( ملفوظ 353) حضرت گنگوہی کی انتظامی شان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ واقعی حضرت اپنے وقت میں اس فن کے مجتہد تھے اس کے ساتھ ہی حضرت انتاظمی شان بڑی تھی خصوص شریعت کی حفاظت میں ایک مرتبہ امیر شاہ خانصاحب نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فتوے کے متعلق جس میں کچھ توسع فرمایا گیا تھا حضرت کو ایک خط لکھ مارا کہ جب آپ حضرت ایسی باتوں کو جائز کہیں تو بدعتی نہ معلوم کہاں پہنچ جائیں گے لکھنے کو تو لکھ لوں گا مگر اسکے بعد متنبہ ہوا کہ ایسا لکھنا سوء ادب ہے دوسرا خط لکھا کہ ایک خط ایسی بے ادبی کا لکھ چکا ہوں اور نادم ہوں امید ہے کہ احقر کو معاف فرمائیں گے حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا کہ امیر شاہ خانصاحب مجھے حیرت ہے کہ اظہار حق کے بعد ندامت مجھ کو تو جیسے پہلے خط سے خوشی ہوئی تھی دوسرے سے اتنا رنج ہوا یہ تھی ان حضرات کی شان حفاظت شریعت کی ـ

( ملفوظ 352) حضرت حاجی صاحب کا ملازمت چھوڑنے سے منع کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس وقت اپنے فن کے مجتہد تھے امام تھے حضرت کی بصیرت دیکھئے اللہ اکبر ناجائز ملازمت کے چھوڑنے کی اجازت نہ دیتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ اگر معصیت وقار یہ ہو کفر کی تو ایسی معصیت کو کفر پر ترجیح ہوگی وجہ یہ ہے اب تو گناہ ہی مبتلا ہے اور ملازمت چھوڑدینے کے بعد افلاس کا شکار ہوگا جس سے ضعف طبیعت کی وجہ سے بعض کے لئے اندیشہ ہے کفر کا اسلئے فرماتے تھے کہ پہلے جائز ملازمت تلاش کر لو پھر نا جائز کو چھوڑ دو معمولی علماء بھی ایسی تحقیقات بیان نہیں کر سکتے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے ایک مرتبہ حضرت کو لکھا کہ اگر اجازت ہوتو ملازمت چھوڑ دوں اس وقت مولانا مطیع مجتبائی میں دس روپیہ تنخواہ پر ملازم تھے حضرت نے کیا عجیب جواب لکھا کہ مولانا ابھی تو آپ پوچھ رہے ہیں یہ پوچھنا دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور حالت خامی میں ملازمت کا چھوڑنا موجب پریشانی اور تشویش کا ہوگا جب مولانا کو یہ جواب فرمایا گیا تو اور کس کا منہ ہے قوت کے دعوے کا البتہ اقویاء کا دوسرا حکم ہے چناچہ خود حضرت پر پڑے سخت وقت گزرے ہیں مگر حضرت نے کبھی اسباب و تدابیر کا اہتمام نہیں فرمایا اور حضرت کی تو بڑی شان تھی حضرت کی صحبت کی برکت سے حضرت پیرانی صاحبہ کو لکھا کہ پہلے تو ہم خدام بے فکر تھے حضرت کی وجہ سے اب حضرت کی وفات ہو گئی تو ہم خدام آپ کی ضروریات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ یہانپر رہنا چاہتی ہیں یا نہیں یا مکہ ہی میں تاکہ اسی جگہ راحت کا انتظام کر دیا جاوے جواب آیا کہ ہم اسوقت عدت میں ہیں جسمیں خروج جائز نہیں تو خروج کا تذکرہ بھی مناسب نہیں عجیب بات تحریر فرمائی جس سے اکابر مشائخ کی سی شان تحقیق معلوم ہوتی ہے یہ باتیں ہیں قابل وجہ غرض میں عدت کے ختم ہونے کا منتظر رہا جب عدت ختم ہوگئی میں نے پھر لکھا کہ اب تو عدت ختم ہوگئی اب کیا حکم ہے اور میں نے یہ بھی عرض کیا کہ ہمیں سہولت تو آپ کے یہاں آجانے میں ہے جواب آیا کہ میں عورت ہوں ناقص العقل ہوتی ہے میری کیا رائے تم اور مولانا رشید احمد صاحب مشورہ کر کے جو تجویز کر دیں میں اسی کی تعمیل کرونگی پھر میں نے حضرت مولانا سے مشورہ کیا حضرت نے وہاں ہی کے قیام کو ترجیح دی میں نے پیرانی صاحبہ کو اطلاع کر دی اور ارادہ کیا کہ وہاں رہنے کی حالت میں کچھ انتظام مالی خدمت کا کر دیا جاوے مگر سامان یہ ہوگیا کہ ایک رئیس نے بقدر کفایت ماہوار مقرر کر دیا اور تا حیات جاری رکھا اس لئے بے فکری ہو گئی ـ
24 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 351)ادب السیاسیہ یعنی اصلاح کے آداب

