ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دنیا کی ترقی بھی انجام میں تنزل ہی ہے اسی طرح دنیا کی راحت میں بھی کلفت ہی ہے خواہ اسکی خواہ دوسروں کی ایک نادار مگر خواندہ شخص ملازمت پر گئے اتفاق سے پانچسو روپیہ کے ملازم ہو گئے اپنے گھر اطلاع خط بھیجا گھر والوں نے انکے گھر پر بچوں کی تعلیم پر میانجی تھے ان کو پڑھنے کو دیا میانجی پڑھ کر رونے لگے بیوی نے کہا خیر تو ہے کیا لکھا ہے کہنے لگے تم روؤ تو بتلاؤں وہ بھی روئی اور یہ دیکھ کر بچے رونے لگے محلہ کے لوگ جمع ہو گئے پوچھا کہ کیا کہنے لگے تم بھی روؤ تو بتلاؤں واقعہ معلوم کرنے کے لئے وہ سب بھی روئے تب آپ نے کہا کہ وہ پانچ سو کے نوکر ہوگئے ہیں لوگوں نے کہا کمبخت اس میں رونے کی کیا بات کہنے لگے رونے کی بات تو ہے ہی سنو جب اتنی بڑی تنخواہ پانے لگے تو اپنے بچونکو اعلی تعلیم دلائیں گے تو سب سے اول مجھ کو نکالیں گے یہ تو میرے رونے کی بات ہے پھر بیوی بوڑھی ہے وہ نئی شادی کرینگے اس بیوی کو نکال دینگے اسکے رونے کی یہ بات ہے پھر امیرانہ سواری بھی رکھیں گے تو اصطبل وغیرہ کی ضرورت ہو گی گھر کافی نہیں محلہ والونکے گھر خرید کر گھوڑوں کے اصطبل بنادینگے محلہ خالی ہوگا محلہ والوں کے رونے کی یہ بات ہوگی خوب صحیح حساب لگایا کہ جسکی ترقی ہوتی ہے اتنوں کا تنزل ہوتا ہے ـ
( ملفوظ 443) آجکل کے پیر جیوں کی حالت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عجیب جہالت کا زمانہ ہے ایک مرتبہ پیر جی پنے کی شہرت ہوجائے پھر تو رجسٹری ہو جاتی ہے چاہے زنا کرے جھوٹ بولے دھوکے دے مگر پھر بھی پیر جی ہی رہتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم کوئی ڈوکڑے ( چھوٹے حوض ) تھوڑا ہی ہیں کہ ناپاک ہوجائیں ہم تو سمندر ہیں جس میں اگر ناپاکی کی بھی آتی ہے وہ بھی پاک ہو جاتی ہے جیسے سمندر ہیں جس میں اگر ناپاکی بھی آتی ہے وہ بھی پاک ہو جاتی ہے جیسے سمندر میں گنگا جمنا آ کر بھی سمندر ہی ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے اندر معصیت آ کر بھی نیلی ہو جاتی ہے یہ مذہب ہے ان جاہل بد دین لوگوں کا ـ
( ملفوظ 442) گنوار + زہین + بہودہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ جو گنوار کہلاتے ہیں ان میں بعضے بڑے ذہین ہوتے ہیں گو اس ذہانت کو بہودگی میں صرف کرتے ہیں ایک گاؤں میں مولوی صاحب نے ایک شخص کو نماز پڑھنے کی ترغیب دی اور یہ کہا کہ اگر تو چالیس روز نماز پڑھ لے تو تو تجھ کو یہ بھینس دونگا وہ چالیس روز تک نماز پڑھتا رہے جب دن پورے ہو گئے کہا کہ لاؤ بھنیس مولوی صاحب نے کہا کہ بھائی میرا تو یہ مطلب تھا کہ جب چالیس روز نباہ کر نماز پڑھ لیگا عادی ہو جائیگا پھر نہ چھوڑیگا اور بھینس نہ دی تو کیا کہتا ہے جاؤ پھر یاروں نے بھی بے وضو ہی ٹرخائی ہے ـ ایک ایسے ہی شخص کو کسی مولوی صاحب نے روزہ رکھوایا تھا اتفاق سے اس کی بھینس مر گئی اسکے لڑکے نے گھر میں سے کھیت میں آ کر خبر دی تو کیا حرکت کی کہ رمضان شریف کا روزہ تھا بدھنا اٹھا کر پانی پی لیا اور پانی پیکر کہتا ہے کہ لے رکھ لے روزہ نعوذباللہ ـ
