ایک صاحب آسیب کا تعویذ لینے کے لئے سفر کر کے آئے درخواست پر حضرت والا نے فرمایا کہ میں عامل نہیں ہوں ـ یہ عاملوں کا کام ہے دوسرے یہ کام تو خط سے بھی ہو سکتا تھا بلا وجہ آپ نے اتنا لمبا سفر کیا اس لئے اگر میں تعویذ دیتا بھی تو اب نہ دوں گا ـ تاکہ تم نا کامیاب ہو جاؤ پھر تمہاری روایت سے لوگوں کو بھی واقعہ معلوم ہو جائے پھر اس واقعہ کو جو سنیں گے سب کا روپیہ اور وقت بچ جائے گا ـ اور اگر میں ایسا نہ کروں تو یہاں پر تو ایک ہجوم ہو جائے ـ اور پھر سوائے اس کے اور کوئی کام نہ ہو سکے ـ اور آپ سے تعجب ہے کیونکہ آپ تو اس قدر نا واقف نہیں جو ایسی فضول حرکت کی آخر خیریت کا تو خط پہلے سے لکھا ہی کرتے تھے ـ اس ہی میں یہ بھی معلوم کر لیا ہوتا اور جو لوگ محبت کا دعوی کرتے ہیں ـ ان ہی سے یہ شکایت ہے دوسروں کی کیا شکایت اور ان تعلیمات میں میں کسی کو اپنا تابع نہیں بناتا صرف یہ بات ہے کہ اصول صحیحہ کا میں خود بھی غلام ہوں اور دوسروں کو بھی اصول صحیحہ ہی کا غلام بنانا چاہتا ہوں مگر لوگوں کو اس سے وحشت ہوتی ہے چاہتے ہیں کہ وہی پرانے رواج کا برتاؤ کریں جس کی عادت ہے ـ اور طبیعت خوگر ہے مگر یہاں پر وہ باتیں نہیں چلتیں مدتوں کے بعد تو باب تعلیم معاشرت کھلا ہے ـ اب چاہتے ہیں کہ بند ہو جائے حسن معاشرت کو تو لوگوں نے دین کی فہرست سے نکال ہی دیا تھا ـ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہر کام اصول کے ماتحت ہو اور یہ کہ کسی کو کسی سے اذیت نہ پہنچے اور یہ حالت رہے ـ
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نبا شد
( بہشت وہی جگہ ہے جہاں کوئی تکلیف نہ ہو اور ( سب راحت سے ہوں حتی کہ کسی کو کسی سے کام بھی نہ ہو کہ دوسرے احتیاج بھی تکلیف کا باعث ہوتی ہے )
اور اس معاشرت کے خراب اور برباد ہونے کی وجہ سے ایک سے دوسرے کو سخت اذیت پہنچتی ہے اور باہمی الفت پیدا نہیں ہوتی میرے سارے انتظامی معمولات کا حاصل صرف یہی ہے کہ کسی کو اذیت نہ پہنچے تکلیف نہ ہو اگر کسی کو یہ طرز پسند نہ ہو وہ یہاں پر نہ آئے بلانے کون جاتا ہے ـ بقول غالب
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
ہزاروں مشائخ کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں وہاں جائیں بلانے کون گیا تھا اگر آتے ہو تو تمام اصول صحیحہ کا اتباع کرنا ہوگا ـ اور جو ہم کہیں کرنا پڑے گا ـ جس طرف اور جس طرح چلائیں گے ـ چلنا پڑے گا لوگوں نے طریق کو بچوں کا کھیل بنا رکھا ہے یہ طریق مردہ ہو چکا تھا ـ بحمد اللہ اب مدتوں کے بعد زندہ ہوا مجھ کو اس پر ناز نہیں مگر واما بنعمۃ ربک بحدث کو طور پر ذکر کرتا ہوں اس کا چودھویں صدی میں ایسے ہی پیر کی ضرورت تھی جیسا کہ میں لٹھ ہوں اور یہ کوئی ناز کی بات نہیں ـ اس لئے کہ جس سے چاہیں خدا تعالٰی اپنا کام لے لیتے ہیں ـ الحمدللہ میں نے ذوقیات اور کشفیات کو حسیات بنا دیا ہے ـ ان وجدنیات میں لوگ جن چیزوں پر ایمان بالغیب لاتے تھے اب