( ملقب بہ ادب السیاستہ ) ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا مواخزہ فرمارہے تھے ان سے جواب طلب ہو رہا تھا وہ صاحب خاموش تھے ایک صاحب نے جو کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ان صاحب سے خطاب کیا کہ آپ جواب دیجئے اسپر حضرت والا نے ان سے فرمایا کہ بس آپ دخل نہ دیجئے آپ کو میں نے وکیل نہیں بنایا آپ کیوں داخل در معقولات دیتے ہیں اس طرز میں بڑے مفسدے ہیں ایک مفسدہ تو یہ ہے کہ ایک غریب پر چہار طرف سے ہنگامہ پرپا ہو جاتا ہے جس سے اسکی دلشکنی ہوتی ہے دوسرے یہ کہ مخاطب کو مجھ سے تو محبت ہے اس لئے اس کو میری ہر بات گوارا ہوگی اور تم سے محبت نہیں اس لئے اس کو ناگواری ہوگی اور ایک تیسری بات ان دونوں سے باریک ہے جس پر بدون غور کے نظر پہونچنا مشکل ہے وہ یہ کہ میری اس میں اہانت ہے اب تو کافی نہیں ہمارے جوڑ لگانے کی ضرورت ہے اور ان ناصح صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ آپ کو بیٹھے بٹھلائے کیوں جوش اٹھا آدمی کو پہلے اپنی فکر چاہئے یہ سب فضول باتیں بے فکری سے ہوتی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس طریق کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں اس طریق میں پہلا قدم اپنے کو مٹانا فنا کرنا ہے یہاں پر آنیوالوں کو تو ایسا رہنا چاہئے کہ دوسرا سمجھ ہی نہ سکے کہ کوئی یہاں پر رہتا بھی ہے عرض کیا کہ معاف کیجئے غلطی ہوئی آئندہ انشاءاللہ تعالی کبھی ایسی غلطی نہ ہوگی فرمایا کہ معافی تو میں کوئی انتقام تھوڑی ہی لے رہا ہوں معاف ہے مگر کیا غلطی پر متنبہ بھی نہ کروں ہمیشہ اس کا خیال رکھئے کہ جہاں پر آدمی جائے اول وہاں کے اصول اور قواعد اور آداب معلوم کرے ـ ہر جگہ کے جدا اصول اور قواعد ہوتے ہیں دوسرے آدمی کو نئی جگہ میں بولتے ہوئے ویسے بھی تو حجاب ہوتا ہے خصوصا میرے یہاں آنیوالوں کو اور رہنے والوں کو تو اس کا مصداق بنکر آنا اور رہنا چائے
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے راہا کسے کارے نباشد
ان ہی بدتمیزوں کی وجہ سے میں ایسے لوگوں سے جن سے بے تکلفی نہ ہو یا بے تکلفی ہو مگر اس شخص میں سلیقہ نہ ہو کوئی خدمت نہیں لیتا اس لئے کہ اس حالت میں بجائے راحت کے تکلیف ہوتی ہے اب پنکھا ہی ہے اس کو کھنچنے میں بعض بدتمیزی کرتے ہیں مشین بنجاتے ہیں اس کا بھی خیال نہیں کرتے کہ مجلس سے کوئی اٹھ رہا ہے اس کے سر میں لگ جاویگا کچھ پروا نہیں اور میں تو عین مواخزہ کی حالت میں بھی مخاطب کی رعایت رکھتا ہوں کہ اس کی اہانت نہ ہو ذلت نہ ہو اور اہانت تو وہ کریگا جو اپنے کو اس سے افضل خیال کرتا ہو میں سچ عرض کرتا ہوں کہ عین مواخزہ کے وقت بھی میں اسی کو اپنے سے افضل اور بہتر سمجھتا ہوں اور اسوقت اسکا استحضار ہوتا ہے کہ معلوم نہیں خدا تعالی کے نزدیک بوجہ نورانیت کے اس کی بات پسند ہو اور میری ناپسند ہو اسوقت مجھ پر خوف کا غلبہ ہوتا ہے ڈرتا رہتا ہوں تو بھلا ایسا شخص کیا کسی کی دل سے اہانت کر سکتا ہے یا اس کو ذلیل سمجھ سکتا ہے ـ اب رہا یہ شبہ کہ عتاب کی حالت میں معتوب کو ذلیل نہ سمجھے یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں تو بعض اکابر نے اس کی ایک عجیب مثال فرمائی ہے کہ کسی شہزادے کے کسی جرم پر بادشاہ بھنگی کو حکم دے کہ اس کے بید لگاؤ تو عین بید لگانے کے وقت کیا بھنگی اپنے کو شہزادے سے افضل سمجھے گا ہرگز نہیں یہ ہی سمجھیگا کہ شہزادہ شہزادہ ہی ہے میں میچارہ بھنگی میرا کیا ہستی مگر چونکہ بادشاہ کا حکم ہے اس فرض کو پورا کر رہا ہے اور یہ خیال بھی لازم حال ہے کہ اگر حکم کے خلاف ہاتھ ہلکا بھی پڑا تو کہیں اسکی جگہ میں رکھا جاؤں ان دونوں کو جمع کرنیکی مثال اس سے زیادہ واضح دوسری نہیں ہو سکتی اسی طرح واللہ کھبی وسوسہ بھی میرے قلب میں اس کی اہانت کا نہیں ہوتا اسی کو افضل سمجھتا ہوں مگر چونکہ حکم ہے اس لئے کہنے کی بات کہتا ہوں اصلاح کا کام سپرد ہو گیا ہے اس لئے ضروری بات نہ کہنے کو خیانت سمجھتا ہوں حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ کے اخلاق اظہر من الشمس ہیں مگر اخیر میں سنا ہے کہ ، حضرت بعض لوگوں کے متعلق یہ رائے ظاہر فرمادیتے تھے کہ ایسے متکبرین کا علاج تھانہ بھون ، ہو سکتا ہے ہمارے مجمع میں حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری بے انتہا خلیق تھے ان کا اخلاق کی یہ حالت تھی کہ جو کسی نے دوا بتائی کھا لی بعض دفعہ اس سے تکلیف بھی ہو جاتی لیکن اگر وہ ، شخص پوچھتا ہے کہ حضرت کو دوا نے نفع دیا فرماتے بڑا فائدہ ہوا اور میری حالت یہ ہے کہ اکثر طبیب بھی آتے رہتے ہیں اگر وہ کسی موقع پر مجھ سے کسی دوا کے استعمال کو کہتے ہیں تو میرا معمول ہے کہ میں صاف کہدیتا ہوں کہ میرے معالج فلاں حکیم صاحب ہیں آپ ان کو مشورہ دیجئے میں ان کے کہنے ، سے کھالوں گا آپ کے کہنے سے نہیں کھاؤں گا غرض مجھ سے ان کے اخلاق بدر جہاز بڑھے ہوئے تھے ، لیکن باوجود اس کے اخیر میں جب حضرت مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور اسمیں بھی لوگوں نے چین نہیں دیا تب فرمایا کہ واقعی اشرف علی کے ضوابط اور قواعد کی سخت ضرورت ہے یہ مقولہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری کا ہے خود پیر و مرشد حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اخلاق کی یہ حالت تھی کہ ایک خانصاحب آپ کی خدمت میں اکثر دوپہر کے وقت آیا کرتے وہی وقت ، حضرت کے آرام کا ہوتا تھا مگر ان کی وجہ سے دوپہر میں بیٹھے رہتے اور کبھی منع نہیں فرمایا ایک روز حافظ محمد ضامن صاحب نے دیکھ لیا فرمایا کہ خانصاحب رات بھر تو جوروکی کی بغل میں پڑے سوتے رہتے ہو اور اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والے رات کو جاگتے ہیں یہ دوپہر کو قیلولہ کر لیتے ہیں اسمیں بھی آکر تم مخل ہوتے ہو خبردار جو کبھی دوپہر میں آئے جب خانصاحب کا آنا بند ہوا مگر حضرت نے اپنی زبان سے کبھی منع نہیں فرمایا مگر باوجود ان اخلاق کے اب حضرت کی رائے کا واقعہ یہ ہے کہ مولوی ظفر احمد حضرت ، مولانا خلیل احمد صاحب سے بیعت ہیں انہوں نے ایک روز حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء کر دیجئے کہ میں صاحب نسبت ہو جاؤں حضرت نے فرمایا کہ صاحب نسبت تو ہو مگر اصلاح کی ضرورت ہے لیکن اگر اصلاح کراؤ تو اپنے ماموں سے کرانا اس سے میں مراد ہوں تو دنیا میں رہنے والوں کی اور آخرت میں دیکھنے والوں کی سب بزرگوں کی ، رائے یہاں کے قواعد اور ضوابط اور اصول کے نافع ہونے پر متفق ہے ـ

