کر لی جائے مگر ساتھ ہی شیخ سابق کے متعلق اسکا لحاظ رہے ـ واھجرھم ھجرا جمیلا یعنی ہجر تو ہو مگر جمیل یعنی شیخ سابق کی بیعت فسخ کرنے کے بعد بھی اسکی گستاخی نہ کرے اس تجدید میں میرا یہ بھی معمول ہے کہ میں گستاخی کو منع کر دیتا ہوں
23 صفر المظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 477) بعض جگہ سختی کی ہی ضرورت ہوتی ہے ـ
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں پہلے سے نرمی کا برتاؤ کر رہا تھا ایک نہ سنی اب سختی کی گئی تو آنکھیں کھل گئیں اب جو لوگ اعتراض کرتے ہیں وہ اس منظر کو دیکھ کر فیصلہ دیں میں کیا کروں سختی ہی لوگ مانتے ہیں نرمی سے مانتے ہی نہیں مگر اب بھی اعتراض ہے تو میں کسی کو بلانے نہیں جاتا لوگ خود آتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں نہ آئیں اگر میرا طرز پسند نہیں ـ
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ بیوفا سہی ،
جسکو ہو جان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں
( ملفوظ 476)صحابہ کرام کی فضیلت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرات صحابہ کرام کا یہ ایک عمل کہ ایمان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اتنا بڑا ہے کہ تمام اقطاب ابدال اتقیاء عباد کے اعمال ایک طرف ـ
( ملفوظ 475)آجکل کے تعلیم یافتہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل کے تعلیم یافتہ محض نام کے ہوتے ہیں قابلیت خاک بھی پیدا نہیں ہوتی سمجھتے تک بھی نہیں ایک مقام پر مولانا انور شاہ صاحب کا بیان ہوا کم لیا وقت لوگوں کی سمجھ میں آیا نہیں اس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس بیان سے نفع ہی کیا ہوا جب سامعین سمجھے ہی نہیں میں نے سنکر اپنے ایک بیان میں کہا کہ شاہ صاحب کے بیان سے سننے والوں کو اپنے جہل کا تو علم ہو گیا اور لیاقت و ذہانت کا دعویٰ تو فنا ہو گیا یہ کیا نفع نہیں ـ

You must be logged in to post a comment.