ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کے ساتھ توریت انجیل بھی پڑہایا کرتے تھے مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب کے زمانہ میں اسکے ثمرہ کا ظہور ہوا واقعہ یہ ہے کہ ایک پادری آیا بعض اہل بدعت کے بہکانے سے اس نے حضرت شاہ اسحاق صاحب کا نام لے کر مناظرہ کا اعلان کیا بہکانے کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحب سے عداوت تھی جانتے تھے کہ شاہ صاحب کو اس سے کیا مناسبت ـ ہار جائیں گے ذلت ہوگی نفسانیت بھی کیا بری چیز ہے یہ نہ سمجھا کہ اگر ایسا ہوا تو نعوذ باللہ اسلام کی ذلت ہے شاگردوں نے یہ دیکھ کر کہ مولانا کو کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا یہ عرض کیا کہ حضرت ہمکو مناظرہ کی اجازت دیجاوے فرمایا کہ وہ میرا نام لے کر اعلان کرے اور میں خاموش بیٹھا رہوں مجھکو غیرت آتی ہے اب شاگردوں میں بڑی کھلبلی پڑی مگر یہ کون کہہ سکتا تھا کہ آپ کوعسائیوں کے مناظرہ سے مناسبت نہیں کیونکہ ایسے مناظروں میں عادۃ الزامی جوابوں کی ضرورت ہوتی ہے قلعہ میں مناظرہ ٹھرایا عذر کے زمانہ سے قبل کا واقعہ ہے حضرت شاہ صاحب مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے مناظرہ ہوا حضرت شاہ صاحب نے توریت و انجیل کے حوالہ سے جواب دینا شروع کئے پادری کو شکست ہوئی لوگوں کو بڑا تعجب ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپکو ان جوابوں کی کیا خبر فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کیساتھ توریت اور انجیل بھی پڑھایا کرتے تھے یہ قصہ بیان کر کے فرمایا کہ ضرورت کی بنا پر میری رائے ہے کہ مدارس میں تین چیزوں کی تعلیم کا اور اضافہ کر دیا جائے ایک ریلوے قانون کا دوسرے ڈاکخانہ کے قواعد کا تیسری فوجداری کی دفعات کا تاکہ جرم کی حقیقت سے واقف ہو جائیں بعض مرتبہ جرم کی حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے جرم کا ارتکاب ہو جاتا ہے ـ
( ملفوظ 342)بزرگوں کا مالی معاملات میں دخل نہ دینا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت سنی ہے کہ ایک شخص نے بہت بڑی رقم آپ کے سامنے پیش کی آپ نے فرمایا مجھ کو اس وقت حاجت نہیں عرض کیا کہ حضرت کسی مصرف خیر میں صرف فرما دیجئے فرمایا کہ میں کوئی تمہارا نوکر ہوں جو تقسیم کرتا پھروں خود صرف کر دو یہاں سے تقسیم کرنا شروع کرو گھر تک نہ پہنچو گے کہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گی حضرت مولانا قاسم صاحب کو بریلی میں ایک صاحب نے پانچ چھ ہزار روپیہ یا اس سے زائد دینا چاہا ـ حضرت نے انکار فرمادیا اس نے بھی وہی بات کہی کہ کسی مناسب مصرف میں صرف کر دیجئے آپ نے فرمایا مجھ میں اسکی بھی لیاقت نہیں اس نے عرض کیا آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میں دلیل سے کہتا ہوں وہ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں بخل نہیں اگر مجھ میں لیاقت ہوتی تو مجھ کو دیتے جب تم کو دیا تو تم ہی اسکے اہل ہو خود ہی صرف کرو عرض کیا کہ پھر کوئی