ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ اس طریق کا مدار زیادہ تر ادب پر ہے ـ ریاضت نہ ہو مجاہدہ نہ ہو مگر کم از کم ادب تو ہو اور ادب تعظیم و تکریم دست بوسی جھک کر سلام کرنے اوپچھلے پیروں ہٹنے کا نام نہیں ہے ادب حقیقی یہ ہے کہ اپنے سے کسی کو اذیت نہ پہنچے تکلیف نہ پہنچے ـ
( ملفوظ 463)حضرت حاجی صاحب کی اپنے بارے میں ایک مثال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہر شخص مجھکو اپنا ہمرنگ سمجھتا ہے مگر میں سب رنگوں سے علیحدہ ہوں اور اس پر وہ ایک مثال فرمایا کرتے تھے کہ پانی میں کوئی رنگ نہیں ہوتا مگر جس رنگ کے شیشہ میں بھر دو اس کا ہم رنگ نظر آتا ہے اور فروع اختلافیہ اجتہادیہ کے باب میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی اپنی تحقیق ہے دنیا مقصود نہ ہو لڑو جھگڑو نہیں نیت اچھی ہو اخلاص ہو کیسا حکیمانہ فیصلہ ہے ـ
( ملفوظ 462)دوسروں کی فکر وہ کرے جو اپنے سے فارغ ہو
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس کا مقصود حضرت حق ہوں اس کو فضول خرافات اور قصوں جھگڑوں کی کہاں فرصت یہ تو ان ہی کا کام ہے جو آخرت سے بے فکر ہیں دوسروں کی فکر تو وہ کرے جو اپنے سے فارغ ہو ـ
( ملفوظ 461) سلاطین کے اہل اللہ سے مشورہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے سلاطین حضرات اہل اللہ سے مشورہ لیتے تھے کیونکہ ان حضرات کے قلوب نوارنی ہوئے ہیں اس لئے ان کو زیادہ تجربوں کی ضرورت نہیں اسی نورانیت سے سیاست اور ملکی امور میں ان کا مشورہ مفید ہوتا تھا اور اب تو بجائے مشورہ کے کلیہ طے کر لیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو کہیں ان کے خلاف کرنا چاہیئے کیونکہ یہ لوگ بیوقوف ہوتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ان سے تعلق ہوا اور انکے ہوئے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی سے تعلق پیدا ہوا اور بیکار ہوئے ـ نوذ باللہ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ معلوم بھی ہے کہ بدون تعلق مع اللہ کسی چیز میں اور کسی کام میں بھی خیر و برکت ہوگی لگا لو ایڑھی چوٹی تک کا زور تجربہ کر کے دیکھ لیا اور دیکھ لو کہ اس کے ترک سے تمام راستے فلاح اور بہبود کے چہار طرف سے بند نظر آتے ہیں خیر کا نام و نشان نہیں ایسوں ہی کی بدولت نحوست مسلمانوں کے گلوگیر ہوررہی ہے ـ
( ملفوظ 460)حضرت کا طریق اصلاح اور تجدید تصوف
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مجھکو تو تمہاری ان نا لائق حرکتوں سے اذیت ہوتی ہے جسکو میں تو یہ سمجھ کر برداشت کر سکتا ہوں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اصلاح کے لئے اذیتیں سہتے تھے ہم تو کیا چیز ہیں ہماری ہستی اور وجود ہی کیا ہے سو میں تو اپنے دل کو اس طرح سمجھا سکتا ہوں لیکن اس میں آپ لوگوں کا تو ضرر ہے اسکے متعلق آپ نے کیا تسلی سوچی ہے اگر آپ ایذا نہ دیتے اور یہاں بیٹھتے تو مفید مفید باتیں سنتے ان سے نفع ہوتا جو اصل مقصود ہے مجانست و مصاحبت سے رہا برکت کا خیال اور مجالست سے اسکا قصد سو اگر خواجہ معین الدین قطب الدین بختیار کاکی بابا فرید گنج شکر یہ سب بھی ہو جائیں تو اتنی برکت نہ ہوگی ـ جتنی قرآن شریف سے برکت ہوگی اور میں بیچارہ تو