ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ رعایت مصالح کی وجہ سے حضرت شاہ عبدالعزئز صاحب کا فیض عام تھا مگر تام نہ تھا وار مصلحت سوزی کی وجہ سے حضرت مولانا شہید صاحب کا فیض عام نہ تھا مگر تام تھا ـ تقویہ الایمان کا طرز اسکا شاہد ہے گو حضرت شہید کا تقویت الایمان کو ایک دم شائع کرنیکا ارادہ نہ تھا سمجھتے تھے کہ بد فہم لوگ اس سے متوحش ہونگے مگر جہاد کا سفر پیش آگیا جسکا انجام معلوم نہ تھا احتمال تھا کہ اگر شہادت ہوگئی تو اسکی اشاعت رہ جائے گی ـ مصلحت عامہ پر اس خیال کا غلبہ ہوا اور تعجیل اشاعتہ کا داعی ہوا اور اصل بات تو یہ ہے کہ اگر مصالح کی رعایت بھی ہوتی تب بھی مخالفت ضرورت ہوتی کیونکہ کج فہم ہر زمانہ میں ہوتے ہیں گو کمی بیشی کا فرق ہوا اسی مصلحت کے سلسلہ میں ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ مصالح کا سوال بھی باخبری کی حالت میں ہوتا ہے مگر آجکل بعض دفعہ اس فقیری اور درویشی کے ڈھونگ سے بعض علماء خود ہی جاہلوں کے معتقد ہو جاتے ہیں انکو اس طریق کی حقیقت کی خبر ہی نہیں یہ بڑی سخت بات ہے ـ
( ملفوظ 383)دن میں کئی بار لباس بدلنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریزی تعلیم یافتہ صاحب یہاں پر آئے تھے چند روز مقیم رہ کر واپس ہو گئے حالت یہ تھی وہ صبح سے شام تک کئی کئی لباس بدلتے تھے وطن پہنچ کر یاد نہیں کس مضمون کا خط لکھا میں نے اسکا جواب دیا اور اس میں یہ بھی لکھا کہ آپ یہاں پر قیام میں اس شعر کے مصداق تھے ـ
گہے در کسوت لیلے فروشد گہے دو صورت مجنوں بر آمد ،
( کبھی لیلٰی لباس میں آئے کبھی مجنوں کی صورت میں ظاہر ہوئے ـ 12 )
پھر خط آیا لکھا کہ واقعی یہ میری حرکت قابل نفریں تھی اب میں نے اس طرز سے توبہ کر لی ہے ـ
( ملفوظ 382)حضرت کی صاف گوئی
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مدارس اس طریق میں مناسبت پر ہے نفع بدون مناسبت کے نہیں ہو سکتا اسی واسطے جس سے مناسبت نہیں ہوتی میں صاف کہہ دیتا ہوں کہ تم کو یہاں پر نفع نہ ہوگا کسی دوسری جگہ جا کر تعلق پیدا کر لو اور اگر تم ایسی جگہ کا پتہ پوچھو گے میں بتلا دونگا یہ تو تعلق خاص کے شرائط ہیں باقی خدمت سے کسی کی بھی انکار نہیں گو کسی سلسلہ کا ہو چناچہ حاجی شاہ وارث علی کے ایک مرید یہاں پر آئے مجھ سے کہا کہ حضرت نے یعنی حاجی صاحب نے فرمایا کہ وہاں جا کر مثنوی پڑھو سنو میں نے کہا کہ آج کل مثنوی ہو رہی ہے سن لیا کرو مگر ایک ضروری بات سن لو کہ ہم لوگ حاجی صاحب کے معتقد نہیں ہم انکے مسلک اور طریق کو پسند نہیں کرتے کبھی کبھی ہماری مجلس میں انکی شکایت بھی ہوتی ہے ممکن ہے کہ تم کو برا معلوم ہوا بھی اطلاع کر دیتا ہوں کہا کہ آپ جانیں وہ جانیں مجھے اس سے کیا غرض میں تو دونوں کو اپنا بڑا اور بزرگ کر دیتا ہوں کہا کہ آپ جانیں وہ جانیں مجھے اس سے کیا غرض میں تو دونوں کو اپنا اور بزرگ سمجھتا ہوں چناچہ وہ شخص یہاں پر بہت روز رہے آدمی سمجھدار تھے خدا معلوم کس طرح پھنس گئے ایک روز بدون اطلاع کئے ہوئے چلدئے یہ بے ڈھنگا پن پیر کے فیض کا اثر تھا ـ
