( ملفوظ 424)مسلمانوں کی حالت کا غم اور حیوۃ المسلمین کی تصنیف

ایک صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کا کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ میں دیکھتا ہوں کہ باوجودیکہ بہت سے احباب دل سے محبت کرنے والے ہیں مگر بعض مقام پر میں خود گیا اور آپس کے قصوں جھگڑوں کے متعلق کچھ انتظام کیا کہ آپس میں اتحاد ہے لیکن کوئی اثر نہیں ہوا جب ان کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے تو آنا جانا سب بند ہو جاتا ہے ـ یہ ان کا ذکر ہے جو عاشق کہلاتے ہیں مگر خود ان سے اتنی بھی کامیابی نہیں ہوئی اب بتلاؤ کہ میں کس بوتے پر مسلمانوں کو آگ میں دھکا دے دوں جب ان کی یہ حالت ہے سوائے اس کے کہ خدا سے بہبود اور فلاح کی دعاء کی جائے ـ اسفورا اعتقاد جاتا رہے اور ساتھ چھوڑ دیں ـ غرض موجودہ حالت میں کوئی صورت بھی فلاح کی تدابیر بتلانے کے لئے میں نے حیات المسلمین ایک رسالہ لکھا ہے اس کے لکھنے میں مجھ کو بہت تعجب ہوا ـ پھر اس کے انتخاب اور سہل بنانے میں بھی مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس کی طرف بھی مسلمانوں کو التفات نہیں تجربہ سے معلوم ہوا کہ بعض فتنے وہ ہیں جو رفع ہو ہی نہیں سکتے ـ
9 ـ صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 423) آج کل کے لیڈر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جو رہبران قوم بنے ہوئے ہیں ـ ان کی یہ حالت ہے کہ کام کے لئے تو دوسرے اور نام کے لئے یہ زمانہ خلافت میں ان لوگوں نے احکام اسلام کی ذرہ برابر پروا نہیں کی جو اپنی سمجھ میں آیا کیا جومنہ میں آیا کہا ـ بہت کم لوگ ایسے تھے جو نیک نیت تھے ورنہ اکثر تو حکومت اور عہدوں کی فکر میں تھے ـ کثرت سے ایسے ہی لوگ زیادہ تھے ـ ہزاروں مسلمانوں کو بلا وجہ کٹوا دیا یہ نفسانی اغراض بھی بری بلا ہیں ـ اللہ تعالی بچائے موپلوں کی قوم کو ان لیڈروں ہی نے برباد کرایا جوشیلی اور اشتعال آمیز تقریریں کر کے ان کو بھڑ کا دیا ـ غیور قوم عرب لوگ ان کی باتوں میں آکر گورنمنٹ کا مقابلہ کر بیٹھے ـ جب ان پر مصیبت آئی پھر ان لیڈر یا رہبران قوم میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا ـ ایسے خود غرض لوگوں کی بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک قصائی کا انتقال ہو گیا تھا اس کی بیوی روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ ہائے اس کے بیل کون لے گا ـ تو ایک بولا میں لوں گا ہائے اس کی چھری کون لے گا کہا کہ میں لوں گا ہائے اس کا مال کون لے گا کہا کہ میں لوں گا ـ ہائے اس کے ذمہ اتنا قرض تھا وہ کون دے گا تو وہ کیا کہتا ہے کہ بولو بھائی کس کا نمبر ہے ـ یہ ہی حالت ان لیڈروں کی ہے کہ مال و جاہ کے قوانین کے تو خود مالک ہوئے اور مصیبت اٹھانے کو دوسرے غریب ہوئے ـ ایک نئی روشنی