( ملفوظ 434)شیخ کا پرانی تدبیر بدلنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طبیب کا نسخہ بدلنا اور وجہ سے ہوتا ہے ایک تو اس وجہ سے کہ اس نسخہ میں کوئی کوتاہی ہوگئی تھی اور وہ پہلی رائے ناقص تھی دوسری وجہ یہ کہ مریض کی حالت بدل گئی ان دونوں میں فرق ہے مگر اس کو بھی طبیب ہی سمجھ سکتا ہے مریض نہیں سمجھ سکتا اس کے لئے تو اسی ہی میں خیر ہے کہ اپنے کو اس کے سپرد کر کے جو وہ کہے اس پر کاربند رہے ـ اسی طرح اگر شیخ کسی تدبیر کو بدلے تو طالب کو شبہ کرنیکا حق نہیں ـ

( ملفوظ 433)معصیت سے توبہ

ایک صاحب کےسوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کا مقولہ میں نے خود دیکھا ہے فرماتے ہیں کہ جس مصیبت سے توبہ کر لی ہو اور وہ بھی پھر یاد آئے تو یہ کہو کہ یاد آکر لذت آتی ہے یا نفرت اگر لذت آتی ہے تو یہ اسکی علامت ہے کہ توبہ قبول نہیں ہوئی اور اگر نفرت معلوم ہو تو اس کی علامت ہے کہ توبہ قبول ہو چکی ( مگر نظر ثانی کے وقت اچھی طرح یاد کہ یہ مقولہ حضرت سلطان جی کا ہے یا کسی اور کا )

( ملفوظ 432)یہاں بزرگی نہیں ہوتی انسانیت سکھائی جاتی ہے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ بے تکلفی تو مطلوب ہے مگر بدتمیزی اور بدتہذیبی بری چیز ہے بے تکلفی سے تو محبت بڑھتی ہے اور بدتمیزی اور بدتہذیبی سے کدورت اور انقباض ہوتا ہے میں جانتا ہوں کہ جان کر کوئی اذیت نہیں پہنچاتا مگر قلت مبالات بے فکری اذیت کا سبب ہو جاتا ہے اسی کی شکایت ہے اور ان رسوم تکلیف کے بانی امراء ہیں انہوں نے ایسے ایسے برے طریقے ایجاد کئے ہیں جنکا منشاء خالص کبر ہے مثلا نوکر سامنے نہیں بیٹھ سکتا جس درجہ میں خود ہوں اس میں نہیں رہ سکتا جس وقت گھنٹی ہو اس وقت آو اچھی خاصی فرعونیت ہے غرض اعتدال نہیں اگر ادب ہے تو تکلیف کے درجہ تک اور بے تکلفی ہے تو بدتمیزی کی حد تک آدمی کو چاہئے کہ آدمیت سیکھے بزرگ بننا تو آسان ہے مگر انسان بننا بڑا مشکل ہے میرے یہاں آدمیت کی تعلیم ہوتی ہے اگر کسی کو یہ پسند ہو یہاں پر آئے ورنہ جہاں بزرگی تقسیم ہوتی ہے وہاں جائے بلانے کون جاتا ہے اور جب خود آتے ہو تو جو یہاں کے اصول اور تعلیم ہے اس پر کاربند ہونا پڑیگا ـ

