( ملفوظ 414)اصول صحیحۃ پر عمل کرنا راحت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصول صحیحہ پر عمل کرنا طرفین کی راحت کا سبب ہوتا ہے ـ اس لئے میں نے نئے آنے والوں کے واسطے یہ قید لگا دی ہے کہ زمانہ قیام میں مخاطب مکاتبت کچھ نہ ہو ـ خاموش مجلس میں بیٹھے رہا کرو اور بیعت میں بھی عجلت نہ کرو اسکے بعد جو رائے قائم ہوگی وہ بصیرت سے ہوگا ـ اس میں انسان پچتاتا نہیں کیونکہ دیکھنے بھالنے اور سوچنے سمجھنے کا موقع اچھی طرح مل جاتا ہے ـ دوسرے استماع میں جو لطف ہوتا ہے وہ تکلم میں نہیں ہوتا ـ جیسے حافظ اچھا قرآن پڑھنے والا ہو تو سننے والے کو زیادہ لطف ہوتا ہے ـ پڑھنے والے کو وہ لطف نہیں ہوتا ـ

( ملفوظ 413) بلا ضرورت سفر کرنے پر عتاب

ایک نو وارد شخص نے تعویذ مانگا اور یہ ظاہر کیا کہ میں فلاں مقام سے سفر کر کے اس ہی غرض سے آیا ہوں فرمایا کہ جو کام ڈھائی آنہ میں ہو سکتا تھا ـ اس کے واسطے اتنا طویل سفر اور اس قدر صرف کرنے کی کون ضرورت تھی ـ آدمی سوچ سمجھ کر تو سفر کرے اور خرچ کرے اب اس کا علاج یہ ہے کہ وطن واپس جا کر تعویذ کے لئے لکھو میں بھیج دوں گا ـ تاکہ اس بے ڈھنگے پن کی حقیقت تو معلوم ہوا اور ہمیشہ کے لئے یاد تو رہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس وقت اگر تعویذ تو دیدیا جائے تو لوگ ایسے کوڑ مغز ہیں یوں سمجھیں گے کہ یہ تعلیم کی باتیں تو ویسی ہی تھیں ـ تعویذ تو دے ہی دیا تو میرا مقصود ہے کہ فضولیات کا انسداد ہو وہ حاصل نہ ہوگا ـ اور میں جوان کے اوقات اور قوم بچانے کے انتظام کر رہا ہوں ـ جس وقت یہ اسکو محسوس کریں گے ـ اس وقت قدر ہوگی ـ اس فضولی کی یہاں تک نوبت آ چکی ہے کہ ایک صاحب ضلع گیا سے محض تعویذ اور پانی پڑھوانے کے واسطے آئے تھے ـ میں نے کہا کہ میں یہاں تعویذ نہ دوں گا ـ وطن جا کر منگا لینا اور یہ سب بے فکری اور نعمت کی بے قدری ہے ـ فضول اور بلا ضرورت مال کو برباد کرنے کا نام سخاوت رکھا ہے ـ یہ سخاوت نہیں ـ یہ اسراف ہے ـ

( ملفوظ 412) حضرت گنگوہی کا نظم و ضبط

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں اپنے اور بزرگوں سے زیادہ انتظام تھا ـ اس انتظام کا نام معترضین نے آج کل قانون رکھا ہے ـ اور قانون حکومت سے تشبیہ دے کر طعن کرتے ہیں ـ

( ملفوظ 411)اصلاح چاہنے سے اصلاح ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ تعالی کی عادت ہے کہ اسی کی اصلاح فرماتے ہیں جو خود بھی اپنی اصلاح چاہے حق تعالی فرماتے ہیں ـ انلزمکموھا وانتم لھا کٰرھون ۔

( ملفوظ 410) شیخ کامل کی سب شقوں پر نظر ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ وہ ہے جس کی سب شقوق پر نظر ہو اگر یہ بات نہیں وہ شیخ نہیں ـ اس کی ہر جزئی پر نگاہ ہوتی ہے ـ اس لئے وہ ہر پہلو پر نظر کر کے انتظام کرتا ہے سو اس کو سختی نہیں کہیں گے ـ انتظام کہیں گے البتہ اس انتظام کی تنقید میں وہ بے شک سخت ہوتے ہیں مگر بے اصول رعایت کر کے وہ حقائق کو کیسے بدل سکتے ہیں ـ