( ملفوظ 441)حضرت شاہ عبدالعزیز کا ایک واقعہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ کی عجیب شان ہوتی ہے ان میں بھی ہر رنگ کے ہوتے ہیں سب مختلف الاحوال ہوتے ہیں جیسے انبیاء علیہم السلام مختلف الاحوال تھے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب سکندر آباد تشریف لے گئے طبیعت علیل ہو گئی فرمایا کہ کسی طبیب کو لاؤ وہاں پر ایک طبیب تھے بالکل جاہل انکو بلایا گیا تو بڑے ٹھاٹ سے بن ٹھن کر آئے عمامہ چوغہ زیب تن تھا انکو حضرت شاہ صاحب نے نبض دکھلائی شاہ صاحب جو جو حالت بیان کرتے اسکے مناسب دو تین اجزاء تجویز کر دیتے اور نسخہ میں لکھ دیتے وہ نسخہ ایک اچھی خاصی قرابا دین ہو گئی حضرت شاہ صاحب نے نذر بھی دی لیکر چل دیئے حضرت شاہ صاحب کے بعض شاگرد طب کے عالم تھے انہوں نے عرض کیا کہ بے اصول نسخہ ہے پھر اتنی مقدار میں اسکو نہ پیا جاوے شاہ صاحب نے فرمایا نہیں ہم پئیں گے آخر وہ دوائیں ایک بڑے پتیلے میں جوش دی گئیں اور شاہ صاحب نے ایک ایک پیالی کر کے دن بھر میں اسکو ختم کیا حکیم صاحب کی خوب شہرت ہوئی خوب دوکان چلی دیکھئے حضرت شاہ صاحب نے جاہل کی اتنی رعایت فرمائی اتفاقی شہرت پر ایک جولاہہ کی حکایت یاد آئی ایک مہاجن کی لڑکی پر مہاجن ( یعنی زبردست جن ) آ گیا کسی عامل کے قابو میں نہ نہ آیا وہاں ایک بیچارے جولاہے میانجی تھے کسی نے اس مہاجن سے کہدیا کہ وہ جن اتارنا جانتے ہیں وہ بلانے آیا یہ غریب کچھ بھی نہ جانتا تھا اس لئے عذر کیا اس نے دفع الوقتی پر محمول کر کے اصرار کیا آخر اسکے اصرار پر میانجی نے سوچا کہ چلنا چاہیئے یا تو معاملہ ادہر یا ادہر یا تو اچھی ہو گئی تو خوب مال ہاتھ آویگا یا مارے گئے تو اس مفلسی سے مرنا اچھا بیچارے پر مفلسی بہت تھی اور اس مہاجن کی یہ حالت تھی کہ جو عامل جاتا اسکو اٹھا کر ٹپک دیتا غرض یہ میانجی پہنچے گھر والوں نے کہدیا کہ ہم تو ڈر کے مارے ساتھ جا نہیں سکتے اس اکیلے مکان میں وہ لڑکی موجود ہے اندر جا کر جو تدبیر کرنا ہو کرو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو کر اندر داخل ہوئے اس جن نے دیکھ کر ایک ڈانٹ دی اور پوچھا کہ کیوں آیا ہے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ حضور کی رعیت کا ایک غریب جولاہہ ہوں حضور عمل وغیرہ تو مجھے آتا نہیں ہاں بھوکا ضرور ہوں اگر آپ میرے اوپر رحم کریں اور پرورش فرمائیں تو تھوڑی دیر کے لئے الگ ہو جائیں تو مجھکو پانچ سو روپیہ مل جائے میرا کام بن جائے آپ کا کوئی حرج نہ ہوگا جی چاہے پھر آجائیے جن کو یہ سنکر رحم آ گیا اور کہا کہ تو تھوڑی دیر کو کہتا ہے میں تیری خاطر سے ساری عمر کو جاتا ہوں غرض وہ جن چلایا اور میانجی کو پانچ سو روپیہ تو فی الحال مل گیا پھر جو شہرت ہوئی تو تمام علاقہ کے پیر بن بیٹھے اور ساری عمر اسی شان میں گزری ـ