( ملفوظ 431)خوش اخلاقی اور اصول کی سختی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص سرکاری سکول میں مدرس تھے ـ ان کو علم تو تھا نہیں کتابیں مختلف مذاہب کے دیکھنے کا شوق تھا ـ شیعوں کی قادیانیوں کی ، عیسائیوں کی انہوں نے مجھ کو لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انک لعلٰی خلق عظیم ارشاد ہے مگر آپ نے تلوار چلائی ـ کیا یہ اخلاق کے خلاف نہیں ـ میں نے لکھا کہ اسلام کی حفاظت کے واسطے تلوار چلائی گئی تاکہ کفار کا غلبہ اسلام پر نہ ہو ـ ان کے غلبہ سے اسلام کو بچانے کے لئے تلوار چلی تو فساد اخلاق کے انسداد کے لئے تلوار چلانا عین خوش اخلاقی ہے ـ ایک شبہ اخلاق کے متعلق اس کے مدمقابل جانب بھی ہو سکتا ہے یعنی اوپر سختی کو خلاف اخلاق سمجھا گیا اور آئندہ شبہ کا حاصل ایک خاص نرمی پر خلاف اخلاق ہونے کا شبہ ہو سکتا ہے ـ اس کی تقریر ایک خواب کے ضمن میں نقل کرتا ہوں میں نے ایک مرتبہ ملکہ وکٹوریہ کو خواب میں دیکھا اس نے ایک شبہ پیش کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مزاح فرماتے تھے جو شان نبوت سے بعید ہے ـ حاصل یہ کہ جو اخلاق وقار و متانت شان نبوت کے لئے زیبا ہیں ـ مزاح اس وقار کے خلاف ہے ـ میں نے کہا کہ ہر مزاح وقار کے خلاف نہیں بلکہ صرف وہ جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور یہاں بڑی مصلحت تھی وہ یہ کہ حضور کو خدا داد رعب عطا فرمایا گیا تھا ـ اس ہیئبت کی وجہ سے بعضے لوگ استفادہ علوم کا نہ کر سکتے ـ اس لئے حضور قصدا مزاح فرماتے تھے تاکہ دیکھنے والوں کو انبساط ہو کر موقع استفادہ کا حاصل ہو اور جو غرض بعثت سے ہے اس کی تکمیل ہو جائے اس جواب پر وہ بے حد مطمئن ہو گئی ـ اس حسن اخلاق پر اور اپنا واقعہ یاد آیا جب میں حیدرآباد دکن گیا تھا وہاں تقریبا چودہ روز قیام رہا ـ اس میں دارالضرب بھی دیکھنے گیا ـ وہاں کا مینجر ایک انگریز دکھلانے والا تھا ـ جب سب دیکھ چکے تو وہ انگریز رخصت کرنے کے لئے تھوڑی دور ہمرہ آیا ـ اس وقت میں نے اس سے کہا کہ آپ کے اخلاق سے بڑا جی خوش ہوا ـ آپ کے اخلاق تو مسلمانوں کے سے اخلاق ہیں ـ اس پر بہت خوش ہوا کہ مذہبی شخص نے میری تعریف کی اور ایک صاحب ارکان ریاست میں سے ہمراہ تھے ـ وہ دور آ کر کہنے لگا کہ آپ نے عجیب طرز سے تعریف کی کہ اس کا دل بھی خوش کر دیا اور اس کو گھٹا بھی دیا ـ میں نے کہ میں نے واقعہ بیان کیا کہ یہ اخلاق تمہارے گھر کی چیز نہیں ـ کبھی تم کو اس پر ناز ہو بلکہ یہ مسلمانوں کے گھر کی چیز ہے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے ـ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو معلوم نہیں کہ ان کے گھر میں کیا کیا دولتیں مخزون ہیں اس نے دوسروں کے سامنے گدا گری کرتے ہیں افسوس ہوتا ہے ـ
10 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 430)کشف بلا تلبیس بھی حجت نہیں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ اکبر رحمتہ اللہ علیہ سے منصوص ہے کہ بعض کشف میں تلبیس بالکل نہیں ہوتی ـ مگر یہ تلبیس نہ ہونا مستلزم حجیت کو نہیں یعنی اگر کشف بلا تلبیس بھی ہو تب بھی حجت نہیں جیسا کہ اگر کوئی شخص 29 رمضان کو عید کا چاند دیکھ لے مگر تفرد کی وجہ سے اس کی شہادت مقبول نہ ہو تو خود اس کو بھی اس رویت پر عمل جائز نہیں ـ یعنی صبح کو روزہ رکھنا واجب ہوگا ـ دیکھئے یہاں تلبیس نہیں مگر پھر بھی اس پر عمل جائز نہیں ـ اس کی ایک تائید آیت سے ہوتی ہے قرآن پاک میں ہے لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات الی قولہ تعالی ۔ سبحانک ھذا بھتان عظیم تقریر تائید یہ ہے کہ اسمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ : لولا جاؤا باربعۃ شھداء فاذلم یا تو بالشھداء فاولٰئک عنداللہ ھم الکذبون حالانکہ شہداء کا نہ ہونا مستلزم نہیں کذب واقعی کو مثلا خود مشاہدہ کر لیا مگر نصاب شہادت پورا نہیں ـ ہوا یہاں تلبیس بالکل نہیں مگر باوجود اس کے یہ مشاہدہ حجت نہیں حتی کہ خود صاحب مشاہدہ کو بھی زبان سے اس کا تکلم کرنا جائز نہیں ـ اور دوسروں پر بھی واجب ہے کہ سنتے ہی کہہ دیں ـ ھذا بھتان عظیم