مصرف ہی بتلا دیجئے حضرت کو مدارس دینیہ کیساتھ خاص شغف تھا فرمایا کہ اس رقم سے کوئی مدرسہ دینیہ جاری کر دو وہاں ضرورت بھی تھی کوئی ایسا مدرسہ نہ تھا پھر اس واقعہ پر بطور تفریح کے یہ بھی فرمایا کہ حضرت مولویوں کو مالیات میں پڑنا نہ چاہئے اور یہ مال ایسی چیز ہے کہ اسمیں بہت جلد بدنامی ہوجاتی ہے اور بدنام کرنے والے حقیقت پربھی مطلع ہونیکی کوشش نہیں کرتے بد اعتقاد ہوجاتے ہیں دہلی میں ایک متمول صاحب تھے جو میرے صرف اس وجہ سے معتقد ہوئے تھے ایک شخص نے مجھکو دو یا تین روپیہ دینے چاہے میں نے نہیں لئے انکار کر دیا اس لچر بنا پر تو معتقد ہو گئے پھر اعتقاد بھی ایسی ہی لچر بات پر ہو گئے انہوں نے ایک دنیاوی معاملہ میں مجھے سفارش چاہی میں نے نامناسب ہونے کے سبب انکار کر دیا بس اس پر غیر معتقد ہو گئی ان لوگوں کے نہ اعتقاد کا بھروسہ اور نہ بد اعتقاد کا ـ
( ملفوظ 341) حضرت حاجی صاحب اور تقریر کا اعادہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے جہاں کسی نے کسی تقریر کے اعادہ کی درخواست کی تو یہ فرماتے کہ بھائی یہاں کوئی مدرسہ نہیں ہے قیل و قال کے لئے اور کبھی یہ فرمادیتے کہ حاضرین مجلس میں سے فلاں شخص سمجھ گیا اس سے سمجھ لینا ـ
( ملفوظ 340) حضرت حاجی صاحب سے سماع سننے کی درخواست
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ روم میں ایک مولویہ سلسلہ ہے یہ لوگ اہل سماع ہیں یہ لوگ مولانا رومی کے خاندان سے ہیں اور سماع آلات کے ساتھ سنتے ہیں اس میں نے بجاتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے نے سنانے کی درخواست کی حضرت کو نہ سننا منظور تھا نہ اسکی دل شکنی فرمایا کہ میں ان فن کو جانتا نہیں تو نا اہل کے سامنے پیش کرنا فن کی نا قدری کرنا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر ہمارے فلاں مولوی صاحب ہوتے تو وہ قدر کرتے حضرت کے اس ارشاد کو بعض نے تو ان مولوی صاحب پر اعتراض سمجھا اور بعض نے یہ سمجھا کہ ان مولوی صاحب کو سماع کی اجازت ہے ـ
( ملفوظ 339) تحریکات کا دینی نقصان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان تحریکات میں یہانکے لوگ تو اپنا دشمن ہی ہیں مگر بعض عیسائی بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں چناچہ کوہ منصوری پر عیسائیوں کا ایک وفد تبلیغ کے لئے امریکہ سے آیا تھا اس میں ایک پادری تھا میرے ایک عزیز سے اس کی ملاقات ہو گئی اس نے میرے متعلق پوچھا کہ ان تحریکات میں اس کا کیا خیال ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان تحریکات کے خلاف ہے یہ سنکر اس پادری نے کہا کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن معلوم ہوتا ہے ان عزیز نے کہا کہ یہ تحریکات خود عسائیت کے خلاف ہیں تو اگر وہ اسمیں شریک ہوتے تب تو عسائیت کی دشمنی کے کیا معنی کہا کہ تم اس بات کو نہیں سمجھتے اس وقت ہندستان میں دو مذہب ہیں ایک ہندو اور ایک مسلمان اور دونوں میں بوجہ اختلاف مذہب کے تصادم ہے اسوجہ سے اپنے اپنے مذہب ہر سختی سے جمے