( ملفوظ 350)ہدیہ لینے میں حضرت کا معمول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ہدیہ میں یہ میرا معمول ہے کہ دو چیزونکو دیکھتا ہوں ایک تو یہ کہ ہدیہ میں کامل شوق ہو میں ایسے شخص کی خدمت کو منظور کر لیتا ہوں اور ایک یہ کہ ایک دن آمدنی سے زائد نہ ہو اسمیں حکمت یہ ہے کہ بعض اوقات شوق کے غلبہ میں اپنے مصالح پر نظر نہیں رہتی مگر اپنا جی چاہتا ہے کہ جو اپنے سے محبت کرے اسکو بھی تکلیف نہ ہو اسلئے مصلحت سے زیادہ مقدار میں لینا اچھا نہیں معلوم ہوتا ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہدیہ دینے کے وقت ہیئت اور صورت ایسی ہونی چاہئے کہ لینے والی کو اسمیں ذلت کا شبہ نہ ہو اور یہ تو ہدیہ ہے جس میں آداب کی ضرورت ظاہر ہے میرا تو یہ مذاق ہے کہ جو میرے تنخواہ دار ملازم ہیں ان کے سامنے بھی تنخواہ کا روپیہ کبھی پھینکتا نہیں اکرام کے ساتھ سامنے رکھدیتا ہوں اسلئے کہ نوکری کی حقیقت ہے منافع بدنیہ کا معوضہ اعیان مالیہ سے اور جہاں دونوں جانب اعیاں مالیہ ہوں جیسے تجارت وہاں کوئی شخص متاع کی قیمت بصورت اہانت ادا نہیں کرتا اور منافع بدنیہ زیادہ بڑے ہوئے ہیں منافع مالیہ سے سو جب تجارت میں تاجر کی اہانت نہیں کیجاتی تو ہمکو کیا حق ہے نوکر کی اہانت کا ـ