( ملفوظ 381)حدود شریعہ کا اتباع اور چند بزرگوں کے واقعات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات کی مصالح مسلم سہی مگر حدود شرعیہ کا اتباع تو ہم پر ہو وقت اور ہر حالت میں فرض ہے اور احکام شرعیہ ہر وقت اور ہر حالت میں واجب العمل ہیں مگر اس تحریک میں تو بڑی ہی گڑبڑ سے کام لیا گیا میں ایک مرتبہ سفر کر رہا تھا چند ساتھی ہمراہ تھے ایک صاحب ناشنا سا ہمارے قریب آکر بیٹھ گئے ٹکٹ چیکر آیا اس نے ٹکٹ مانگنے ٹکٹ ہمارے ایک ہی جگہ تھے میں نے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھا دو اس نے سب ٹکٹ اکٹھے دیکھ لئے اور وہ صاحب جو بیٹھے تھے انکو بھی ہمارا ساتھی سمجھ کر علیحدہ ان سے ٹکٹ نہیں مانگا شمار میں غلطی ہوگئی اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ اعتماد کرتے ہیں کہ یہ ثقہ لوگ ہیں حالانکہ حساب سے ایک ٹکٹ کم تھا مگر وہ چلا گیا تو وہ صاحب بولے کہ صاحب آپکی بدلت میں بھی مواخزہ سے بچ گیا میں نے پوچھا یہ کیا بات کہنے لگے کہ میرے پاس ٹکٹ نہ تھا میں نے پوچھا کیوں کہا کہ علماء کا فتوی ہے کہ بلا ٹکٹ سفر کرنا جائز ہے میں نے پوچھا کہ کون علماء کہا کہ علماء تحریک نے فتوی دیا ہے اسکو نقل کر کے حاضرین سے فرمایا کہ مسائل سے قطع نظر کر کے ایک بات تو یہی دیکھنے کی ہے کہ ایسے کام کرنے والے کو قلب کی جمعیت میسر نہیں ہو سکتی یہ کیا تھوڑا عذاب ہے کہ پریشان حال چور بنے بیٹھے ہیں اور جمعیت ظاہر ہے کہ بڑی دولت ہے حضرات صوفیہ نے تو جمعیت قلب کا بڑا اہتمام کیا ہے اس لئے اسکی بھی ضرورت ہے کہ کسی سے عداوت پیدا نہ کرے کیونکہ عداوت میں جمعیت قلب برباد ہو جاتی ہے ہر وقت دشمن کی طرف سے قلب پریشان اور مشوش رہیگا ایک بزرگ کے ایک مرید جو لوگوں سے الجھتے بہت تھے ان بزرگ نے منع فرمایا کہ تم کو ایسی باتوں سے بہت دلچسپی ہے اس کا نتیجہ برا ہے عرض کیا کہ لوگوں کو راستی پر لانے کے لئے ایسا کرتا ہوں فرمایا کہ تم کو راستی کا طریقہ ہی معلوم نہیں تم تو دشمن بنا لیتے ہو پھر فرمایا کہ ایسی راستی ہی چھوڑ دینا چاہئے جس سے عداوت عامہ پیدا ہو البتہ یہ اس امر میں ہے جو واجب نہ ہو اور اگر واجب ہو اس میں کسی کی دشمنی دوستی کی ذرا پروا نہ کرنا چاہئے پھر فرمایا کہ بعض طبائع فطرۃ تیز ہوتی ہیں ـ ان کو کسی کی مخالفت سے تشویش ہی نہیں ہوتی بنگور میں مولوی رحیم الہی صاحب ایک مشہور بزرگ تھے ان کا واقعہ ایک شخص بیان کرتے تھے کہ پڑوس میں کچھ لوگ مولوی صاحب کے مخالف رہتے تھے اور اکثر بزوگوں کے تھوڑے بہت مخالف ہوتے ہی ہیں اس میں بھی حکمت ہے کہ ان بزرگ میں عجب کا مرض نہ پیدا ہو جائے اس لئے جہاں معتقدین وہیں مخالفین جہاں گل وہیں خار ان مخالفین کو شرارت سوجھی کو مولوی صاحب کے مکان اور مسجد کی درمیان ایک تھوڑی سی جگہ خالی پڑی ہوئی تھی محض مولوی صاحب کی مخالفت اور ایذاء کی غرض سے اس جگہ میں ایک طوائف کا ناچ کرایا مولوی صاحب نماز کے لئے گھر سے مسجد آئے راستہ میں یہ خرافات ہو رہی تھی مگر صبر کیا کچھ نہیں بولے مگر جب