وہ چیزیں کھلی آنکھوں نظر آتی ہیں اور اس طرز سے اصلاح یہ ایسی چیز ہے کہ میرے ایک اہل علم عزیز نے حضرت حاجی صاحب کو خواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے گا کہ میں صاحب نسبت ہو جاؤں ـ حضرت نے فرمایا کہ صاحب نسبت تو تم ہو مگر اصلاح کی ضرورت ہے اور اپنے ماموں سے کراؤ ـ سو حضرت اصلاح تو اسی طرح ہو سکتی ہے باقی تمام دنیا کو کون خوش رکھ سکتا ہے اور خوش رکھنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے جن کے خوش رکھنے کی انسان کو ضرورت ہے_
اس کی فکر چاہئے اور میں تو صاف کہتا ہوں تاکہ لوگوں کو دھوکہ نہ ہو کہ یہاں پر تو فقیری وقیری کچھ نہیں یہاں تو طالب علمی ہے اور ہم کو اسی میں فخر ہے کہ طالب علموں میں ہمارا شمار کیا جائے اور واقع میں بھی ہم فقیر کدہر سے ہیں ـ جب کھانے پینے میں خوب دل کھلا ہوا ہے فقیری کی تو شان ہوتی ہے کہ ایک بزرگ شب کو سامنے حلوہ رکھ کر نفس سے کہتے تھے ـ دو رکعت نماز نفل پڑھ لے پھر یہ حلوہ کھلاؤ گا پھر دو رکعت کے بعد ایسا ہی وعدہ کرتے تھے ـ تمام شب اسی طرح ختم ہو جاتی ہے تھی اور حلوہ رکھا ہی رہتا تھا ـ ہمارا نفس تو تیرہویں صدی کا ہے ایک دفعہ بھی اگر وعدہ خلافی ہو جائے پھر قبضہ میں نہیں آ سکتا ـ ہماری حالت پر نظر فرما کر حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نفس کو خوب کھلاؤ پلاو اور اس سے خوب کام لو ـ غرض یہاں کی حالت تو بالکل واضح ہے جس کا دل چاہے تعلق رکھے ـ جس کا چاہے نہ رکھے محض لوگوں کے معتقد بنانے کہ لئے ہم سے تو بنا نہیں جاتا ـ جیسا آج کل بکثرت یہی حالت ہو رہی ہے کہ تقوی اور زہد سب لوگوں کے دکھلانے کے واسطے اختیار کیا جاتا ہے ـ اور زیادہ اہتمام اسی کا کیا جاتا ہے کہ لوگ معتقد ہوں مگر اس کا اہتمام علاوہ مذموم ہونے کے خود موجب پریشانی بھی تو ہے کیونکہ عوام کے اعتقاد کی اور بنائیں ہیں اور خواص کے اعتقاد کی اور نیز امراء کے اعتقاد اور غرباء کے اعتقاد کی اور اس حالت میں بتلائیے سب کو معتقد بنانے کا کہاں تک اہتمام کرو گے اور اگر کیا بھی تو ساری عمر اسی ضیق میں گزرے گی تو میں کہتا ہوں کہ کس جھگڑے میں پڑے اعتقاد کی بناؤں کے اختلاف پر ایک واقعہ یاد آیا ـ ایک شخص دہلی میں امراء میں سے تھے ان کے اعتقاد کی بنیاد سنئے کیسی ضعیف تھی وہ یہ کہ ایک شخص نے مجھ کو دو یا تین روپیہ دینے چاہے میں نے اپنے قواعد کی بناء پر لینے سے انکار کر دیا ـ بس اس سے وہ معتقد ہو گئے پھر مدت کے بعد ایک دنیاوی معاملہ میں انہوں نے مجھ سے سفارش کرانی چاہی ـ میں نے کسی عذر سے انکار کر دیا ـ اس سے غیر معتقد ہو گئے اور ایسے امراء سے اکثر بیچارے غرباء پھر غنیمت ہیں ـ ان کے اعتقاد کی بنیاد اکثر محض تعلق مع اللہ ہی ہوتی ہے اور ایسے غرباء بلکہ دیہاتی بے لکھے پڑھے متقی بھی ہوتے ہیں اور خوش فہم بھی ـ چناچہ وہ لوگ ایسی سمجھ کی بات کرتے ہیں کہ ان امراء کے بھی خواب میں بھی نہ آئی ہو حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک گاؤں کا شخص آیا ـ حضرت اس وقت خادم سے پاؤں دبوا رہے تھے ـ اس نے دیکھ کر کہا کہ مولوی جی بڑا جی خوش ہوتا ہوگا کہ ہم بھی ایسے ہیں ـ حضرت نے فرمایا کہ جی تو خوش ہوتا ہے مگر بڑا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ آرام پہنچنے کی وجہ سے تو وہ گاؤں والا کیا کہتا ہے کہ مولوی جی تم کو پاؤں دبوانا جائز ہے ـ اس فہم کا کیا ٹھکانہ ہے کہاں نظر پہنچی ہے ـ آج کل تو مشائخ کی بھی دقائق پر نظر نہیں ـ
( ملفوظ 403)بیعت سے قبل تعلیم کی شرط لگانے کی وجہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ بیعت کو اس قدر ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ آیا بیعت ہونا چاہتے ہو بدون تعلیم ـ یا تعلیم چاہتے ہو بدون بیعت کے تو یہی کہیں گے کہ بیعت ہونا چاہتے ہیں اور یہ خیال ایک غلطی پر منبی ہے ـ جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے وہ یہ کہ یہ سمجھتے ہیں کہ بدوں بیعت ہوئے تعلیم کا اثر نہ ہوگا اور نہ کوئی نفع ہوگا ـ میں اسی جہل سے نکالنے کے لئے بیعت سے قبل تعلیم کی شرط لگاتا ہوں ـ تاکہ عقیدہ صحیح ہو جائے اور جہل سے نجات ہو اور رسمی مشائخ کے یہاں تو بدون بیعت کے تعلیم ہی نہیں دیتے ـ وہ اس خیال میں مبتلا ہیں کہ اگر جال میں اب پھنس گیا ـ ورنہ نہ معلوم کل کو اس کا خیال بدل جائے بحمدللہ میرے یہاں یہ بات نہیں کل کو تو کیا خیال بدلتا وہ ابھی بدل لے ہمارا کیا ضرر اگر سو مرتبہ جی چاہے اور اپنا نفع سمجھے تو تعلیم پر عمل کرے ورنہ جہاں چاہے جائے ـ ایسے بد فہموں کے ساتھ یہی برتاؤ ضروری ہے ـ
3 ـ صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ
( ملفوظ 402) علماء میں سلاطین کی سی سیاست ہونی چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء کی شان تو سیاست اصلاحی میں سلاطین کی سی ہونا چاہئے یعنی کوتاہی پر محاسبہ بمعاقبہ ہو ان کے ڈھیلے ہونے سے عوام کی جرات بڑھ گئی ـ مشائخ کی بھی یہی شان ہونا ضروری ہے ـ اس لئے کہ خدمت اصلاح ان کے بھی تو سپرد ہے مگر آج کل یہ کام کون کرے یہ تو خود اکثر مصلحین کی نیت اچھی نہیں ـ کسب دنیا جب دنیا غالب ہے اللہ تعالی رحم کرے ـ
( ملفوظ 401) محقق کی نظر اور سنت رسول کی تحقیق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محقق چونکہ بڑا عالم ہوتا ہے ـ اس کی نظر وسیع ہوتی ہے ـاس لئے اس میں بجز ضروری مواقع کے تشدد نہیں رہتا ـ اکثر مواقع میں ڈھیلا ہو جاتا ( بیائے معروف ) ہے ڈھیلا نہیں ہوتا ( بیائے مجہول ) جس سے چوٹ لگ جائے ـ قاضی ضیاءالدین سنامی رحمتہ اللہ علیہ مصنف الاحتساب الاحتساب کا ایک واقعہ سنا ہے ـ وہ واقعہ حضرت سلطان نظام الدین صاحب کے ساتھ ہوا ہے وہ یہ کہ قاضی ضیاء الدین صاحب سلطان جی کو سماع سے منع فرماتے تھے کہ دربار سلطان جی نے غلبہ حال میں قاضی صاحب کی حاضری کے وقت قوال کو اشارہ کیا سماع شروع ہوگیا ـ سلطان جی کھڑے ہو گئے قاضی صاحب نے ہاتھ پکڑ کر بٹھلا دیا ـ
