ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کلکلتہ میں ایک شخص ان خاں صاحب مذکور کا معتقد میری کتابیں بہت دیکھتا ہے ایک صاحب مجھ سے کہتے تھے کہ وہ شخص کہتا تھا کہ یہ کون کہتا ہے کہ اشرف علی دیوبندی ہے وہ تو جماعت کا آدمی ہے اور اسکے ثبوت میں کچھ میری کتابوں کے مضمون بیان کئے اور معتقدانہ یہ کہتا تھا کہ ایک مسئلہ اختیاری اور غیر اختیاری کا اور اس کے احکام اور آثار کا تو صدیوں سے گم تھا ـ اس کو ایسا ظاہر کیا کہ کسی نے نہیں کیا اور یہ بھی کہا کہ بھلا دیوبند والے کہیں ایسی باتیں اور ایسے مضامین لکھ سکتے ہیں ـ لا حول ولا قوۃ الا باللہ
( ملفوظ 393) مولوی احمد رضا خان صاحب اور چند بدعتی حضرات کا واقعہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بی بی نے عجیب خواب دیکھا وہ یہ کہ ایک مولوی خاں صاحب مبتدع کو خواب میں دیکھا ان بی بی سے دریافت کیا اس کی ( یعنی میری ) مجلس میں کبھی کبھی میرا بھی ذکر آیا ہے بی بی نے کہا ہمارے سامنے تو یاد نہیں خاں صاحب بولے کبھی ذکر تو کرتا دیکھنا کیا کہے گا پھر خود ہی کہا میں بتلاؤں کیا کہے گا یہ کہے گا کہ بڑا لچا تھا میں نے کہا کہ واقعی سچا خواب ہے میں نے اس سے زیادہ کچھ ہی نہیں ( یعنی شدید کلمات نہیں کہے گو اس نے ساری عمر مجھ کو گالیاں دیں ـ ایک مولوی صاحب بدعتی کا ذکر کر فرمایا کہ وہ اٹا وہ میں ملے مجھے کہتے تھے کہ اگر تم ایک کام کرنے لگو تو تمام ہندستان کو میں تمہارا غلام بنادوں یہ میری ذمہ داری ہے وہ کام یہ ہے کہ مولد میں قیام کرنے لگو میں نے کہا اگر کسی کو غلام بنانا مقصود نہ ہو کہنے لگے کہ بس یہی تو افسوس کی بات ہے آپ لوگ مصالح کو سمجھتے ہی نہیں میں کہتا ہوں کہ مصالح تو ہمارے یہاں خوب پیسے جاتے ہیں کہ سالن مزہ دار ہو اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تم کو اپنی قوت کی خبر نہیں کہ لوگوں پر کتنا اثر ہے بس ذرا سا حجاب ہے اگر وہ اٹھ جائے تو پھر تم کو معلوم ہو کہ لوگوں کے قلب پر تمہارا کتنا اثر ہے پھر مزاحا فرمایا کہ یہ قوت تو ایسی ہوئی جیسے مشہور ہے کہ بریلی پر ان خان صاحب سے موجہہ ہو گیا معلوم نہیں ان کو دھوکہ ہوا انہوں نے مجھ کو دور سے سلام کیا اتفاق سے میں نے دیکھا بھی نہیں اس لئے جواب بھی نہیں دیا پھر ان کو کسی سے معلوم ہوا کہ یہ تو اشرف علی ہے اس قدر غصہ آیا کہ پلیٹ فارم چھوڑ کر باہر گاڑی میں جا بیٹھے پھر شہر میں اس سلام کی شہرت ہو گئی اب عوام کا کون انتظام کرے اس طرف کے لوگوں نے کہا کہ آج تو ایسے مرعوب ہوئے کہ جھک کر سلام بھی کر لیا ان کے معتقدین نے جواب دیا کہ پہچانا نہ تھا لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ایسے دودھ پیتے بچے تھے پہچانا نہ تھا غرض اچھا خاصا تماشہ ہو گیا اسی سلسلہ میں ایک اور قصہ بیان فرمایا بریلی میں بدعتیوں کا ایک جلسہ ہوا اس میں ایک صاحب نے ایاک نعبد وایاک نستعین کی تفسیر بیان کی قیامت کے روز پیشی کے وقت خدا اور رسول دونوں مجتمع ہوں گے تو ہم اس وقت خدا کی طرف منہ کر کے کہیں گے ـ ایاک نعبد اور حضور صلی اللہ عیلہ وسلم کی طرف منہ کر کے کہیں گے ـ وایاک نستعین ۔ اس پر بڑی تحسین ہوئی کہ واہ واہ کیا نکتہ ہے کیوں صاحب یہ بھی کوئی نکتہ ہوا ـ رنگون میں ایک ہندستانی بدعتی مولوی شجرہ میں بزرگوں کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم چھپوایا ہے اور کہتا ہے کہ تبعا کہنا جائز ہے جواب میں فرمایا کہ کیا مفسدہ کے وقت بھی جائز ہے دوسرے لفظی تبعیت زیادہ موثر یا منوی تبعیت ظاہر ہے کہ اس شخص کو اصل مقصود تو بزرگان شجرہ پر صلوۃ بھیجنا ہے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام حیلئہ جواز کے لئے تبعا گیا ہے ـ
( ملفوظ 392)ہندو میں اسلام صوفیہ اور تاجروں کے ذریعہ پھیلا ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک انگریز مصنف نے لکھا ہے کہ ہندستان میں اسلام تاجروں اور صوفیونکے ذریعہ سے پھیلا ہے بزور شمشیر نہیں پھیلا حضرات صوفیہ کی طرز زندگی کو دیکھ کر اور تاجروں کی تبلیغ کو سنکر لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ـ
27 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 391)سماع کا ذکر
ایک سلسلہ گفتگو میں سماع کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اصل میں یہ مثل دوا کے معالجہ ہے بعض حالات کا اب لوگوں نے دال روٹی بنا لیا بلکہ بعض جگہ تو آلہ ہو گیا فسق و فجور کا میں تو کہا کرتا ہوں کہ پہلے جو اہل سماع تھے وہ اہل سما تھے اب تو اہل ارض ہیں جن پر یہ صادق آتا ہے ـ
ولٰکنہ اخلد الی الارض واتبع ھواہ ۔فرماتے ہوئے فرمایا کہ اصل میں یہ مثل دوا کے معالجہ ہے بعض حالات کا اب لوگوں نے دال روٹی بنا لیا بلکہ بعض جگہ تو آلہ ہو گیا فسق و فجور کا میں تو کہا کرتا ہوں کہ پہلے جو اہل سماع تھے وہ اہل سما تھے اب تو اہل ارض ہیں جن پر یہ صادق آتا ہے ـ
ولٰکنہ اخلد الی الارض واتبع ھواہ ۔
( ملفوظ 390)ترقی کی حقیقت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں تو ایک مرتبہ لکھنو میں بیان کے اندر کہا تھا کہ اس میں بڑے بڑے بیرسٹر اور وکلا جمع تھے کہ ہر ترقی کو تو آپ بھی محمود نہیں کہہ سکتے جیسے ورم کی ترقی ہے اسکا طبیب اور ڈاکٹر سے کیوں علاج کراتے ہو حالنکہ کچھ ترقی ہی ہوئی تنزل تو نہیں ہوا تو جو درجہ آپ کے یہاں ورم ( بالواد ) کا ہے وہی درجہ ہمارے یہاں بعض حالات میں درم الدال کا ہے اس وقت لوگوں کو ترقی کی حقیقت معلوم ہوئی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو علم دین ہے اور نہ اہل علم کی صحبت اکبر الہ آبادی نے صحبت کے باب میں خوب کہا ہے ـ
انہوں نے دین کب سیکھا ہے وہ کر شیخ کے گھر میں پلے کالج کےچکر میں مرے صاحب کے دفتر میں