( ملفوظ 349)بے تکفی اور بے ادبی میں حفظ حدود

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تکلف تو کسی کے ساتھ بھی نہ ہونا چاہئے باقی بڑوں کے ساتھ گو تعظیم نہ ہو مگر ادب ضرور ہونا چاہئے ایسا بے تکلف ہوجانا جو مساوات کا رنگ پیدا کرے یہ بے تکلفی نہیں بلکہ یہ گستاخی ہے اور اتنا بے تکلف ہو جانا جو بے ادبی کے درجہ میں پہنچ جائے کبر سے ناشی ہے اور حالا دوسروں پر یہ ظاہر کرنا ہے مجھکو اسقدر قرب حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں اسلئے اسکا منشاء کبر ہے ـ

( ملفوظ 348)امراء کی طرف رغبت ٹھیک نہیں گو نیت صحیح ہو ـ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل درویشوں کی دو قسمیں ہیں ایک محق ایک مبطل پھر محق کی دو قسمیں ہیں ایک محقق ایک غیر محقق باستثناء محققین کے کہتا ہوں کہ آج محقق بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو باوجودیکہ وہ ال حق ہیں دکاندار نہیں مگر پھر بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو گو انکی نیت بری نہیں مگر پھر بھی اس مذاق کا ضروری زیادہ ہے اس لئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس سے بہت سختی کے ساتھ نفرت رکھتے تھے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں سے تعلق رکھنے میں گو حب دنیا بھی نہ ہو تب بھی بڑا مفسدہ ہے جسکا بکثرت مشاہدہ ہو رہا ہے اور کہ ایسی بات ہے کہ بجز اہل بصیرت کے اسکو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ایک صاحب کے سوال پر کہ اگر کسی جائز مصلحت کے لئے تعلق رکھا جاوے تو کیا حرج ہے فرمایا کہ ہر جائز چیز سے بھی تو طبائع سلیمہ کو رغبت نہیں ہوتی مثلا اوجھڑی کا کھانا جائز ہے مگر لطیف المزاج کو اس سے طبعی نفرت ہے اکثر مدرسہ والے بھی ان ہی خیالات میں مبتلا ہیں گو ان کے مقاصد اور نیت بری نہیں مگر اسکا انجام دیکھ کر مجھکو تو طبعی نفرت ہے اس طریقہ کار سے ـ