( ملفوظ 440)بزرگوں کے تبرکات سے متعلق ایک فقہی غلطی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تبیرکات کے متعلق ایک نازک غلطی عام ہے نہ پیروں کو اسکا خیال نہ سجادوں کو وہ یہ کہ جو چیزیں بزرگوں کی ہوتی ہیں انکو تبرکات رکھ لیتے ہیں حالانکہ ان میں ورثہ کا بھی حق ہوتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ شاید وقف کر دیتے ہوں فرمایا اول تو کوئی وقف نہیں کرتا دوسرے اگر کرے بھی تو بوجہ عدم اجتماع شرائط کے وہ وقف جائز بھی نہیں ہوگا پیرزادوں میں علماء بھی ہوئے ہیں مگر کسی کا ذہن اس طرف نہیں گیا اور یہ جواب تو اس پر ہے کہ کوئی وقف کرتا بھی ہو مگر یہاں تو کوئی وقف بھی نہیں کرتا یوں ہی مر جاتے ہیں ـ ہمارے حضرت حاجی صاحب کے بعض ملبوسات میرے پاس تھے جو جائز طریق سے مجھکو ملے تھے مگر دوسروں کو دیدیئے ایک تو اس لئے کہ میرے بعد انکو ذریعہ آمدنی کا نہ بنا دے دوسرے اسی محذور سے بچنے کے لئے جسکا ابھی ذکر ہوا ہے باقی حضرت نے توجہ سے جو دعائیں کی تھیں وہ تبرکات میرے پاس ہیں ـ
( ملفوظ 439) کون سے تعلقات مفید ہیں ؟
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سب تعلقات کے رہتے ہوئے پھر کوئی چاہے کہ کامیاب ہو بہت مشکل ہے اور یہاں وہ تعلقات مراد ہیں جو غیر ضروری ہیں باقی ضروری کا تو امر ہے وہ مراد نہیں جیسے آجکل جاہل صوفیوں نے کمال میں داخل کر رکھا ہے کہ بیوی بچوں تک کو چھوڑ دیتے ہیں ـ
( ملفوظ 438)مشائخ چشت کے حالات پڑھنے کا نقد فائدہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرات چشتیہ کے بزرگوں کے حالات پڑھ کر اور اپنے موجودہ بزرگوں کے حالات دیکھ کر کبر تو پاس نہیں پھٹکتا بڑا نفع ہوتا ہے ـ
( ملفوظ 437)اہل اللہ کی صحبت حاصل کرنے کا طریقہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر اتنا وقت نہ ہو کہ اہل اللہ کی صحبت میں رہ سکے تو کم از کم ان سے خط و کتابت ہی رکھے اور جب کبھی موقع مل جائے چاہے دو چار ہی روز کے لئے کیوں نہ ہو اس میں انکے پاس رہ جایا کرے اور بزرگوں کے حالات کا مطالعہ کرتا رہے غرض کوئی کام ایسا نہیں جسکی کوئی راہ نہ ہو مگر کام کرنیوالا چاہیے راہیں سب نکل آتی ہے ـ
( ملفوظ 436)ازالہ شبہات کا طریقہ عظمت و محبت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دو چیزیں ہیں اگر انسان کے اندر پیدا ہوجائیں پھر کبھی شبہات پیدا نہیں ہو سکتے ایک عظمت اور ایک محبت شبہات کا پیدا ہونا خود دلیل ہے عدم محبت اور عدم عظمت کی باقی بدون محبت و عظمت کے محض سوالوں سے یا تحقیقات سے کبھی شبہات کا ازالہ نہیں ہوا کرتا سو قطعی شبہات کا یہ طریقہ ہی نہیں اب صرف سوال ہوتا ہے کہ پھر اس محبت اور عظمت کا کیا طریقہ ہے تو میں عرض کرتا ہوں کہ وہ طریقہ اہل محبت کی صحبت ہے اور بعد تجربہ کے اس میں کوئی شبہ نکال ہی نہیں سکتا ـ
( ملفوظ 435) انسان کا کام صرف طلب ہے ـ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالی کی بڑی رحمت ہے انسان کا کام صرف یہ ہے کہ لگا رہے جو کچھ ہو سکے کرتا رہے وہ طلب کو دیکھتے ہیں اگر ادھر سے طلب ہے تو ادھر علم بھی ہے قدرت بھی ہے رحمت بھی اس لئے سب کچھ عطا ہو رہیگا ـ

You must be logged in to post a comment.