والے صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ اس تحریک کیوں شریک نہیں ہوتے میں نے کہا کہ یہ کام موقوف ہے ـ قوت پر اور قوت موقوف ہے بقاء اتفاق پر خواہ وحدت ارادیہ ہو یا وحدت قہریہ ہو اور یہ ہم میں مفقود اور جب تک یہ نہ ہو کام نہیں ہو سکتا ـ دوسرے یہ کہ میں ان اصول مخترعہ کا کار بند نہیں ہو سکتا ـ اصول شرعیہ کے ماتحت رہ کر کام کر سکتا ہوں اور اسی کو تم لوگ روڑے اٹکانا سمجھتے ہو حتی کہ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ یہ مسائل کا وقت نہیں ـ کام کا وقت ہے حالانکہ ہر کام کے کچھ شرائط اور اصول ہوتے ہیں ـ دیکھو نماز جیسی بڑی چیز مگر حدود قیود سے بھی خالی وہ بھی خالی نہیں ـ ان حدود کی تقسیم کے متعلق میں نے حیدر آباد دکن کے وعظ میں کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں دو شانیں تھیں ـ شان نبوت اور شان سلطنت اس کے بعد خلفاء راشدین بھی دونوں کے جامع تھے مگر اب یہ دونوں شانیں دو گروہ پر تقسیم ہوگئیں ـ شان نبوت کے مظہر علماء ہیں اور شان سلطنت کے مظہر سلاطین اسلام اب گر یہ سلاطین علماء سے استغناء کرتے ہیں تو حضور ہی کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے اور اگر علماء سلاطین کی مخالفت کرتے ہیں تو اس سے بھی حضور ہی کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے ـ اب صورت دونوں کو جمع کرنے کی یہ ہے کہ سلاطین سے تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے حدود میں کوئی حکم اس وقت نافز نہ کریں ـ جب تک علماء اہل حق سے استفتاء نہ کر لیں اور علماء یہ کہتا ہوں کہ وہ اس نفاز کے بعد اس پر کاربند ہوں اگر فلاں کو صورت نکل آئے اور ان کی ڈوبتی ہوئی کشتی ساحل پر جا لگے ـ ورنہ اللہ ہی حافظ ہے ـ غرض یہ سیاسی کام علماء کا نہیں علماء کا جو کام ہے وہ ان سے لینا چاہے اور یہ کام لیڈر کریں البتہ علماء سے حجروں میں آ کر مسائل پوچھیں اور ان کے موافق کام کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عدم قدرت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ فعل جائز نہ ہو پھر اگر احکام ک وپامال کر کے کامیابی بھی ہوگئی تو وہ مسلمانوں اور اسلام کی کامیابی تھوڑا ہی ہوگی ـ وہ کامیابی تو بد دینوں اور ملحدوں کی ہوگی ـ جن سے آئندہ بھی خطرہ ہے کہ ملکی مصالح کی بناء پر نہ معلوم اہل اسلام اور احکام اسلام کے ساتھ کیا برتاؤ کریں ـ جو اس وقت شریعت مقدسہ کے احکام کو نظر انداز کئے ان کے ساتھ ہیں اگر یہ دین سے بے خبر ہیں تو ان کا کیا اعتبار اور اگر باخبر ہیں تو علماء کے ساتھ ان کا اعتقاد اسی وقت تک ہے جب تک کہ یہ دین پر ہیں ـ اگر ذرا شبہ ہو جائے کہ یہ مذہب کے خلاف ہے فورا اعتقاد جاتا رہے اور ساتھ چھوڑ دیں ـ غرض موجودہ حالت میں کوئی صورت بھی ہے ایسی نہیں کہ عوام ان کی ساتھ رہیں ـ