ہوئے ہیں مگر ان تحریکات میں دونوں بہت سے کام اپنے مذہب کے خلاف کر رہے ہیں جس سے ان پر لا مذہبی کا غلبہ ہو جائے گا اور لا مذہبی کے بعد عسائیت کی قابلیت قریب ہو جاتی ہے تو تحریکات کے خلاف کرنا عسائیت سے روکنا ہے یہ راز ہے جس کو یہ شخص سمجھا ہے اور تحریکات کا مخالف ہے اس لئے ہم کہتا ہے کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن ہے پھر فرمایا کہ آج کل کی عسائیت کا پہلا زینہ لا مذہبیت ہے عیسائی ہوتے ہی وہ ہیں جو مذہب ہیں اور ان تحریکات میں مسلمانوں نے تو بلا وجہ ہی سر کٹائے نہ ہندو ہی راضی ہوئے نہ انگریز ان کو تو صرف ایک ذات راضی کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ راضی ہو جائیں تو پھر کسی کی نا راضگی سے کچھ نہیں اور وہ حق تعالی کی ذات ہے اور اب تو مسلمان اسکے مصداق ہو گئے جیسا کہ ایک صاحب سرگرم تحریفات نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ـ
اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا کیا ذلیل
ہم کو چہ رقیب میں بھی سر کے بل گئے
( ملفوظ 338) بعض متعلقین کا اختلاف اور حضرت کا طرز عمل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت کے زمانہ میں میں نے فلاں صاحب سے جو یہاں خانقاہ میں مقیم تھے کہا تھا کہ تم یہاں پر رہے ـ پلے بڑھے سب کچھ ہو مگر میں پھر بھی تمہاری رائے میں مزاحمت نہ کروں گا ـ مگر تم کو بھی یہاں رہ کر اختلاف کرنا مناسب نہیں تو اس حالت میں یہاں پر تمہارا رہنا بھی مناسب نہیں ـ ایک جگہ سے دو مختلف جواب ملنا اس میں بڑا مفسدہ ہے باقی اگر تم اپنی رائے پر عمل کرو اور طریقہ کے ساتھ کرو تو مجھ کو بحمدللہ ایسے اختلاف سے کبھی گرانی نہیں ہوتی ـ گرانی ہوتی ہے خلاف سے اور یہ بھی صرف ان کے خلاف سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں ـ تعلق کو ظاہر کرتے ہیں ـ ورنہ اوروں کی طرف سے خلاف کرنا بھی گراں نہیں ـ فلاں خاح صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں ـ کافر کہا ذرہ برابر بھی مجھ پر اثر نہیں ہوا ـ اس لئے ک وہ مخالف تھے ـ شکایت دوستوں سے ہوا کرتی ہے ـ دشمنوں سے کیا شکایت ـ ایک دوسرے صاحب کا واقعہ ہے کہ انہوں نے یہاں کا رد لکھا اور لوح پر بلا ضرورت خانقاہ امدادیہ کا نام بھی لکھ دیا ـ پھر بھی معافی چاہی میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ عمل تو اسی پر کرو جو تمہاری رائے ہے اور جب تم معافی چاہتے ہو تو اس کا اعلان کر دو کہ رائے تو میری وہی ہے جو لکھ چکا ہوں مگر میں نے جو لوح پر یہ لکھا ہے کہ یہ خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کا جواب ہے ـ کہ اسے لکھنے کی ضرورت نہ تھی جواب تو بدون اس کے بھی ہو جاتا لوگ خود سمجھ لیتے کہ فلاں فتوے کا رد ہے ـ بس اس طرح کا اعلان کر دو مگر وہ اس اعلان پر آمادہ نہ ہوئے میرا بھی دل منقبض رہا ـ میرا خاصہ ہے کہ اگر کوئی اصول صحیحۃ پر رہے تو مجھ کو محبت بدرجہ عشق ہوتی ہے اور اگر اصول کے خلاف ہوتو اس سے قلب پھر جاتا ہے ـ مگر اب