سلطان جی سہ بارہ کھڑے ہوئے ـ قاضی صاحب پھر بٹھلانا چاہتے تھے مگر خود ہی ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑے ہوئے جب وہ حالت فرد ہوئی ـ قاضی صاحب نے فرمایا پھر آ کر احتساب کروں گا ـ بعضوں نے قاضی صاحب سے اس کا راز پوچھا فرمایا یہ جب اول بار کھڑے ہوئے ـ ان کی روح نے آسمان دنیا تک عروج کیا ـ میں نے وہاں سے واپس لا کر بٹھلا دیا ـ دوسری بار تحت العرش تک پہنچے میں نے وہاں سے بھی لوٹا لایا ـ تیسری بار فوق العرش پر پہچے میں نے جانا چاہا تو ملائکہ جلال نے روک دیا کہ یہاں صرف نظام الدین کے قدم جا سکتے ہیں ـ تم نہیں جا سکتے ـ وہاں انوار جلال دیکھ کر میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ـ ان بدعتی کے سامنے تھوڑا ہی کھڑا ہوا دیکھئے شریعت ایسی اہتمام کی چیز ہے اور بعض نے اس میں اتنا غلو کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت کر کے سنت کے درجہ تک پہنچا دیا ہے ـ سو خوب سمجھ لو اس سے سنیت پر استدلال محض باطل ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور کے کان میں کوئی شعر پڑ گیا ہو یا احیانا بسبیل ندرت ( کبھی اتفاقی طور پر ) سن لیا ہو سو محض اس سے سنیت کا ثبوت نہیں ہو سکتا ـ میرا اس استدلال کی حقیقت میں ایک وعظ سے الغالب للطالب اس میں یہ مضمون نہایت مبسوط ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا ہر فعل سنت نہیں بلکہ سنت وہی ہے جو حضور کی عادت غالبہ ہو ـ نیز غالی صوفیہ بھی اس بات کو نہیں کہہ سکتے کہ حضور اس مروج صورت کی اجازت فرماتے پس ہیئت مروجہ کو منقول پر قیاس کرنا ایسا ہے جیسے تہمد حضور باندھتے تھے ـ اس پر کوئی دھوتی کو قیاس کر لے اور یہ کہے کہ دونوں میں ذرا سا ہی تو فرق ہے ـ ایسے تغیر سے کیا ہوتا ہے ؟ بس یہی تو فرق ہے ـ دھوتی میں کہ ایک پلا پیچھے اڑس لیا جاتا ہے ـ اس کو تو فقہا ہی سمجھ سکتے ہیں کہ کون فرق مؤثر ہے اور کون نہیں ـ
( ملفوظ 400) آواز میں غضب کی خاصیت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آواز بھی غضب کی چیز ہے ـ آفت کی چیز ہے ـ اسی وجہ سے شریعت نے بعض اصوات سے منع کیا ہے اور اس راز کو فقہا نے سمجھا ہے ـ یہ ایک قسم کی آگ ہے تو کیا آگ میں کودنے کی شریعت اجازت دے سکتی ہے ـ سماع آگ ہے جس کو اطمنان ہو کہ میں نہ جلوں گا اس کو بشرائط جائز ہے اور جس کو یہ اطمنان نہ ہو اس کو کسی طرح جائز نہیں یہ آواز بڑی آفت کی چیز ہے ـ اس میں غضب کی خاصیت ہے ـ سنا ہے کہ دیپک ایک راگنی ہے اس کے گانے سے آگ لگ جاتی ہے ـ چراغ میں تیل بتی درست کر کے رکھو اور گاؤ چراغ روشن ہو جاتا ہے ـ
( ملفوظ 399)آج کل کے صوفیوں کا وجد