( ملفوظ 429) طالب کے لئے تجویزوں کا فنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کے لئے یہ بھی لوازم اور آداب طریق سے ہے کہ طالب کی تجویزوں کو فنا کر دیا جاوے اور اس کو مصلح ہی سمجھ سکتا ہے اور وہی مناسب تجویز کر سکتا ہے ـ طالب کی تجویزوں کو فنا کر دیا جاوے اور اس کو مصلح ہی سمجھ سکتا ہے اور وہی مناسب تجویز کر سکتا ہے ـ طالب کو اس میں چوں و چرا نہ کرنا چاہئے ـ اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے عقیدہ کی بات ہے کہ مصلح سے بھی کبھی غلطی ہو جاتی ہے ـ اس لئے کہ اس نے بھی تو قرائن وجدان ہی پر تشخیص اور تجویز کی ہے ـ چناچہ حضرت غوث پاک کے باس ایک شخص بیعت ہونے آ گیا ـ آپ نے کشف سے سمجھ کر بیعت کرنے سے انکار فرما دیا ـ ان کے ہمعصر حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی تھے ـ وہ ان کے پاس گیا ـ انہوں نے اس کی بیعت کو قبول فرما لیا ـ اس کی بیعت کو قبول فرمالیا ـ سو یہ امور وجدانی اور ذوقی ہیں ہیں ـ ان قرائن میں کبھی غلطی بھی ہوجاتی ہے اور ایسی غلطی یہ اہل فن کے کمال کے منافی نہیں ـ غرض شیخ سے بھی غلطی ہوتی ہے ـ لیکن طالب کو اس سے مزاحمت کا حق نہیں کیونکہ اول تو ایسی غلطی بہت کم ہوتی ہے ـ دوسرے اس کو جلد تنبہ ہو جاتا ہے ـ

