( ملفوظ 374) حضرت نانوتوی کے انتقال پر حضرت گنگوہی کا مقولہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال پر فرمایا تھا ( جس سے حضرت کا عشق معلوم ہوتا ہے ) کہ اگر میرے پاس ایک چیز نہ ہوتی تو میں ہلاک ہو جاتا اور دریافت کیا گیا کہ حضرت وہ کیا چیز ہے فرمایا وہی چیز جس کی وجہ سے تم مجھ کو بڑا سمجھتے ہو ـ میں اس سے یہ سمجھا کہ اس مراد تعلق مع اللہ ہے ـ

( ملفوظ 373)بزرگوں کے بارے میں فاسد اعتقاد

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل فساد اعتقاد کا بہت غلبہ ہے ـ تسبیح چلانے والوں کو سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ان کے قبضہ میں ہے ـ جہاں تعویذ دیا جا یا دم کر دیا بس آرام ہو گیا ـ طبیب کے یہاں سے نسخہ لاکر کبھی نہیں سمجھتے کہ ایک ہی نسخہ پی کر آرام ہو جائے گا ـ وہاں تو کہتے ہیں کہ کوئی کھیل ہے کم از کم تین دن تو پی لیں پھر اطلاع دیں گے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بزرگوں سے حسن اعتقاد کی وجہ سے غالبا ایسا سمجھتے ہوں گے فرمایا کہ یہ حسن اعتقاد نہیں شریعت کے خلاف ہونے سے فساد اعتقاد ہے ـ

( ملفوظ 372) مکمل اور واضح گفتگو کرنا چاہئے

ایک شخص نے تعویذ مانگا اس کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ پوری بات کہا کرتے ہیں ـ یہ اذیت پہچانا کہاں سے سیکھی ہے ـ جاؤ تم نے دل برا کردیا اس وقت نہ ملے گا آدھ گھنٹہ کے بعد آو اور آ کر پوری بات کہو اس وقت کی گفتگو کے بھروسہ نہ رہنا اس وقت ک بات تو مجھے یاد رہے گی ـ

( ملفوظ 371)مسائل کلامیہ میں متکلمین کے موقف کی وضاحت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ متکلمین نے مسائل کلامیہ میں جتنے دعوے کئے ہیں ـ ان میں بعض پر جزم نہیں کرنا چاہئے ـ مثلا وہ کہتے ہیں کہ روئیت بے کیف ہوگی بے جہت ہوگی صحابہ کا تو مذہب اس میں یہ تھا کہ کیا خبر کیسی ہوگی واللہ اعلم ان تفصیلات کی وجہ سے بعض متقدمین ان متکلمین کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ کہتے ہیں ـ جیسے بدعتی کے پیچھے مگر میری سمکجھ میں الحمدللہ اس کا فیصلہ آگیا وہ یہ کہ اگر ان تفصیلات کو باطل فرقوں کے دعوں کے مقابلہ میں منع کر درجہ میں رکھا جاوے دعوی نہ کیا جاوے گو بصورت دعوی کے ہوں مگر مقصود دعوی نہ ہو تو بدعت نہیں ـ اور واقعی دعوی خطرناک ہے تو اسی توجیہ کی بناء پر متکلمین کے بے حد معتقد ہوں انہوں نے حق کی بڑی نصرت کی ہے اور یہ نصرت بڑی عبادت ہے ـ

( ملفوظ 370)طریق کی غیر مقصود اشیاء بعض کے لئے خطرناک ہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طریق میں بعض چیزیں محمود ہیں مگر مقصود نہیں اور یہ غیر مقصود بعض کے لئے خطرناک بھی ہیں ـ خصوص علوم مکاشفہ ـ