پھر فرمایا کہ لوگ کسی ترقی یافتہ کے اسباب ظاہرہ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ فلاں نے اس صورت سے ترقی کی حالانکہ یہاں علاوہ اسباب کے ایک دوسری چیز اور ہے وہ ہے اصل علت ترقی کی اسکو نہیں دیکھتے اور وہ مشیت حق ہے ورنہ اسکی کیا وجہ کہ ایک شخص نے مال تجارت لا کر الماریوں میں لگا کر اعلان کر دیا ـ یہ تو اسکا اختیای فعل تھا مگر آگے خریداروں کی رغبت یہ تو اسکے اختیار میں نہیں محض مشیت پر ہے چناچہ دو دوکانیں پاس پاس ہوتی ہیں ایک پر خریدار آتے ہیں ایک پر نہیں آتے تو یہ کس کے قبضہ میں ہے جن اسباب سے ایک نے ترقی کی ہے امتحانا دوسرے کو دیکھ کر لو وہ بھی ایسی ہی ترقی کر سکتا ہے یا نہیں ـ
26 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر کیوم پنجشنبہ
( ملفوظ 389) آتو الزکوۃ سے مالدار بننے پر استدلال فاسد
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک صاحب نے مجھ سے کہا جہاں قرآن میں اقیمو الصلوۃ کا حکم ہے واٰتوالزکوۃ کا بھی تو ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مالدار بنو اور زکوۃ دو فرمایا کہ بے ہودگی ہے اسکے معنی تو یہ ہیں کہ اگر مال ہو تو زکوۃ دو اور اسکی تو ایسی مثال ہوگی کہ کوئی کہنے لگے کہ اقیموالصلوۃ کا حکم ہے اور وجوب صلوۃ کے لئے بالغ شرط ہے تو اسی سے ثابت کرنے لگے کہ جلد سے جلد بالغ ہو جانا چاہئے اگر نہ ہوا تو عدم ادائے فریضہ کی وجہ سے گنہگار ہوگا ـ
( ملفوظ 388)بلانیت کے بھی ثواب ملتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا قصد اور نیت کے بھی ثواب ملتا ہے انما الاعمال بالنیات ۔ جو آیا ہے یہ اعمال نیت ہے یعنی اعمال کا ثواب تو نیت پر ہی موقوف ہے مگر غیر اعمال کا ثواب بدون نیت کے بھی مل جاتا ہے جیسے حدیث میں ہے کہ کوئی باغ لگائے یا کھیتی کرے اور اس سے بدون اس شخص کے قصد کے کوئی آدمی یا بہیمہ ( جانور ) انتفاع حاصل کرے اور اسکو خبر نہ ہو اسپر بھی ثواب ملتا ہے ـ
( ملفوظ 387) بزرگوں کا استغناء اور سلطان شمس الدین التمش کا واقعہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل یہ بھی درویشی کے لوازم سے سمجھا جاتا ہے کہ ہر بات کی برداشت کرے اور ہر شخص کی کرے مگر اصلاح تو اس صورت سے ہو ہی نہیں سکتی البتہ برداشت کی ایک صورت ہے کہ دل میں سے اس بات کو نکال دوں کہ اصلاح نہ کرونگا پھر مجھ پر کوئی اثر نہ ہوگا تغیر تو اصلاح کی وجہ سے ہوتا ہے میں نے ایک بار اسکا بھی قصد کر لیا تھا مگر احباب سے جو مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو اصلاح ہی چاہتے ہیں تو صاحب اصلاح تو اسی طرح ہو سکتی ہے یہانپر تو اسکا مصداق بنکر آنا چاہئے فرماتے ہیں ـ
یا مکن یا پیابا نان دوستی یا بنا کن خانہ برانداز پیل
یا مکش بر چہرہ نیل عاشقی یا فرو شو جامہ تقوی نہ نیل ،
( یا تو ہاتھی والوں سے دوستی نہ کرو ـ یا گھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آ سکے اور یا تو اپنے اند عاشقی کی حالت پیدا نہ کرو یا اس ظاہر تقوی کے جامہ کو دریا میں دھو ڈالو ـ )
