ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ جن میں باطنی کیفیت نہیں انکی کسی بات کا بھی اعتبار نہیں خلوص جسکا نام ہے وہ بدون اہل اللہ کی جوتیاں سیدھی کئے ہوئے پیدا ہی نہیں ہو سکتا ـ
( ملفوظ 473) تحریکات حاضرہ میں ظلمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ان نئی چیزوں میں اکثر میں نور نہیں بلکہ ظلمت محسوس ہوتی ہے اب یہ تحریکات حاظرہ ہی ہیں ان کے سوچنے سے قلب پر ظلمت اور کدورت معلوم ہوتی ہے جسکی وجہ یہی ہے کہ اصول اسلام اور احکام اسلام پر اسکی بنیاد نہیں اس لئے اس میں ظلمت ہے ـ
( ملفوظ 472)صوفی کا سب سے بڑا کمال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ خاص خاص چیزوں کو کمال سمجھتے ہیں کوئی عبادت کو کوئی تقویٰ کو مگر محققین سب سے بڑا کمال اسکو سمجھتے ہیں کہ بندہ اپنے نقائص کو پیش نظر رکھے ـ
( ملفوظ 471)رزق میں تدبیر کامل طور پر موثر نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بین ظاہر طور پر ہر وقت مشاہدہ ہوتا ہے کہ رزق میں کوئی تدبیر کافی موثر نہیں ایک ہی تدبیر دو شخص کرتے ہیں ایک کامیاب ہوتا ہے دوسرا ناکام ایک ہی سامان کی دو دوکانیں پاس پاس ہیں ایک چلتی ہے دوسری نہیں چلتی پس نہ اسکے ہونے پر ناز چاہیئے اور نہ اسکے نہ ہونے پر مایوس ہونا چاہیئے فقہا نے اس روز کو خوب سمجھا ہے افلاس کی حالت میں افلاس کا حکم کیا کما ذکر وہ فی باب الحجر الدین اور غنا کی حالت میں غنی کو رزق قاضی نہ لینے کی اجازت نہیں دی اور تصریح فرمائی ہے کہ اگر قاضی کو مالی وسعت ہو اور بیت المال سے کچھ ملے تو لے لے انکار نہ کرے اس لئے کہ بعد میں اگر قاضی کا تقرر ہوگا اور اس میں وسعت پر کیا اختیار ہے اگر وسعت نہ رہی تو پھر مشکل پڑے گی ـ
( ملفوظ 470)آج کل کی تعلیم کا اثر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل کی تعلیم اور تہذیب کا یہ اثر ہے کہ امریکہ میں ایسے تعلیم یافتہ لوگ اہل تمول کے بچوں لڑکوں کو پکڑ کر چھپا دیتے ہیں اور گمنام اطلاع کر دیتے ہیں کہ اتنا ہزار روپیہ فلاں رکھ دو بچوں کو چھوڑ دیا جائے گا ورنہ ضائع کر دیا جائے گا ـ حضرت کوئی ترقی جب تک وحی کے ماتحت نہ ہو پرامن نہیں ہو سکتی ـ
( ملفوظ 469)عورت کو مرد سے مشورہ کرنا ضروری ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عورت کو بدون مشورہ مرد کے کوئی کام نہیں کرنا چاہیئے حدیث میں تو یہاں تک آیا ہے یہ حدیث نسائی میں ہے کہ اگر عورت اپنا مال بھی صرف کرے وہ بھی بدون اجازت زوج کے نہ کرے ـ
( ملفوظ 468) دوسروں کے معاملات میں دخل نہ دینا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو دوسروں کے معاملات میں پڑنے سے طبعی نفرت ہے اور تو کوئی کیا ہوگا بھائی اکبر علی مرحوم سے زیادہ تعلق دنیا کے اعتبار سے اور کس کے ساتھ ہو سکتا تھا اس لئے کہ حقیقی بھائی تھے مگر میں ان کے معاملات میں بھی کسی قسم کا دخیل نہیں ہوا انکی لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق میرے پاس خطوط آتے تھے میں جواب میں لکھ دیتا تھا کہ مجھ کو ان قصوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ شعر لکھ دیتا تھا
ما ہیچ ندار یم غم ھیچ نداریم ، دستار نداریم غم پیچ نداریم ،
( ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تو ہمکو کسی چیز کی فکر بھی نہیں نہ پگڑی ہے نہ اوسکو باندھنے کی فکر 12 )
( ملفوظ 467) شریعت و طریقت کے اتحاد کا مطلب
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شریعت طریقت کے اتحاد سے یہ مراد نہیں کہ دونوں من کل الوجوہ عین ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان میں تضاد تنافی نہیں جیسے مثلا ایک صلوۃ ہے ایک زکوۃ ہے ان کے مسائل بھی الگ الگ ہیں ان میں اتحاد بمعنی عینیت نہیں مگر تنافی اور تضاد بھی نہیں کہ کتاب الصلوۃ میں جس چیز کو حلال کہا کتاب الزکوۃ میں اس کو حرام کہا ہو ـ
( ملفوظ 466)جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی کفار سے مرعوبیت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں ان جدید تعلیم یافتوں کو ہندوں کی اور انگریزوں کی تجویزیں تو پسند انکے تو دل سے معتقد اور مقلد اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی وقعت نہیں محض کور مغزبد فہم اور اور خود انکے یہ امام یعنی انگریز وغیرہ لاکھوں تجربوں و مشاہدات کی بناء پر احکام اسلام کے قائل ہوتے جاتے ہیں یورپ میں ایک بہت بڑا سفر وضو کے حکم اور اسرار بیان کر کے کہتا ہے کہ قربان جایئے اس نبی کے جس نے اپنی امت کو ایسی چیز کی تعلیم کی ـ
14 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 465)قرآن میں عورتوں کی صفات
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بیہودہ ہیں جو عورتوں کے لئے عرفی ترقی کو کمال سمجھتے ہیں حق تعالٰی نے عورتوں کی صفات بیان کی ہیں فرماتے ہیں ـ ان الذین یر مون المحصنٰت الغٰفلٰت المؤمنات ۔ اس میں غافلات کو مدح میں فرمایا ہیکہ جن چیزوں سے اسکا تعلق نہیں اسکی خبر بھی نہ ہونا چاہیئے چناچہ محصنات عفیفات کو غیر مردوں کا خطرہ بھی ذہن میں نہیں آتا اسی باب میں ان کا یہ مذہب ہوتا ہے ـ
دلا را مے کے داری دل درو بند ، وگر چشم از ہمہ عالم فروبند ،
( جو محبوب حاصل ہے اوسی سے دل لگاؤ سارے عالم کی طرف سے آنکھیں بند کر لو 12 عے )
پس اصلی زیور عورت کا عفت ہے خواہ سلیقہ میں کچھ کمی ہی ہو اسی کو فرماتے ہیں : فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔
اکثر پھوڑ عورتوں میں ایک ایسی خوبی ہوتی ہے جو بعض اوقات عاقلہ اور عالمہ میں بھی نہیں ہوتی اور وہ عفیف ہونا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.