ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ حالت جوش میں ترک اسباب کی طرف بہت جلد راغب ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ ایک کیفیت ہوتی ہے جس کے زوال کے بعد اندیشہ پریشانی کا ہے اسی واسطے بزرگوں نے منع کیا ہے اس میں جلدی نہ کرنی چاہیئے کیا معلوم کہ وہ حالت راسخہ ہے یا نہیں الہ آباد میں ایک شخص تھے وہ اپنی ملک سے کتابیں نکالنا چاہتے تھے ان حضرت کو میں نے منع کیا اس وقت ان پر ایک حالت تھی جو چند روز میں فرد ہوگئی اس وقت وہ میری رائے کے ممنون ہوئے ـ ایسی حالت کا کیا اعتبار خود مجھ پر ایک حالت آئی جس میں موت کو ترجیح دیتا تھا زندگی پر جسکا سبب ایک اور بزرگ کی تعلیم پر عمل تھا میں نے حضرت کو لکھا حضرت کا جواب آیا کہ جب تک یہ خادم تمہارا زندہ ہے کیوں کسی طرف توجہ کرتے ہو اطمنان سے کام میں لگے رہو ـ
( ملفوظ 453) برکت کی حقیقت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ برکت کے معنی یہ نہیں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تدابیر کی بھی ضرورت نہیں رہتی مثلا کسی وظیفہ سے بلا نکاح اولاد ہو جاوے برکت کی حقیقت یہ ہے کہ تدبیر میں زیادہ اثر ہو جاتا ہے مثلا اگر کوئی شخص نکاح کرے اولاد کے واسطے تو نکاح کے بعد اگر وظیفہ پڑھے تو اس سے نکاح میں زیادہ اثر ہو جاویگا ـ
( ملفوظ 452)غیر مقلدین اور بد گمانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اجتہادیہ میں بزرگان سلف سے بھی بعض فرد گزاشتیں ہو سکتی ہیں لیکن انکا مسلک اور قصد اتباع سنت تھا جہلا معترضین خواہ مخواہ انکو مہتم کرتے ہیں اور یہ مرض بدگمانی کا زیادہ تر گستاخ غیر مقلدین میں ہے انکا ہر وقت یہ ہی مشغلہ ہے ـ
12 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 451)تقوی سے علوم میں ترقی
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب یرزقہ میں علوم بھی داخل ہیں تقویٰ سے ان میں بھی ترقی ہوتی ہے ـ
( ملفوظ 450)نور نہیں بلکہ نار ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ باطن میں جو نور مدرک ہو مگر غیر مشروع کی طرف لیجائے وہ نور نہیں نار ہے اور نار عشق بھی نہ کہلا ئیگی بلکہ نار جہنم ہے اس ہی لئے ضرورت ہے کہ جو شیخ محدث بھی ہو فقیہ بھی ہو صوفی بھی ہو اسکی صحبت اور اتباع اختیار کرنا چاہئے ورنہ غلطی کا سخت اندیشہ ہے یہ بڑا ہی نازک راستہ ہے قدم قدم پر خطرات ہیں ـ
( ملفوظ 449)سماع کے بارے میں مذاہب
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ محدثین کا تو مذہب ہے کہ وہ بلا مزمیر کے سماع کو جائز سمجھتے ہیں اور جمہور صوفیہ کا بھی یہی مزہب ہے فقہا اکثر نفس سماع سے بھی منع کرتے ہیں اور صوفیہ میں بہت شاذ بعض آلات کی بھی اجازت دیتے ہیں مگر خاص شرائط پر سب کا اتفاق ہے ـ
( ملفوظ 448) مشائخ چشت کی سادگی اور حضرت کا طرز عمل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصلح اپنے کو اصلاح سے مستغنی و مستثنی نہ سمجھنا چاہیئے اپنی نگرانی بھی کیا کرے غلطی کا احتمال اسکے افعال میں بھی ہے گو طالب کو حق نہیں اس پر اعتراض کرنیکا طالب اعتراض نہ کرے چناچہ الحمدللہ مجھ کو اپنے طرز اصلاح پر ناز نہیں ممکن ہے کہ اس میں کچھ غلطیاں ہوتی ہوں لیکن طالب کو یہی احتمال رکھنا چاہیئے کہ میرا غصہ موقع پر ہوتا ہے ـ گو یقین نہ ہو میری اس صفائی سےکہ نہ اپنی براعت کا دعویٰ نہ طالب کو اعتراض کی اجازت یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ میں الحمد اللہ متکبر ہوں اور نہ متواضع اور یہ بے تکلفی فیض ہے مشائخ چشتیہ کا ان حضرات میں نہایت سادگی ہے حتی کہ انہوں نے کسی مصلحت سے بھی کبھی ظاہری تصنع گوارا نہیں کیا چناچہ نقشبندیہ حضرات فراماتے ہیں کہ شیخ کو تجمل ( شان ) سے رہنا چاہیئے تاکہ مستفیدین پر ہیبت رہے اور ہیت کے سبب کامل اتباع کریں اور ہمارے حضرات چشتیہ فرماتے ہیں کہ اپنے کو فنا کر دو مٹا دو اگر رعب اور ہیبت نہ ہوگا تو ہم کوئی ٹھیکیدار نہیں اگر محبت ہے تو سب کچھ ہے اتباع کامل بھی ہوگا ورنہ بیکار ـ
( ملفوظ 447) سنت کی تعریف اور اسکی وضاحت
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سنت کہتے ہیں عادت غالبہ کو تو نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو عادت غالب ہے اسکو سنت کہا جاتا ہے ورنہ ہر منقول سنت نہیں اباحتہ ہوگی پھر غلبہ خواہ حقیقیہ ہو یعنی کثرت صدور اور خواہ حکمیہ ہو یعنی اگر موانع نہ ہوتے تو کثرت صدور ہوتا جیسے تراویح کہ حضور نے اس پر دوام نہیں فرمایا مگر خود آپ کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر افتراض کا اندیشہ نہ ہوتا تو دوام فرماتے ـ
( ملفوظ 446)طبعی پریشانی مضر نہیں
ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک بزرگ کا الہام ہے حق تعالٰی فرماتے ہیں اے بندہ رزق کی وجہ سے کیوں پریشان ہے یہ تو وہ چیز ہے کہ اگر تو یہ بھی دعا کرے کہ اے اللہ مجھ کو رزق نہ دے تب بھی دیں گے نہ کہ تو مانگے اور ہم نہ دیں یہ کیسے ہو سکتا ہے واقعی اگر کوئی شخص تمام دن تسبیح لیکر یہ رٹا کرے کہ اے اللہ مجھ کو کھانے کو نہ دیجئیو تب بھی ملے گا مگر رزق کی اسی پریشانی سے کسی پر ضعف ایمان کا حکم نہ لگا سکتے امور طبعیہ میں انسان معذور رہے اور ان طبعیہ کے مناشی بھی اکثر واقعات غیر اختیاریہ ہوتے ہیں بعض واعظین بڑی زیادتی کرتے ہیں سطحی نظر سے مسلمانوں پر غلط فتوی لگا دیتے ہیں چناچہ وعظوں میں اکثر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خدا پر اتنا بھی بھروسہ نہیں جس قدر ایک دعوت کر دینے والے پر ہوتا ہے کہ کوئی دعوت کر دے تو کھانا نہیں پکواتے پورا یقین ہوتا ہے کہ کھانا آویگا اور خدا تعالٰی کے وعدہ پر یقین نہیں مگر ان واعظ صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ جس وعدہ میں وقت اور پیسہ مبہم ہو وہاں طبعی پریشانی ہوتی ہے ـ مثلا دعوت کرنے والا ہی یہ کہدے کہ کسی جگہ سے کھانا آویگا تو ایسی دعوت پر کسی کو بھی بھروسہ نہ ہوگا پس اس طرح وعدہ الھیہ میں وقت اور سبب مبہم ہے تو اس میں پریشانی ہونا منافی توکل نہیں اعتقاد تو یقینا یہی ہے کہ خدا تعالٰی کا وعدہ سچا ہے مگر وقت اور سبب نہ معلوم ہونیکی وجہ سے طبعی پریشانی ہوتی ہے تو اس میں دو درجے ہیں اعتقادی اور ایک طبعی جس طرح ہر مسلمان کے قلب میں حق تعالٰی کی خشیت ضرور ہے مگر اس میں بھی وہی تقسیم ہے یعنی ایک خشیت اعتقادیہ ایک خشیت طبعیہ اسی طرح کوئی شخص مومن نماز پڑھتا ہے اور اس میں کسل ہوتا ہے تو یہ کسل اعتقادی نہیں کسل طبعی ہے اگر اعتقادی ہوتا تو پڑھتا ہی کیوں تو امور طبعیہ سے اپنی بد حالی کا گمان کر کے پریشان نہ ہونا چاہیئے اور ان اصول کے استحضار کے بعد بھی اگر پریشانی ہو تو یہ جہل ہے یا کید نفس ہے اسکو علم صحیح میں قید کرنا چاہیئے اور حضرت اگر یہ موانع طبعیہ مانع نہ ہوں تو پھر عبادت میں اجر ہی کس بات کا ہونا واقف ان موانع کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ موانع حکمت کے لئے پیدا ہوتے ہیں ازالہ کے واسطے پیدا نہیں کئے گئے ہاں امالہ کی ضرورت ہے مثلا انسان کے اندر طاعات سے ایک بڑا مانع شہوت ہے مگر اسکی حکمت کو مولانا فرماتے ہیں ـ