( ملفوظ 422) مدارس میں ترفع کا مرض

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر اہل مدارس ترفع کا بڑا مرض ہو گیا ہے مگر یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا خصوص مدارس دینیہ تو اگر سادہ ہی وضع میں رہیں یہ ہی ان کی خوبی ہے ان کی رفتار سے گفتار سے نشت و برخاست سے ان کے لباس سے اسلامی شان کی جھلک معلوم ہورہی ہے ـ یہی خوبی کی بات ہے ـ ایک مرتبہ ضلع کے انگریز کلکٹر نے کہلا کر بھیجا کہ ہم مدرسہ کا معائنہ کریں گے ہم نے کہا کر لو بھائی یہاں تو غریب لوگ رہتے ہیں اور میں ایک ضرورت سے ایک قصبہ قریب ہے ـ وہاں چلا گیا اور یہاں کے لوگوں کو سمجھا گیا کہ جو بات پوچھے بتلا دی جائے مگر ترفع کی کوئی بات نہ کی جائے مثلا اگر وہ سوال کرے کہ یہ مدرسہ ہے تو کہنا کہ مدرسہ وغیرہ کچھ نہیں ـ ایک چھوٹا سا مکتب ہے ـ اگر سوال کرے آمدنی کس قدر ہے تو کہنا توکل پر معاملہ ہے ـ کوئی آمدنی مستقل نہیں ـ کام بھی مختصر ـ غرض اسی طرح سب باتیں سمجھا گیا تھا اور واقعہ بھی یہی ہے یہاں پر تو غریبوں کا مجمع رہتا ہے ـ امیر ہونا کون فخر کی بات ہے ـ فخر کی بات تو یہ ہے کہ طالب صاحب صلاح ہو صاحب تقوی ہو صاحب استقلال ہو مگر کلکٹر کا آنا نہیں ہوا ایک اور مرتبہ بھی یہاں قصبہ میں کلکٹر آیا تھا ـ چند مکانات کے فوٹو لئے یہاں کا یعنی خانقاہ کا بھی فوٹو لینے کا ارادہ تھا مگر اس قصبہ میں اس قدر دیر لگ گئی کہ یہاں نہیں آ سکا ـ پھر ہم کو موالاتی کہا جاتا ہے حالانکہ خود رات دن ان سے خلا ملا رکھیں مصافحہ اور گفتگو کریں اور اپنے کو ترک موالات کا حامی رکھیں ـ عجیب فلسفہ ہے ـ نراسفہ ہے ـ

( ملفوظ 421) مناسبت معلوم کرنے کا ایک طریقہ از حضرت حاجی صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق میں نفع کا مدار اعظم مناسبت پر ہے ـ میں عدم مناسبت کی وجہ سے طالب سے صاف کہہ دیتا ہوں کہ چونکہ تم میں مجھ میں مناسبت نہیں اس لئے نفع نہ ہوگا کہیں اور تعلق پیدا کر لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ اگر کسی کا نام پوچھوگے تو میں بتلادوں گا خود نہیں بتلاتا کیونکہ بے طلب جس کا نام بتلایا جائے اس کی بے قدری کا اندیشہ ہے ـ اس مناسبت پر ایک حکایت یاد آئی ـ حضرت حاجی صاحب کے سے ایک صاحب علم نے مرید ہونے کے متعلق مشورہ لیا کہ میں چشتی شیخ سے بیعت کروں یا نقشبندی سے آپ نے فرمایا کہ ایک بات بتلاؤں ایک کھیت ہے ـ اس میں جھاڑ جھنکار بہت کھڑے ہیں اور اس میں تخم ریزی کا ارادہ ہے تو تمہاری رائے میں کیا صورت زیادہ مناسب ہے آیا پہلے اس کو صاف کر لیا جائے تب تخم ریزی کی جاوے یا ویسے ہی بدوں صاف کئے تخم ریزی کر دینی چاہئے اور آئستہ آئستہ صاف کرتے رہیں عرض کیا کہ حضرت اول تخم ریزی کر دینی چاہئے تاکہ صفائی کے انتظار تک محروم تو نہ رہے ـ فرمایا کہ تو پھر نقشبندیوں میں جاؤ ـ یہ حضرت کے اعلی مبصر ہونے کی دلیل ہے ـ مثال سے مزاق کو کیسے پہچان لیا ـ
9 ـ صفرالمظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 420) ذکر میں یکسوئی نہ ہونا مضر نہیں

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے کہ ذکر میں یکسوئی نہیں ہوتی ـ میں نے لکھ دیا کچھ مضر نہیں اور مزاحا فرمایا کہ اگر کپڑا سل جائے اور ایک سوئی بھی پاس نہ رہے تو حرج کیا ہے ـ کپڑا پہن لیا جائے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میاں ی تو ساری عمر کی ادھیڑبن ہے ایسے تغیرات سے بد دل نہ ہونا چاہئے ـ اسی کو فرماتے ہیں ـ
اندریں رہ می تراش دمی خراش تادم آخر دمے فارغ مباش
( اس راہ میں نشیب فراز بہت ہیں ـ لہذا آخر دم تک ایک لمحہ کے لئے بھی بے فکری نہ چاہئے )
پہلے بزرگوں کے یہاں تو برکات پر کام چلتا تھا ـ آئین کی ضرورت نہ تھی اور اب ضرورت کی وجہ سے آئین بنا کر میں نے اس کا مستقل محکمہ بنا دیا ہے پس وہاں برکت تھی یہاں حرکت ہے ـ