( ملفوظ 428)بزرگی سے پہلے آدمیت مقصود ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عقلی مسئلہ ہے کہ طلب سے پہلے مطلوب کی تعیین کرے اور بزرگی سے مقدم مطلوبیت میں آدمیت ہے ـ یہاں اسی آدمیت کی تعلیم پہلے ہوتی ہے اور بزرگی کی تعلیم بعد میں ـ کسی نے لکھا ہے کہ :
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
میں نے اسی آدمیت کی ضرورت پر نظر کر کے اس کو اس طرح بدل دیا ہے ـ
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی و لیکن انسان نہ شدی
اور اس آدمیت کا حاصل یہ ہے کہ اپنے سے دوسرے کو اذیت نہ پہنچے ـ خصوص مصلح کو اس لئے کہ معلم کے قلب میں ذرا بھی کدورت آئی فورا فیض بند ہو جاتا ہے ـ اس لئے پہلے سلیقہ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کسی کامل کی صحبت کی تو بڑی یہ چیز ہوئی کہ کسی کیصحبت میں رہ کر اپنی اصلاح کرائے خواہ کتنی ہی دیر لگے اب تو حساب لگا کر آتے ہیں کہ جاویں گے مرید ہو جاویں گے ـ شیخ وظیفہ بتلادیں گے وظیفہ لے کر گھر آجاویں گے ـ بس کام ختم ہو گیا یہ سب طریق کے بے خبری ہے اسی بے خبری کو مولانا رومی فرماتے ہیں ـ
بے خبر بودانداز حال دروں استعیذ اللہ مما یفترون
جو علاج بے طریق ہوتا ہے اس کی بالکل یہ حالت ہوتی ہے ـ
گفت ہر دارو کہ ایشان کردہ اند آں عمارت نیست ویران کردہ اند
اصول کی ہر کام میں ضرورت ہے ـ ہر کام قاعدہ اور قانون کا محتاج ہے مگر لوگ قانون سے گھبراتے ہیں ـ وہ کتنا ہی سہل ہو مگر لوگ اس کو سخت سمجھتے ہیں ـ حالانکہ قانون کی سختی وہ ہے کہ وہ قانون اپنی ذات میں سختی ہو لیکن اگر قانون اپنی ذات میں نرم ہو مگر اس کی پابندی سختی سے کرائی جاوے تو وہ سخت نہیں اگر اس کو بھی سخت سمجھا جاوے تو اس کا کیا علاج ـ اس کو کیسے نرم کیا جا سکتا ہے ـ دیکھئے نماز کیسی آسان چیز ہے مگر اس کی تاکید کس قدر سختی سے کی گئی ہے تو کیا اس سے نماز سخت چیز ہوگئی ـ

( ملفوظ 427)عوام کا مساجد کے ائمہ کو تختہ مشق بنانا

ایک استفتاء آیا اس کو ملاحظہ فرمایا کہ کسی امام کے متعلق چند سوالات ہیں ـ اس کے نقائص لکھے ہیں بیچارہ اماموں کو لوگ اپنا تختہ مشق بنائے رکھتے ہیں ـ فتوی کو آڑ بنا کر لڑا کرتے ہیں مگر میں مسلمانوں کے افتراق کا سبب کیوں بنوں ـ میں اس باب میں سخت احتیاط کرتا ہوں ان مستفتیوں کی دوسروں کے عیوب پر تو نظر پڑتی ہے مگر اپنی خبر نہیں کہ ہم ہیں کیا کچھ بھرا ہوا ہے ـ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے یاد پڑتا ہے لکھا ہے کہ اے عزیز اس شخص کی کیا حالت ہے کہ اپنے جسم پو تو سانپ بچھو لیٹے ہوئے ہیں ـ ان کی خبر نہیں اور دوسرے کے جسم پر اگر مکھی بیٹھ گئی اس پر نظر ہے ـ خود کبائر میں مبتلا دوسروں کے صغائر پر مواخذہ خود صغائر میں مبتلا دوسروں کے مباحات پر موخذہ ـ

( ملفوظ 426)سوال بلاضرورت نہیں کرنا چاہئے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جس سوال کی انسان کو خود ضرورت نہ ہو کیوں فضول وقت خراب کرے ـ اپنا بھی اور دوسرے کا بھی ـ اور اگر بلاضرورت ہی شوق ہے تحقیقات کا تو مدارس میں جا کر ترتیب سے تعلیم حاصل کیجئے مگر آج کل یہ بھی ایک مرض عام ہوگیا ہے کہ لاؤ خالی بیٹھے کچھ نہ کچھ مشغلہ ہی سہی ـ سو ہر شخص کے اپنے عمل کے لئے پوچھنا چاہئے ـ

( ملفوظ 425) شیخ سے فضول سوالات

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے ـ بعض فضول سوالات لکھے ہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ تمہیں یہ نہیں معلوم کہ مصلح کے ذمہ کن چیزوں کا علاج ہے ـ اور کن کا نہیں ـ پہلے یہ طے کرو ورنہ پریشان ہوگے اور پریشان کرو گے ـ