شہوت دنیا مثال گلخن است ، کہ از و حمام تقویٰ روشن است
یعنی اس شہوت سے تقوے کا حمام گرم ہوتا ہے روشن ہوتا ہے اس طرح دنیا کی شہوت اور رغبت سے داعیہ معصیت کا پیدا ہوا ادھر عقل اور دین کی قوت سے اس کی مقاومت کی بس ملکر درویشی ہوگئی ایک عورت نے دوسری عورت سے پوچھا تھا کہ فوج کسے کہتے ہیں اس نے کہا تیرا میاں میرا سب ملکر فوج ہو گئی مگر لوگوں نے درویشی کو کم فہمی کے سبب مصیبت بنا دیا تھا مقاصد یعنی اعمال کو غیر مقاصد اور غیر مقاصد یعنی کیفیات طبعیہ مثلا زوال داعیہ شہوت و غضب کو مقاصد سمجھ لیا شریعت کی حقیقت اصلیہ یعنی رسوخ اعمال اگر حاصل ہو جائے بس یہ ہی درویشی ہے اسی کی تدابیر کو طریقت کہتے ہیں ـ
( ملفوظ 445)بعض بزرگوں کے غلبہ عشق کے حالات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف پر جو اعتراضات ہیں لوگوں کے انکے معاملات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتا اس لئے اعتراض کرتے ہیں جامعیت اور کاملیت کے بعد بھی باستثنا راسخین اکثر کو جب ایک طرف مشغولی زیادہ ہو جاتی ہے دوسری طرف سے ذہول ہونے لگتا ہے تو اس جانب کے حقوق میں بعض اوقات کوتاہی ہوتی ہے اس لئے یہ حضرات معذور تھے اعتراض کرنے والوں کے کیا خبر کہ کسی پر کیا گزر رہی ہے اور کس حالت میں ہے اصل میں یہ حضرات عاشق تھے تو عشق کے غلبہ میں کوئی فرو گزاشت ہو جانا بعید نہیں چناچہ عشق کے غلبہ میں بعض بزرگوں کے جذبات کے بعض واقعات یاد آگئے جو ظاہری انتظام کے خلاف تھے ـ ہمارے حضرت حاجی صاحب نے مرض الموت میں مولوی اسماعیل صاحب مقیم مکہ سے فرمایا میں نے اوروں سے تو کہا نہیں تم سمجھدار ہو تم سے کہتا ہوں میرا یوں جی چاہتا ہے کہ میرے جنازہ کے ساتھ ذکر جہر کیا جائے انہوں نے کہا کہ حضرت فقہا نے مکروہ کہا ہے حضرت نے فرمایا بہت اچھا جیسے مرضی ہو جب حضرت کا جنازہ چلا ایک عرب کو خود بخود جوش آیا اور حاضرین سے کہا اذکراللہ اور بلند آواز سے ذکر شروع کر دیا پھر کیا تھا تمام مجمع ذکر میں مشغول ہو گیا تب مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت یہ ہی چاہتے تھے میں نے حضرت کو تو منع کر دیا تھا اب اسکو کون منع کرے ـ ایک بزرگ نے وصیت کی تھی ـ کہ ہمارے جنازہ کیساتھ کوئی خوش آواز پڑھتا ہو چلے ـ
مفنسا نیم آمد یم بکوئے تو ، ثیا اللہ از جمال روئے تو دست بکشا جانب زنبیل ما ، آفرین بر دست و بر بازوئے تو
حضرت سلطان جی کے جنازہ کے ساتھ ان کے ایک مرید نے ولولہ میں یہ اشعار پڑھنے کئے ـ
سرو سیمینا بصحرامی روی ، سخت بے مہری کہ بے مامی روی
آفرین بر دست و بر بازوئے تو سخت بے مہری کہ بے مامی روی
اے تماشا گاہ عالم روئے تو تو کجا بہر تماشا می روی
( ہم مفنس ہیں تیرے در پر آئے ہیں ـ اپنے چہرہ کا تھوڑا سا جمال دکھا دیجئے ـ ہماری جھولی کی طرف ہاتھ بڑھائے آپ کے دست و بازو پر آفرین ہو ـ 12 اے محبوب تو بڑا ہی بیوفا ہے کہ بغیر ہمارے جنگل کی طرف سیر و جارہا ہے تو تو سارے عالم کے لئے تماشا گاہ ہے پھر تو سیر و تماشا کے لئے جا رہا ہے ـ 12 ـ )
حضرت سلطان جی کا کفن سے باہر ہاتھ نکل آیا سماع ایسا تو ہو کہ مرنے کے بعد بھی سماں ( لطف ) دکھا وئے ـ
11 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ ،

You must be logged in to post a comment.