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے بزرگوں پر کسی شیخ کا خط پڑھ کر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی ـ آج کل جو صوفی ہیں ان میں اکثر کو ڈھونگ کی وجہ سے وجد ہوتا ہے ـ تن تن پن پن سے وجد ہوتا ہے ـ ایسے لوگ نقال ہیں ـ نفسیات سے پر ہیں ـ بکثرت ہوا پرست امرد پرست زن پرست ہیں اہل باطل ہیں ـ خدا سے غافل ہیں ـ دنیا والوں سے بھی زیادہ اپنے اغراض میں بیدار ہیں ـ رات دن ان ہی تدابیر میں لگے رہتے ہیں ـ جس سے شوکت ہیبت عظمت ظاہر ہو ـ جو حاصل حب جاہ کا
( ملفوظ 398) سماع میں اختلاف
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سماع کے متعلق خود علمائے ظاہر میں اختلاف ہے ـ چناچہ محدثین اور فقہا میں اختلاف ہے محدثین اس مسئلہ میں کسی قدر اقرب الی الصوفیہ ہیں ـ
( ملفوظ 397)انسان کی خواہش
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان بھی عجیب چیز ہے ـ اس کو ایک حالت پر چین نہیں چاہتا یہ ہے کہ جو میرا جی چاہے وہ ہوتا رہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا جی ہاں باوجودیکہ ہر بات اس کے خیال کے موافق نہیں ہوتی پھر جو کچھ کرتا ہے خیال ہی کے تابع ہو کر کرتا ہے اور تمام عالم اسی خیال پر چل رہا ہے ـ اتنی بڑی مؤثر چیز اور نظر تک نہیں آتی ـ جیسے گھڑی کی بال کمانی کہ بالکل باریک مگر تمام پرزوں کو نچا رکھا ہے مولانا فرماتے ہیں ـ
نیست وش باشد خیال اندر جہاں تو جہا نے بر خیا لے بیں رواں
کہ خیال آسیا و باغ وراغ گہ خیال میغ و ماغ و تیغ ولاغ
( ملفوظ 396)تہجد کے لئے آنکھ نہ کھلنے کا علاج
ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ہر شخص کیلئے جدا علاج ہے کسی کو کم کھانا مفید ہے اور کسی کو بالکل نہ کھانا اور کسی کو خوب کھانا جس کو ضعف بڑھ جانے کا اندیشہ ہو ایک شخص تھے چرتھاول میں ان کی تہجد کی نماز کے لئے آنکھ نہ کھلتی تھی انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ جس روز ایسا ہوتا ہے صبح کو روزہ رکھ لیتا ہوں مگر اس سے بھی کچھ نہ ہوا میں نے کہا کہ یہ تمہارے لئے اور زیادہ کسل کا سبب ہوگا ـ اس لئے کہ جب روزہ سے رہو گے خوب تن کو کھاؤ گے ـ تن کے پیو گے تو نشہ ہوکر اور کسل بڑھیگا ـ کہا کہ ہوا تو ایسا ہی میں نے کہا کہ یہ تدبیر کرو کہ عصر سے قبل کھانا کھاؤ اور ذرا کم کھاؤ اور مغرب سے پہلے پہلے پانی جس قدر پیاس ہو پی لو پھر نہ پیو تدبیر کامیاب ہوگی ـ
( ملفوظ 395) صفائی اور زینت میں فرق
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نفاست و صفائی میں اور تزئین میں کیا فرق ہے فرمایا کہ صفائی تو یہ ہے کہ میل کچیل نہ ہو چاہے کپڑا گھٹیا اور پھٹا ہی سہی مگر ہو صاف اور تزئین میں یہ ہوتا ہے کہ کپڑا قیمتی ہو خوبصورت ہو وضع قطع بھی درست ہو غرضیکہ نفاست اور تزئین میں زمین آسمان کا فرق ہے سو صفائی تو ہرحال میں محمود ہے اور تزئین بعض حالات میں مزموم بھی ہے ـ اسی مذمومہ کی نسبت کہا گیا ہے ـ
عاقبت سازد ترا از دین بری ایں تن آرائی وایں تن پروری
( یہ تن پردی اور بناؤ سنگار آخر کا تجھ کو دین سے بالکل خالی کر دے گا ـ )

You must be logged in to post a comment.