اس برداشت اور خوش اخلاق متعارفہ کی بدولت یہاں تک نوبت پہنچ گئی جو مشاہدہ ہے ـ ایک پیر صاحب یہاں پر آئے مجھ سے ایک بڑے شخص کے متعلق کہا کہ تم سفارش کر دو کہ وہ مجھ کو ریاست سے چھ ہزار روپیہ قرض دلوا دیں میں شرما گیا ـ میں نے پوچھا کہ یہ اتنا قرض کس طرح ہوا ـ بہت سادگی سے کہنے لگے کہ مرید کھا گئے ـ لنگر جاری رہا ، آ کر مہینوں پڑے رہے اور کچھ دے کر بھی نہیں گئے میں نے پوچھا کہ پھر یہ قرض جو اس وقت لے رہے ہو کہانسے ادا کرو گے کہا کہ مریدوں سے آمدنی ہوگی اس سے ادا کردونگا دیکھئے یہانتک تو نوبت آ گئی مگر مرید ان کے پھر بھی معتقد تھے ـ یہ سب کچھ اخلاق متعارفہ کی بدولت پریشانی ہوئی ایسے اخلاق قیامت تک بھی اختیار کرنیکو تیار نہیں اور امیروں سے مانگنا تو اچھی خاصی دوکانداری ہے اسکو درویشی سے کیا تعلق درویشونکی تو شان ہی جدا ہوتی ہے کہ خلاف اصول خود دینے سے بھی نہیں لیتے حضرت غوث پاک سے شہ سنجر نے کہلا کر بھیجا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ ملک سنجر کا کچھ حصہ خانقاہ کے لئے حضرت کو پیش کردو آپ نے جواب میں لکھ بھیجا ـ
چوں چتر سنجری رخ بکتم سیاہ باد ، دردل اگر بود ہوس ملک سنجرم
زانگہ کہ یا فتم خبر از ملک نیم شب من ملک نیم روز بیک جونمی خرم
( ملک سنجر کا جھنڈا سیاہ تھا اور شاہ سنجر نے ملک سنجر کا جو حصہ حضرت کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا اوس حصہ کا نام ملک نمیروز تھا ـ اب ترجمہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ ملک سنجر کے جھنڈے کی طرح میرا نصیبہ بھی سیاہ ہو ـ اگر ملک سنجر کے کسی حصہ کی ہوس میرے دل میں آوے ـ اور میں نے تو جب سے ملک نیم شب ( یعنی راتوں کو عبادت کرنے ) خبر پائی ہے میں ملک نیمروز کو ایک جو کے بدلہ میں بھی خریدنے کو تیار نہیں : ـ ) اسی طرح حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے عجیب بات فرمائی تھی شمس الدین التمش نے چند دیہات کا فرماں لکھ کر ان کی خدمت میں بھیج دیا کہ یہ آپکی خانقاہ والوں کے اخراجات کے لئے تجویز کر دیا گیا ہے اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ افسوس ہم کو تم سے محبت اور ہم سمجھتے تھے کہ تم کو ہم سے محبت ہو گئی مگر ہمارا خیال اگر غلط نکلا اگر تم کو ہم سے محبت ہوتی تو تم ہمارے لئے ایسی چیز تجویز نہ کرتے جو خدا کی مبغوض ہے یعنی دنیا خبر یہ تو درویش تھے مگر اس وقت کے سلاطین کی حالت سنئے قطب صاحب کا انتقال ہوا یہ وصیت فرمائی کہ میرے جنازہ کی نماز وہ شخص پڑھائے جس میں تین شرطیں ئی جائیں ایک تو یہ کہ کبھی کسی غیر محرم پر نظر نہ کی ہو اور ایک عصر کی نماز کے قبل کی مستحب چار رکعتیں اسکی ناغہ نہ ہوئی ہوں تیسری یاد نہیں رہی اس وقت جنازہ پڑھانیکا ارادہ نہ کیا بالاخر سلطان شمس الدین نے کہا کہ آج حضرت قطب الدین صاحب نے مجھ کو رسوا کیا الحمد اللہ اللہ تعالی نے مجھ کو یہ دولت نصیب کی ہے اور نماز پڑھائی یہ اس وقت کے سلاطین کی حالت تھی پھر فرمایا کہ ان بزرگوں کے ذکر کے وقت میری حالت قابو میں نہیں رہتی مجھ کو ان حضرت کیساتھ عشق کا درجہ ہے اور زیادہ عشق کی بناء یہ ہے کہ باوجود غلبہ محبت شرعیہ کا حق ادا کرتے تھے ـ