( ملفوظ 409)عوام کے اعتقاد کے لئے کمالات کا اظہار فضول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بزرگوں کے سامنے اپنی برائی ظاہر کرنا خواہ کسی رنگ میں ہو حد درجہ کی بے ادبی ہے ـ مثلا علم ہی میں اس کا اظہار ہو کہ ہم بھی پڑھے ہوئے ہیں اور غور کیا جائے تو چیزیں کچھ ناز کی بھی نہیں ـ کیونکہ ان میں کوئی ذاتی کمال نہیں ـ دیکھئے حضور کے امی ہونے کی تعریف فرمائی گئی ہے ـ اصطلاحی عالم ہونے پر فخر نہیں فرمایا گیا اور عوام کے اعتقاد کی غرض سے کمالات کا اظہار یہ تو بہت ہی بڑا مرض ہے اس سے تو اجتناب سخت ضروری ہے ـ عوام کا اعتقاد ہے ہی کیا چیز ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس اعتقاد کی ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے ہے تو فحش مگر ہے بالکل چسپاں فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے عقیدہ کی بالکل ایسی حالت ہے کہ جیسے گدہے کو عضو مخصوص بڑھے تو بڑھتا ہی چلا جائے اور جب غائب ہو تو بالکل پتہ ہی نہیں ـ واقعی مثال ہے ـ

( ملفوظ 408)ندامت سے دل صاف ہو جاتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں کا معیار صرف یہ ہے کہ مجھ کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اپنی غلطی پر دل سے نادم ہے اور یہ بات اس شخص کے اعلان کر دینے سے بخوبی معلوم ہو جاتی ہے ـ

( ملفوظ 407) حضرت شیخ الہند کا حضرت تھانوی کے بارے میں ایک قول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے اسی زمانہ تحریک میں میری شکایت حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ سے کی کہ وہ اس تحریک میں شریک نہیں ـ حضرت مولانا نے فرمایا کہ ہم کو اس پر بھی فخر ہے کہ ایسی ہمت کا بھی ہمیں میں سے ہے کہ جس نے تمام ہندوستان بلکہ دنیا کی پرواہ نہ کی جو اس کی رائے میں حق ہے ـ اس پر استقلال سے قائم ہے ـ کسی دباؤ یا اثر کو ذرہ برابر حق کے مقابلہ میں قبول نہ کیا ـ پھر تحریک فرد ہونے کے بعد کثرت سے لوگوں کے خطوط طلب معافی میں آئے ـ میں نے لکھ دیا کہ معافی کے متعلق تو عذر نہیں بقول غالب
سفینہ جبکہ کنارہ پہ آ لگا غالب خدا سے کیا ستم و جور نا خدا کہئے باقی دل ملنے کے متعلق وہ بات ہے جس کو شخ علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ـ
بسا لے زجورت جگر خوں کنم بیک ساعت از دل بروں چو کنم
( سال بھر تک تیرے مظالم سہہ کر جگر خون کروں تو ایک گھڑی میں ساری کلفت کو دل سے کس طرح نکال دوں ـ )

( مکفوظ 406) بعض معصیت وقایہ کفر ہوتی ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو نوکریاں نا جائز ہیں ـ ان کے کرنے میں مفسدہ ضرور ہے مگر جس کو حلال نوکری نہ ملے اسکے لئے نہ کرنے میں اس سے زیادہ اندیشہ ہے ـ اس لئے کہ افلاس سے بعض اوقات کفر تک نوبت آجاتی ہے ـ تو یہ معصیت کفر کی وقایہ ہو جاتی ہے ـ اس وقایہ کی ایک جزئی یاد آگئی کان پور کے علاقہ میں ایک گاؤں ہے گنجیر وہاں پر مسلمان رئیس تھا ـ اس کا نام تھا ادھارسنگہ میں نے سنا تھا ـ کہ اس گاؤں کے لوگ آریہ ہونے والے ہیں میں ایک مجمع کے ساتھ ان کی تبلیغ کے لئے وہاں گیا تھا ـ ادھار سنگہ سے بھی اس کا ذکر آیا تو اس نے جواب میں کہا کہ ہم آریہ کس طرح ہو سکتے ہیں ـ ہمارے یہاں تو تعزیہ بنتا ہے میں نے کہا کہ تعزیہ بنانا مت چھوڑنا ـ بعض لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا میں نے کہا کہ تم نے غور نہیں کیا ـ یہ شخص جب تک تعزیہ بنائے گا ـ کافر نہ ہوگا ـ تعزیہ بے شک معصیت اور بدعت ہے مگر اس کے لئے تو یہ معصیت اور بدعت وقایہ کفر ہے ـ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک زمانہ میں اجمیر تشریف رکھتے تھے ـ اتفاق سے عشرہ محرم میں ایک مقام پر تعزیہ داروں میں اور ہندوؤں میں جھگڑا ہے ـ کوئی درخت تھا وہاں کے سنی عمائد نے علماء سے استفتاء کیا کہ ہندوؤں کا اور تعزیہ داروں کا جھگڑا ہے ـ اور ہم کو کیا کرنا چاہئے ـ علماء نے جواب دیا کہ کفر اور بدعت کی لڑائی ہے ـ تم کو الگ رہنا چاہئے ـ پھر وہ لوگ مولانا کے پاس دریافت کرنے آئے ـ مولانا محمد عقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بدعت اور کفر کی لڑائی نہیں ہے ـ بلکہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے ـ کفار بدعت سمجھ کر تھوڑا ہی مقابلہ کر رہے ہیں وہ تو اسلامی شعار سمجھ کر مقابلہ کر رہے ہیں ـ جاؤ انکا مقابلہ کرو غرضیکہ تمام مسلمان متحد ہو کر لڑے فتح ہوئی تو ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے فہم اور عقل کی ضرورت ہے ـ صرف ایک ہی پہلو پر نظر کرنا چائے ـ شعار اسلامی سمجھنے پر ایک واقعہ یاد آیا ـ کیرانہ میں زمانہ تحریک خلافت میں میری ایک مولوی صاحب سے گفتگو ہوئی ـ میں نے کہا کہ اور بات تو بعد میں ہوگی پہلے ترکوں کی سلطنت کو اسلامی سلطنت تو ثابت کر دیجئے تب دوسروں کو نصرت کی ترغیب دیجئے گا اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتلایئے کہ مجموعہ کفر اور اسلام کا کیا ہوگا کہا کہ کفر میں نے کہا کہ اب یہ بتلاؤ کہ ترکوں کی حکومت جو اس وقت ہے وہ شخصی ہے یا جمہوری کہا کہ جمہوری ـ میں نے کہا کہ اس میں جو پارلیمنٹ ہے وہ کفار اور مسلمانوں سے مرکب ہے ـ یا خلاص مسلمانوں کی جماعت ہے کہا کہ مسلم اور کافر میں مشترک ہے ـ میں نے کہا کہ مجموعی کیا ہوا ـ پھر نصرت کیسی غیر اسلامی سلطنت کی نصرت کراتے ہو ـ حیرت زدہ رہ گئے ـ کہنے لگے کہ یہ تو کچھاور ہی نکلا ـ سارا بن بنایا قصر ہی منہدم ہو گیا ـ میں نے کہا کہ اگر آپ جواب نہ دے سیکں تو اپنے علماء اور لیڈروں سے پوچھ کر جواب دو ـ خاموش تھے بیچارے میں نے کہا کہ جاؤ جن کو مخالف سمجھتے ہو اور خشک ملا کہتے ہو ـ اس کا جواب بھی انہی کے پاس ہے ـ ہم کہتے ہیں کہ پھر بھی انکی نصرت واجب ہے اس لئے کہ کفار تو اس کی اسلامی سلطنت ہی سمجھ کر مقابلہ کر رہے ہیں اسلیئے اس وقت ترکوں کی نصرت اسلام اور مسلمانوں کی نصرت ہے ـ اس پر بے حد خوش ہوئے اور دعائیں دیں ـ اور مجھ کو خوشی میں کچھ نقد نزرانہ بھی دیا ـ

( ملفوظ 405) علمی کاموں کے لئے خلوت درکار ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں مدت سے چاہتا ہوں کہ اور سب کام بند کردوں اور صرف خدمت تربیت ہی کا کام رکھوں مگر میں اس وقت تک اس میں کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جو ضروری کام ہو رہے ہیں ان کو کیسے بند کروں اور یہ غیر ممکن ہے کہ یہ سب کام بھی کرتا رہوں اور طالبین تربیت سے مجلس بھی گرم رہے ـ مجمع میں مجھ سے کام نہیں ہوتا ـ تنہائی اور یکسوئی میں کام کر سکتا ہوں ـ حتی کہ کام کرنے کے وقت کسی کا آ بیٹھنا میری گرانی کا سبب ہوتا ہے ـ ایک وکیل صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ میں تو مجمع میں بیٹھ کر کام کر لیتا ہوں میں کہا کہ وہ کام ہی کیا ہے یہاں تو دماغی کام ہے ـ وہاں نہ تربیت مضامین ہے نہ تدقیق ، نہ تہذیب ، نہ رطب دیا بس کی تلخیص یہاں تدقیق کی حاجت تربیت ک حاجت تہذیب کی حاجت رطب دیا بس کا فیصلہ غیضیکہ دماغی کام ہے جو مجمع میں بیٹھ کر نہیں ہو سکتا ـ