( ملفوظ 419) امراض کی تشخیص صرف مصلح کر سکتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امراض کی تشخیص اور تجویز مصلح ہی کر سکتا ہے ـ طالب نہیں سمجھ سکتا ـ جیسے طبیب ہی مرض کو پہچان سکتا ہے اور علاج تجویز کر سکتا ہے ـ مریض نہیں کر سکتا مجھ کو ایک مرتبہ کم خوابی کی شکایت تھی ـ حکیم صاحب سے تدابیر پوچھا کرتا تھا مگر جب نفع نہ ہوا میں سمجھا کہ حکیم صاحب سے شرح اسباب لایا اور اس کو دیکھنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں جیسے اسباب لکھے تھے سب اپنے اندر پاتا تھا ـ اس لئے کچھ تجویز نہ کر سکا ـ تب خیال ہوا کہ کلیات کو جزئیات پر صاحب فن ہی منطبق کر سکتا ہے ـ غیر اہل فن کا یہ کام نہیں ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے جس کو فرماتے ہیں ـ
گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید لیک حیرنم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( اگر چہ مصور اس محبوب کی صورت کی تصویر تو بنادیگا ـ مگر اس کی ناز و انداز کی تصویر کس طرح کھنچے گا )
حافظ فرماتے ہیں
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند نہ ہر کہ آئینہ دار و سکندری داند
ہزار نکتہ بار یکتر زمو اینجا ست نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
( یہ بات نہیں ہے کہ جس نے بناؤ سنگار کر لیا وہ ناز وانداز محبوبانہ سے بھی واقف ہو نہ یہ کہ جس کے پاس آئینہ ہو ـ سکندر کی طرح آئینہ بنانا بھی جانتا ہو ـ دریشوں کی سی شکل بنا لینے سے حقیقی درویشی حاصل ہو جانا ضروری نہیں بلکہ اس راستہ میں بہت سی بال سے زیادہ باریک باتیں ہیں جن کے لئے نو باطن کی ضرورت ہے )

( ملفوظ 418) صاف اور سچ بات کرنا آسان ہوتا ہے

ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس مواخزہ اور کھود کرید کی وجہ سے میں اس قدر بدنام ہوں کہ ایک شخص نے کہا تھا کہ منکر نکیر کے سوالوں کا جواب تو آسان مگر اس کے سوالوں کا جواب مشکل ہے میں نے سن کر کہا کہ بالکل ٹھیک ہے وہاں سچ بولو گے ـ بات نہیں بناؤ گے ـ اس لئے ان کا جواب آسان ہے اور یہاں بات بناتے ہو وہ چلتی نہیں اس لئے جواب مشکل ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 417) نجس اپنے معدن میں نجس نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ فقہا فرماتے ہیں جو نجس چیز اپنے معدن میں ہو وہ نجس نہیں ہوتی ـ چناچہ پیشاب مثانہ میں بھرا ہوا ہوتا ہے ـ اور نماز پڑھنا جاہز ہے ـ وجہ یہ کہ وہاں ازالہ پر قادر نہ تھا ـ پس معدن میں ضرورت ہے اور خارج میں پاک کرنا ضروری ہوا ـ

( ملفوظ 416) کثرت مشاغل سے قواعد کی ضرورت پڑتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کثرت مشاغل کی وجہ سے قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ـ اور اگر کثرت سے مشاغل نہ ہوں تو پھر قواعد ضوابط کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی اور بے ضابتگی سے تنگی بھی نہیں ہوتی ـ مثلا ایک شخص عصر کے بعد ملنا چاہتا ہے اور مجھ کو کوئی کتاب دیکھنا ہے یا کوئی فتوی لکھنا ہے تو اب تنگی ہوگی یا نہیں ـ یقینی بات ہے کہ تنگی ہوگی ـ سبب اس کا وہی مشاغل اور اگر کوئی کام نہ ہوتا تو اس شخص کو لے کر بیٹھ جاتا دس پانچ منٹ میں کوئی حرج نہ تھا ـ

( ملفوظ 415)تکثیر سواد یا تکثیر بیاض

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں مزاحا فرمایا کہ تکثیر سواد تھوڑا ہی مقصود ہے یعنی تکثیر مجمع تکثیر بیاض مقصود ہے ـ یعنی قلب کا روشن ہونا ـ