( ملفوظ 386)بزرگوں کے یہاں مواخزہ سے بچنے کی آسان صورت
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ جو یہاں اجازت لیکر آتے ہیں اس اجازت کو اپنے مقاصد مزعومہ کے حصول کا وعدہ سمجھتے ہیں میں نے اسکا یہ علاج کیا ہے کہ آنے کے قبل ہی صاف لکھ دیتا ہوں کہ یہاں آ کر نہ مخاطبت کرو نہ مکاتبت نہ کسی فائدہ کا قصد صرف خالی الذہن ہو کر آزادی کے ساتھ بیٹھے رہو باتیں سنو اور اپنی حالت پر منطبق کرو فائدہ ہو یا نہ ہو تو آجاؤ لوگ ان شرطوں سے برا مانتے ہیں کہ پھر فائدہ ہی کیا ہوا میں کہتا ہوں کہ یہ طریق کا معلوم ہو جانا کیا تھوڑا نفع ہے عمل کر کے تو دیکھیں مولانا فرماتے ہیں ـ
چند گوئی خواجہ نظم و نثر فاش ، چند روزے امتحان کن گنگ باش
میاں نظم نثر کب کہتے رہو گے چند روز کے لئے بطور امتحان کے خاموش ہو جاؤ ـ
اسی طرح بعضے لوگ میرے موخزوں سے برا مانتے ہیں حالانکہ مواخزہ اس لئے ہوتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جو یہاں آوے کچھ لیکے جاوے چاہے ایک ہی علم ہو مگر لوگ اسکو اخلاق کے خلاف سمجھتے ہیں ـ اور حقیقت یہ ہے کہ مشائخ اور علماء کے ان عرفی اخلاق ہی نے عوام کے اخلاق کو خراب اور برباد کیا ہے ایک شخص نے میرے مواخزوں کے متعلق کہا تھا کہ منکر نکیر کے سوالوں کا جواب تو آسان مگر اسکے جواب مشکل ہے میں نے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے مگر اس کا منشا میرا کوئی فعل نہیں بلکہ تمہارا فعل ہے وہ یہ کہ وہاں تو تم سچ بولو گے یا اگر معلوم نہ ہوگا تو لا ادری ( مجھے معلوم نہیں ) کہدو گے یہ بھی غرض جو بات دل میں رچی ہوگئی اور جمی ہوگی وہ کہدو گے اور سچ بولو گے اور یہاں پر اینچ پینچ سے کام نکالنا چاہتے ہو اور چلتی نہیں اس لئے آپ ہی جواب مشکل ہو جاتا ہے تو تم نے ایک آسان چیز کو خود ہی مشکل بنایا اب لیجئے آسانی کی صورت بھی بتلاتا ہوں وہ یہ کہ سچ بولنے کا قصد کر لیں تو بہت سوالوں کی نوبت ہی نہ آئیگی ـ
( ملفوظ 385) تفسیر اور تصوف سے حضرت کی مناسبت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عرفی تواضع کو پسند کرتا ہوں نہ کبر کو اس لئے واما بنعمۃ ربک فحدث کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بشارت دی تھی کہ تجھ کو چیزوں سے اللہ تعالٰی مناسبت عطا فرمائیگا تفسیر اور تصوف اب خیال ہوتا ہے کہ حدیث اور فقہ کے لئے بھی اگر دعا کرا لیتا تو اس میں معتد بہ مناسبت ہو جاتی اب یہ جو کچھ ہے یہ سب حضرت ہی کی دعاؤں کی برکت ہے ـ

You must be logged in to post a comment.