مسجد سے گھر کو واپس ہوئے اور اس جگہ پہنچے اور پھر وہی منظر دیکھا جوش آگیا بھری مجلس میں بلا کسی خوف کے جوتہ نکال کر اس عورت پربجانا شروع کر دیا مجمع سب قریب مخالفین ہی کا تھا مگر کسی کی یہ ہمت نہ ہوئی کہ اسکو چھوڑا ہی لیتا دین کی بزرگی اور ہیبت خدا داد ہوتی ہے کتنا ہی کوئی مخالف ہو مگر دین کا ادب ہر شخص کے خصوص مسلمان کے قلب میں ضرور ہوتا ہے غرضیکہ مجلس رقص درہم برہم ہو گئی ان شریر لوگوں نے اس عورت کو مشورہ دیا کہ مولوی صاحب پر دعویٰ کر ہم گواہی دیں گے اور روپیہ بھی ہم ہی صرف کرینگے اس عورت نے جواب میں کہا کہ روپیہ تو میرے پاس بھی ہے ( حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ مالزادی تو ہوتی ہی ہیں ) اور میں دعویٰ بھی کر سکتی ہوں اور تم گواہی بھی دے دو گے مگر ایک چیز اس سے مانع ہے وہ یہ کہ میں خیال کرتی ہوں اس شخص کے دل میں اگر دنیا کا ذرا بھی شائبہ ہوتا تو مجھ پر اسکا ہاتھ ہرگز اٹھ نہ سکتا تھا اس سے ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بالکل اللہ والا ہے تو ایسے شخص کا مقابلہ اللہ تعالی کامقابلہ کرنا ہے سو میری اتنی ہمت نہیں اور اس عورت نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ مولوی صاحب کے مکان پرپہنچی معافی چاہی اور عرض کیا کہ میں اپنے پیشہ سے توبہ کرتی ہوں کسی بھلے آدمی سے میرا نکاح کرا دیجئے مولوی صاحب نے توبہ کرائی اور کسی سے نکاح کرا دیا بھلا کیا کوئی اپنے علم پر ناز کر سکتا ہے ـ اللہ تعالی جسکو جو چاہے ، دیدیں دیکھئے اسکو کیا دولت فہم عطا ہوئی اگر یہ نہ معلوم ہو کہ جواب دینے والا کون ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ولیہ کاملہ عارفہ ہوگی جسکا یہ جواب تو اس حالت میں آدمی کیا ناز کرے اپنے علم اور تقوی پر نہ معلوم دوسرے میں کیا چیز ہے اور خدا کے ساتھ اسکو کیا تعلق ہے کسی کو کیا خبر تھی کہ اس عورت کے اندر ایسا نور فہم ہے یہ حق تعالی کو معلوم ہے کہ کون کیسا ہے کسی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ مجھ کو عاصی سے نفرت نہیں معاصی سے نفرت ہے اس لئے پلک جھپکنے میں عاصی کا کایا پلٹ ہوجاتی ہے نیز مولوی صاحب کے اخلاص کی بھی برکت تھی کہ حقیقت پر سے حجاب اٹھ گیا ـ ایک اور آوارہ عورت کی حکایت ہے گنگوہ میں ایک درویش باہر سے آئے وہ بدعتی تھے شہرت ہوئی ایک بازاری عورت کے آشنا نے کہا کہ ایک بزرگ آئے ہیں چلو زیارت کر آئیں اس عورت نے کہا کہ ضرور چلو غرضیکہ بزرگ کی جائے قیام پر دونوں پہنچے یہ مرد تو مجلس میں جا بیٹھا اور عورت ایک طرف کسی آڑ کی جگہ میں بیٹھ گئی اس شخص سے ان بزرگ نے دیکھ کر پوچھا یہ کون ہے اس آشنا نے کہا کہ ایک ایسی ہی عورت ہے زیارت کو آئی ہے مگر اپنے اس فعل کی شرمندگی کے سبب آگے آنے کی ہمت نہیں ہوتی وہ بزرگ کیا کہتے ہیں کہ بھائی شرمندگی کی کیا بات ہے سب وہی کرتا ہے ـ وہی کراتا ہے یہ کہنا تھا کہ اس عورت کے آگ لگ گئی اور فورا کھڑی ہو کر اپنے آشنا سے کہا کہ بھڑوے تو کہتا تھا کہ بزرگ ہیں یہ شخص تو مسلمان بھی نہیں اور فورا واپس ہوگئی اب دیکھ لیجئے ـ درویش بنے ہوئے تھے جنکا باطن ایمان سے بھی قریب قریب خالی تھا اور وہ فاحشہ تھی جسکا باطن عرفان سے پر تھا تو کسی کے دل کی کسی کو کیا خبر حاصل یہ ہے کہ اپنے تقوی اور زہد پر ناز نہ کرنا چاہئے اور اسکی بناء پر دوسروں کو نظر تحقیر سے نہ دیکھنا چاہئے اور عقائد حقہ اجمال کے درجہ میں تو فطری ہی ہیں اور ہر شخص میں ہوتے ہیں اگر کسی عارض سے مختل نہ ہوگئے ہوں ـ