( ملفوظ 347)چشتیہ کے یہاں فنا اول قدم ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک شخص مجھے کہتے تھے کہ حضرات علما دیوبند درویش ہیں مگر اپنے کو چھپاتے ہیں فرمایا کہ یہ تو درویش کے لوازم سے ہے ایسے سمجھنا لغو نہیں خصوص چشتیہ کے یہاں تو شہرت کی سخت ممانعت ہے وہ اس کو حجاب سمجھتے ہیں چشتیہ میں فنا کا بہت زیادہ غلبہ ہے اپنے کو مٹائے ہوئے ہیں وہ نہ کشف کو کمال سمجھتے ہیں نہ کرامت کو نہ الہام کو انکے یہاں فنا ہو جانا مٹ جانا اول قدم ہے بس انکی تو یہ حالت ہے ـ
عشق آں شعلہ است کو چوں بر فروخت ہچہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغ لا در قتل غیر حق براند در نگر آخر کہ بعد لاچہ ماند
ماند الا اللہ باقی جملہ رفت مرحبا اے عشق شرکت سوزتفت

( ملفوظ 346)تعویذات کے سلسلہ میں حضرت کا واقعہ

ایک شخص نے آ کر تعویذ مانگا فلاں چیز کے لئے تعویذ کی ضرورت ہے حضرت والا نے اور کام چھوڑ کر تعویذ لکھنا شروع کیا اور فرمایا کہ چونکہ اس نے پوری بات کہی میں نے سب کام چھوڑ کر اس کا تعویذ لکھدیا میرے یہاں تو اگر کوئی اصول سے کام لے ایک منٹ کی بھی دیر نہیں ہوتی فورا کام ہو جاتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر ہر قسم کے تعویذ پہلے سے لکھ کر رکھ لئے جائیں تو بڑی سہولت ہو فرمایا کہ یہ تو کبھی خیال نہیں آیا کہ لکھ کر تعویذ رکھ لئے جائیں مگر سہولت کی ایک صورت اس سے بھی زیادہ تجویز کی تھی کہ جو شخص تعورذ لینے آئے اسکو بسم اللہ لکھ کر دیدیا کرونگا نہ لوگ سوال و جواب کی گڑبڑ میں پڑیں گے نہ میں الجھونگا اسکے بعد ایک روز دو شخص آئے میں نے بدون ان سے دریافت کئے بسم اللہ لکھ کر تعویذ دیدو یا وہ لے کر چلے گئے میں اس تجویز پر بہت خوش تھا کہ یہ اچھا طریقہ ہاتھ آیا مجمع میں اس کو بیان کرنے لگا ایک صاحب نے مجھے کہا کہ کچھ خبر بھی ہے کہ کیا نتیجہ ہو اور آپس میں یہ کہتے جارہے تھے کہ ہم نے کچھ کہا بھی نہیں اور ان کو دلکی خبر ہوگئی میں نے کہا کہ یہ تو اس سے بھی بڑا مفسدہ آخر اس تجویز کو چھوڑ دیا لوگ بھی بڑے ہی حضرات ہیں ان کا کہاں تک کوئی انتظام کرے ـ

( ملفوظ 345)سلف کا زہدنی الدنیا کا حال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گویا اس دنیا میں رہتے ہی نہیں تھے کسی اور ہی عالم میں رہتے تھے انکی بات چیت بھی اور رنگ کی کھانا پینا بھی اور ہی رنگ کا ہر بات ہر کام میں رنگ ہی اور تھا اور ساری عمر اسی میں ختم کر گئے کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کے تعلق مع اللہ کا اور کسی کام کے رہے ہی نہ تھے ـ
23 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

( ملفوظ 344)اہل اللہ کی عقل کامل ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کرتا ہوں کہ اگر کسی دنیا بھی حاصل کرنا ہو تو وہ اللہ والوں کی صحبت حاصل کرے کیونکہ ان کی عقل نورانی ہوتی ہے قلب صاف ہوتا ہے حقائق منکشف ہوتے ہیں گو تجربہ نہیں ہوتا مگر جن چیزوں میں عقل کی ضرورت ہے ان میں ان حضرات کو کامل دسترس ہوتی ہے ـ