کس شمار میں ہوں اس لئے کہ آدمی تو گوشت اور پوست اور قاذورات کا مجموعہ ہے قرآن شریف تو نور ہی نور ہے بلکہ نور علی نور ہے سو ایک قرآن مجید آتھ آنہ بارہ آنہ میں خرید لو برکت حاصل ہو جاوئے گی سو برکت اور چیز ہے اصلاح اور چیز ہے لوگوں کو اسکا اہتمام نہیں اور مجھ کو اسکا اہتمام ہے یہ حاصل ہے میرے اور عام لوگوں کے اختلاف کا مگر اس تجربہ کے بعد اب میں بھی اس طرز کو غالبا چھوڑ دوں کیونکہ جب کوئی نفع نہیں تو کیوں خود اذیتیں اٹھاؤں اور کیوں دوسروں کو تکلیف پہنچاؤں اور لوگوں کے عدم اہتمام کیوجہ یہ ہے کہ اسکی اہمیت انکی نظر میں نہیں چناچہ لوگ عالم بننا چاہتے ہیں بزرگ بننا چاہتے ہیں مگر انسان بننا کوئی نہیں چاہتا مٹنا اور فنا ہونا کوئی نہیں چاہتا ارے بندہ خدا کیوں اس طریق کو بھی بدنام کرتے ہو مدتوں کے بعد طریق زندہ ہوا ہے کیا پھر یہ چاہتے ہو کہ یہ مٹ جائے اور گم ہو جائے اور عوام کی شکایت ہی کیا اہل علم اس بلا میں مبتلا ہیں کہ اصلاح کی فکر نہیں جنکی بدولت علم کی جگہ جہل ہو گیا بزرگی کی جگہ فسق ہو گیا اور مدارس میں جا کر دیکھ لو کہ طالب علم اور اساتذہ کا کیا رنگ ہے نہ حدود ہیں نہ انسانیت اور آدمیت ہے کہتے ہیں کہ مولوی ہو کر سب درست ہو جائینگے ارے نا دانو ! اور بگڑ جائیں گے اسوقت تو دوسروں کے ماتحت ہیں جب ابھی ٹھیک نہ ہوئے تو آئندہ مختار ہو کر کیا امید ہے اس وقت تو کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکے گا کہ مولانا آپ سے یہ کوتاہی ہوئی یا آپ نے مسئلہ کا خلاف کیا درست ہونے کا تو یہ ہی وقت ہے مگر ان باتوں کی طرف مطلق لوگوں کو خیال نہیں اور طلباء بیچارے کس شمار میں ہیں اکثر انکے بڑونکی یہی حالت ہے ایک شخص لکھے پڑھے ممتاز لوگوں میں سے یہاں پر معافی چاہئے کے لئے آئے میرے متعلق انہوں نے ایک تحریر میں تہذیب کے خلاف الفاظ قلمبند فرمائے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ معافی سے مقصود کیا ہے آیا عدم مواخزہ آخرت یا کچھ اور کہا کہ جی ہاں میں نے کہا اس درجے میں معاف ہے آپ سے نہ دنیا میں انتقام لیا جائے گا نہ آخرت میں بالکل بے فکر رہیئے عفو با معنی عدم الانتقام حاصل ہو گیا رہا رنج وہ اس معافی سے زائل نہیں ہوا مجھ کو آپ سے رنج تھا اور ہے اور رہے گا مجھ کو انقباض تھا اور ہے اور رہے گا مجھکو شکایت تھی اور ہے اور رہے گی اس پر کہا کہ اسکا کوئی حرج نہیں دیکھئے یہ محبت ہے نہ معلوم پھر دعوی ہی کیوں کرتے ہیں محبت کا اور کسی بنا پر معافی چاہئے آئے تھے یہ حالت تو انکی ہے جو اصلاح شدہ اور سنورے ہوئے کہلاتے ہیں معلوم نہیں ان کے بگڑے ہوئے کیا کچھ ہونگے اس تھوڑے سے عرصہ میں کایا پلٹ ہوگی افسوس ہوتا ہے اب اپنے بزرگوں کا رنگ ہی نظر نہیں آتا اللہ تعالی رحم فرمائیں ـ
( ملفوظ 459) کامیابی تعلیم شیخ پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یوں تو مطلق تعلق بھی اہل اللہ کے ساتھ مفید ہے مگر اصل چیز فاتدہ کی انکی تعلیم کا اتباع ہے عادت اللہ بھی ہے کہ صحیح تعلیم ہی پر عمل کرنے سے کامیابی ہوتی ہے یہ دوسری بات ہے کہ حق تعالٰی کسی کے عقیدہ پر بدون مجاہدہ ثمرہ مرتب فرمادیں اس میں کس کا کیا دخل مگر لوگ خود ثمرہ ہی کے طالب نہیں اس لئے اسکے طرق سے گھبراتے ہیں اور وہ ثمرہ حسب عادت مجھ میں اور عام طالبین میں ـ اب یہ دیکھ کر میں ہی اپنا طرز بدلدونگا اور احتساب کی صورت ہی چھوڑ دونگا اگر کسی کو وہ ثمرہ ہی مقصود نہ ہو تو میں فضول کیوں اتنی کنج و کاؤ کروں میرے اس طرز کا دارومدار اس ثمرہ کے قصد پر ہے اگر اس ثمرہ سے قطع نظر کر لی جاوے پھر کچھ بھی نہیں الحمد اللہ فطری طور پر میرا مزاج سخت نہیں میں جب چاہونگا اس طرز احتساب کو چھوڑ دونگا میں تو اپنے اس طرز کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ میری بداخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے یعنی شفقت سے چاہتا ہوں کہ طالب کو وہ ثمر حاصل ہو یہ شفقت ظاہر ہے کہ خوش خلقی ہے جب وہ اسکی بیقدری کرتا ہے اسوقت نا گواری ہوتی ہے اس نا گواری کا اظہار بد خلقی ہے ، تو بد خلقی کا منشا خوش خلقی ہوئی اخیر بات یہ ہے کہ جسکو یہ طرز پسند نہ ہو وہ آئے کیوں میں نے کس کو دعوت نہیں دی کوئی اشتہار نہیں دیا اس پر بھی اگر آتے ہیں تو جو ہمارا مسلک اور طرز ہے اسکا اتباع کرو یہاں آنیوالوں کو اسکا استحضار کر کے آنا چاہیئے ـ
یا مکن با پیلبا نان دوستی ، یا بنا کن خانہ برانداز پیل ،
یا مکش بر چہرہ نیل عاشقی ، یا فرد شو جامئہ تقوی نہ نیل
( یا تو ہاتھی والے سے دوستی مت کرو یا گھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آ سکے یا تو عاشقی کا رنگ اپنے اندر مت پیدا کرو یا پھر تقویٰ ( ظاہری ) کو خیرباد کہو 12 ـ )
یہاں تو جیسے معاصی پر روک ٹوک ہوتی ہے ویسے ہی بد تہذیبی پر بھی ہوتی ہے اس حالت میں ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو ( جسکا دل چاہے آوے اور جسکا دل چاہے جاوے )
13 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ
( ملفوظ 458)یہاں دلجوئی نہیں دلشوئی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں آنیوالوں کی دلشوئی ( قلب کود ہونا ) کرتا ہوں اور دوسرے مشائخ دلجوئی کرتے ہیں جسکو دلشوئی مقصود ہو وہ میرے پاس آئے ورنہ اور کہیں جائے بہت پیر ہیں اور کسی کا یہ وہم کہ دوسری جگہ نفع نہ ہوگا محض باطل ہے یہ تو حضرات انبیاء علیہم السلام ہی شان ہے ان سے بھاگ کر کہاں جاوے البتہ اگر خدانخواستہ کوئی اور جگہ نہ ہوتی تو میں اپنا طرز بدل دیتا اب مجھ سے بہتر کام کرنے والے موجود ہیں وہاں جا سکتے ہیں ـ
( ملفوظ 457) نفع کا مدار شیخ کی بشاشت پر ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طالب کو اسکا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ شیخ کو اس کے کسی قول یا فعل سے گرانی نہ ہو ورنہ محروم رہیگا کیونکہ اس طریق میں نفع کا مدار زیادہ تر مناسبت اور بشاشت پر ہے ـ
( ملفوظ 456) بیٹے کے سامنے باپ کی عزت کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا معمول ہے کہ اگر باپ بیٹے دونوں ساتھ ملنے آئیں تو باپ کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہیں کرتا جس سے بیٹے کی نظر میں اسکی سبکی ہو میں ایسی باتوں کا بہت خیال رکھتا ہوں ـ
( ملفوظ 455)گنہگاروں پر رحم چاہیئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ الحمد اللہ مجھ کو گنہگاروں پر بجائے تحقیر کے رحم آتا ہے جیسے بیمار پر رحم آتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.