( ملفوظ 380)شریعت میں دشمنی کی حدود مقرر ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت میں جو لوگ شریک تھے سب بدنیت نہ تھے بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ جو صلحا شریک تھے انکی نیت اچھی ہی تھی مگر طریق کا غلط تھا اور ایک کمی یہ تھی کہ جوش سے کام لیا گیا ـ حالانکہ کام وہی مفید ہوتا ہے جو ہوش سے کیا جائے شریعت میں تو دشمنی تک کے بھی حدود میں اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہی ہے جو دوسرے ادیان والے نہیں دکھلا سکتے کہ وہ دشمنوں کی بھی رعایت کرتا ہے نیز ہم جس طرح مخالفین کے دشمن ہیں اپنے دوست بھی تو ہیں اس غلو میں اپنی بھی مضرت ہے سو اس حالت میں کچھ نہیں مگر اپنی تو خیر خواہی کرنا چاہئے اور صاحب بے ڈھنگے پن سے جان نہیں دیجاتی یہ تو اطمنان ہو کہ جسکے لئے جان دے رہے ہیں وہ بھی راضی ہیں اور یہ جان دینا انکے احکام اور مرضی کے خلاف نہیں ہے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں آجکل آئینی جنگ کے معنی یہ ہیں کہ خدع فریب جھوٹ اور آجکل کے کفار اس فن کے امام ہیں اس کو کوئی ان سے سیکھ لے بعض لوگ مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ جو کہتے ہو کہ انگریزوں سے معاہدہ ہے سو وہ معاہدہ کب ہوا ہے میں اسکا خاص جواب دیا کرتا تھا مگر پھر ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا اور وہ تو تحریر بھی چھپی ہوئی دکھلائی وہ معاہدہ شاہ عالم سے ہوا ہے انہوں نے خوشی سے بطور ٹھیکہ کے ملک انگریزوں کے سپرد کیا ہے اور میں پہلے یہ جواب دیا کرتا تھا کہ معاہدہ کبھی قالا ہوتا ہے اور کبھی حالا اور حالا معاہدہ ہے کہ وہ ہم سے مامون اور ہم ان سے مامون ـ
( ملفوظ 379)حضرت کے معمولات میں نہ تواضع نہ کبر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اپنی تعظیم کے لئے اٹھنے کو منع کیا کرتا ہوں اسکی وجہ تواضع نہیں بلکہ میرے قلب پر دوسرے کو مقید دیکھ کر گرانی ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میرے جو معمولات ہیں وہ تواضع سے ناشی ہیں نہ کبر سے بلکہ طرفین کی راحت رسانی کے لئے ہیں اب دوسرا خواہ کچھ ہی سمجھا کرے ـ
( ملفوظ 379 )کام شروع کرنے سے قبل مقصود کو سمجھئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کام شروع کرنے سے پہلے آدمی اپنے مقصود کو سمجھ لے تب آگے قدم بڑھائے میری اس تمامتر کھود کرید کا منشا یہی ہوتا ہے جسکو لوگ سخت گیری سے تعبیر کرتے ہیں ـ