( ملفوظ 369) حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی کا عملی اختلاف اور حضرت حاجی صاحب کا فیصلہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے راجوپور کے ایک صاحب سے جن کے خاندان کے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تعلقات تھے یہ واقعہ سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حضرت مولانا گنگوہی حج کو تشریف لئے جا رہے تھے ـ جہاز میں ایک مسئلہ میں گفتگو ہوگئی جب کوئی فیصلہ نہ ہوا تو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے فرمایا کہ اب گفتگو ختم کی جاوے اس کا فیصلہ حضرت فرمائیں گے ـ حضرت مولانا گنگوہی نے فرمایا کہ حضرت فن تصوف کے امام ہیں ان علوم کا فیصلہ حضرت کس طرح فرما سکتے ہیں یہ علمی بحث ہے یہ رائے حکیمانہ تھی ـ حضرت مولانا گنگوہی کی ـ حضرت مولانا قاسم صاحب نے فرمایا کہ اگر حضرت ان علوم کو نہیں جانتے تو ہم فضول ہی حضرت سے تعلق پیدا کیا ـ ہم نے تو حضرت سے تعلق ان ہی چیزوں کے جاننے کے واسطے کیا ہے ـ یہ رائے عاشقانہ تھی کیا ٹھکانا ہے ـ اس عاشقانہ حالت کا غرض مکہ معظمہ پہنچ کر حضرت کے سامنے مسئلہ پیش بھی نہیں ہوا ـ مگر حضرت نے خود کسی تقریر میں پورا فیصلہ فرمادیا اور اکثر غامض مسائل کا وہاں حل ہو جاتا تھا ـ حتی کہ بعض اوقات درسی اصطلاحی الفاظ تقیریر میں ہوتے تھے ایک دفعہ کسی کو شبہ ہوا کہ علوم تو الہامی ہوتے ہیں مگر اصطلاحات تو مکتسب ہوتی ہیں ـ حضرت کو عہ اصطلاحات کیسے معلوم ہوئیں ـ حضرت نے از خود فرمایا کہ الہام کبھی بوسطہ الفاظ کے ہوتا ہے اور کبھی بلا واسطہ کے مگر باوجود اتنے بڑے انکشاف کے اس پر اعتماد نہ تھا ـ فرمایا کرتے تھے کہ الہام بھی وہی معتبر ہے جوکتاب و سنت کے موافق ہو بہرحال اس مسئلہ کا پانچ منٹ میں حضرت نے فیصلہ کردیا ـ اس پر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی تو مسرت کی کوئی انتہا نہ تھی ـ اور حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی حیرت کو کوئی انتہا نہ تھی ـ

( ملفوظ 368)تحریکات میں عدم شرکت پر ایک صاحب کے اعتراض کا جواب

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں جب دل کو ٹٹولتا ہوں کہ اگر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ دونوں حضرات زندہ ہوتے تو اس تحریک میں کون شریک ہو جاتے مگر حفاظت حدود کے ساتھ اور حضرت مولانا گنگوہی مال پر نظر فرما کر ہرگز ہرگز شرکت نہ فرماتے جیسا میرا مذاق عدم شرکت کا ہے ـ جس وقت حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ مالٹے سے تشریف لائے ـ میں زیارت کے لئے دیوبند حاضر ہوا ـ ایک صاحب معترضانہ مجھ سے کہنے لگے آپ کو تو معلوم ہوگا کہ آپ کے بزرگ عذر میں اٹھے تھے ـ میں نے کہا کہ مجھ کو یہ معلوم ہے اور اس کے ساتھ ایک بات اور بھی معلوم ہے جو آپ کو معلوم نہیں یا غور نہیں کیا وہ یہ کہ وہ اس کے بعد بیٹھ گئے تھے اور آخری فعل ناسخ ہوتا ہے اور منسوخ پرعمل کرو اور میں ناسخ پرعمل کرتا ہوں تو بتلاؤ اپنے بزرگوں کا تابع کون ہوا جواب نہیں دے سکے ـ

( ملفوظ 367)گاندھی دجال سے کم نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ گاندھی کم بخت بھی دجال سے کچھ کم نہیں نہ معلوم لوگوں کے ایمان برباد کئے اور دجال ہی کیا کرے گا وہ بھی یہی کرےگا ـ

( ملفوظ 366) ظہور دجال کے وقت نمازوں کی تحقیق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دجال غلط احکام ہی کے لئے تصرف کرے گا جیسا ایک ملفوظ پہلے حضرت مولانا گنگوہی کا ارشاد اس کے ایک خاص تصرف کے متعلق ایک حدیث سے مستنبط کیا ہوا گزرا یہ تصرف نمازوں میں خلط کی غرض سے کریگا مگر وہ تصرف محدود ہو گا جہاں تک اس کا تصرف ہوگا وہاں تک اوقات میں یہ تلبیس ہوگی ـ اور اس سے آگے نہیں ہوگی ـ ایک صاحب کے سوال کیا کہ جہاں عشاء کا وقت واقع ہی میں نہیں آتا وہاں نماز کا کیا حکم ہے جواب میں فرمایا کہ اس میں دو قول ہیں یہ بھی ہے کہ جہاں وقت نہیں آتا نماز فرض نہیں ہوتی ـ

( ملفوظ 365) انگریزوں اور ہندوؤں کا اختلاف محض سیاسی ہے ـ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا گو کفار کسی اپنی مصلحت سے مسلمانوں کی کچھ رعایت کریں مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ اسلام کو اپنے لئے مضر سمجھتے ہیں اور اس واسطے اس کے مٹانے کی فکر میں ہیں ـ خوب سمجھتے ہیں کہ جب مسلمان باقی ہیں ـ ہم چین سے سلطنت نہیں کر سکتے ـ اور ایک یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں کا ان کے ساتھ اختلاف محض مطالبات سیاسی کے لئے ہے اگر وہ پورے کر دیئے جاویں اختلاف ختم ہو جاوے گا ـ اور مسلمانوں کا اختلاف مذہبی ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا ـ اسی وجہ سے مسلمانوں کو اصلی مخالف سمجھتے ہیں ـ