مقصود نہ معلوم ہونیکی وجہ سے آدمی منزل مقصود تک نہیں پہنچتا اور ہمیشہ پریشانی یا محرومی کا شکار رہتا ہے آلہ باد میں ایک درویش ملے بقدر ضرورت فن داں تھے مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چشتی ہو کر سماع کیوں نہیں سنتے میں نے کہا کہ میں ایک سوال کرتا ہوں پہلے آپ اسکا جواب دیں تب میں اسکا جواب دوں میں نے پوچھا کہ اس طریق کا حاصل کیا ہے کہا کہ مجاہدہ میں نے پوچھا کہ مجاہدہ کی حقیقت کیا کہا کہ نفس کی مخالفت میں نے کہا کہ اب بتلاؤ ایمان سے کہ سماع کو تماہرا جی چاہتا ہے کہا کہ چاہتا ہے میں نے کہا کہ ہمارا بھی چاہتا ہے مگر اتنا فرق ہے کہ تم تو نفس کے چاہنے پر عمل کرتے ہو اور ہم نہیں کرتے تو اب بتلاؤ مجاہدہ تم نے کیا یا ہم نے کیا صاحب مجاہدہ تم ہوئے یا ہم درویش تم ہوئے یا ہم کہنے لگے کہ اتنے زمانہ کے بعد آج غلطی سمجھ میں آئی اور ہمیشہ کے لئے سماع سے توبہ کر لی اور حضرت حاجی صاحب سے بذریعہ خط بیعت ہوئے یہ تسلیم فن سے واقفیت کی بدولت نصیب ہوئی دیکھئے انکو طریق کا معلوم تھا کسقدر جلد سمجھ گئے اور حق تعالی کا فضل ہوا واقفیت فن کے متعلق فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے کہ موسیٰ علیہ اسلام کے سامنے ساحرین بھی آئے اور فرعون واقف نہ تھا وہ سمجھا کہ یہ اس سے بھی بڑا سحر ہے ـ
سحر رابا معجزہ کردہ قیاس ہر دورابرمکر بنہادہ اساس
( فرعون نے معجزہ کو سحر پر قیاس کیا اور سمجھا کہ دونوں کی بنیاد مکر پر ـ )
( ملفوظ 377)اتباع سنت اور شہرت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اتباع سنت بڑی چیز ہے مگر اس میں شہرت نہیں ہوتا مولانا محمد حسین صاحب آلہ آبادی کا سماع میں انتقال ہوا اور مولوی محمد حسین صاحب عظیم آبادی کا جو میرے ایک دوست تھے انتقال سجدہ تلاوت میں ہوا مگر اسکی شہرت ہو گئی اسکی شہرت نہ ہوئی پھر سماع کے متعلق کچھ بیان ہونے لگا فرمایا حضرت جامی نے اسکا خوب اور مختصر فیصلہ کیا ہے ـ زندہ دلاں مردہ تناں رو رواست مردہ دلاں زندہ تناں را خطاست
( جن کے دل زندہ ہوں اور تن مردہ ہوں ان کو سماع سننا جائز ہے اور جن کے دل مردہ ہوں اور تن زندہ ہوں ان کو سماع سننا غلطی ہے ـ
( ملفوظ 376)حب عقلی اور حب عشقی میں ترجیح
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جب عقلی کو افضل فرماتے ہیں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ حب عشقی کو اور حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے جب تطبیق دی ہے مجھ کو تو وجد ہوگیا کہ حیات میں تو حب عقلی افضل ہے اور مرنے کے وقت حب عشقی ـ
( ملفوظ 375) حضرت قطب صاحب اور حضرت سلطان جی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں آج کل ایک رسالہ لکھ رہا ہوں ـ حضرات چشتیہ کی نصرت میں اسکی ضرورت سے بزرگان سلف کے ملحوظ کے دیکھنے کی حاجت پیش آئی بہت سے بزرگوں کی مجموعی حالت دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضرت قطب صاحب میں بہت زیادہ شورش ہے انکی ہر حالت میں عشق کا رنگ ہے اور سب میں زیادہ سنبھلے ہوئے حضرت سلطان جی ہیں انکے ملفوظات میں علم کا رنگ ہے ـ

You must be logged in to post a comment.