دس برس کے بعد اعلان کیا میں صاف ہو گیا کیونکہ مجھ کو تو دیکھنا تھا ورنہ اعلان نہ کرنے سے میرا کوئی ضرر نہ تھا ـ اور اب اعلان کر دیا میرا کوئی نفع نہیں ہو گیا ـ نفع اور ضرر سب انہیں کا تھا ـ اور یہ ہی میں فلاں مولوی صاحب سے چاہتا ہوں جو دارالعلوم دیوبند کو بندنام کر چکے ہیں اور اب معافی چاہتے ہیں ـ ان سے بھی اس لئے انقباض ہوا کہ وہ مجھ سے ایک زمانہ میں تعلق رکھ چکے ہیں اور مجھ سے تربیت کی خدمت لے چکے ہیں گو ممکن ہے کہ ان کو ضرورت نہ ہو مگر خدمت لی تو یہی ـ ان چیزوں کا طبعی اثر ہوتا ہے پھر اس میں تو میرا معاملہ بھی نہیں ـ مدرسہ کا معاملہ ہے ـ وہ ایک چیز ہے جس سے مخلوق کو نفع ہو رہا ہے ممکن ہے اس میں کچھ کوتاہیاں ہوں اور اصلاح کی ضرورت ہو ـ اصلاح کرو نہ کہ انہدام کرنے لگو مدرسوں کو بدنام کرنے کا جو طرز اختیار کیا گیا تھا اس کے تدارک کے لئے اس اعلان کی ضرورت ہے کہ ہم نے جو طرز اختیار کیا تھا وہ غلط تھا گو مطالبات ہمارے اب بھی وہی ہیں اور مشورہ یہ ہے لیکن اگر ہماری رائے قبول نہ کی جاوے ہم پھر بھی مدرسہ کے خادم ہیں ـ بتلائے اس میں کیا ضرر ہے تو سب کی مصالح کی رعایت رکھتا ہوں ـ مگر بے اصول کام مجھ سے نہیں ہو سکتے ـ معافی بھی بے اصول نہیں ہو سکتی ـ چاہے کسی کو گوارا ہو یا نا گوار ـ کوئ راضی رہے یا نا راض اور کسی کی ناراضگی سے ہوتا کیا ہے ؟ حق تعالی راضی رہیں اور کسی کی کچھ پروا نہیں کرنا چاہئے ـ ایک اور صاحب کا واقعہ ہے جن کو محبت اور تعلق کا دعوی تھا مگر انہوں نے ایک تحریر لکھی اس میں میرے متعلق طعن آمیز کلمات لکھے تھے ـ وہ یہاں پر مہمان ہوئے ہیں ـ میں نے بحمدللہ ان کے حقوق مہمان کے ادا کرنے میں ذرا کوتاہی نہیں کی مگر جو شکایت ان سے بھی وہ اب بھی ہے اور جب تک اس کا تدارک نہ ہوگا رہے گی ـ باقی مجھے تدارک کا نہ انتظار ہے نہ استدعا ہے اسلئے کہ یہاں تکثیر سواد کی ضرورت ہی نہیں ـ یہی تو میرا گنوارا پن ہے ـ جس کی وجہ سے بکثرت لوگ مجھ سے ناراض ہیں ـ اسی اخیر کے واقعہ میں انہوں نے تو اپنی اس نکال لی مگر مجھ کو وہ نا راضی ادائے حقوق سے مانع نہیں ہوئی ـ ہاں انبساط نہیں ہوا اور ان پر ظاہر بھی کر دیا کہ میں ناراض تھا اور اور ہوں اور رہوں گا ـ مجھ کو رنج تھا اور ہے اور رہے گا ـ مجھ کو آپ سے شکایت تھی اور ہے اور رہیگی اس کو بھی صاف کہہ دیا یہ اس معاملہ کا حق تھا اس کو بھی نہیں چھپایا ـ
( ملفوظ 337) محبت کے حقوق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل محبت اور تعلق کا دعوی تو سب کرتے ہیں مگر امتحان کے وقت کورے نکلتے ہیں ـ محبت کے حقوق میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر دوست دوست سے اپنی ضرورت میں روپیہ طلب کرے اور دوست یہ پوچھے کہ کتنا تو وہ دوستی کے قابل نہیں ـ بلکہ جو کچھ پاس ہو سب پیش کردے ـ پھر وہ خواہ کل لے لے یا جزء لے لے ـ ایک شخص کی حکایت ایک کتاب میں مذکور ہے کہ ان کے ایک دوست نے مکان کے دروازہ پر آکر آواز دی ـ یہ شخص مکان سے کچھ توقف کے بعد باہر اس طرح آیا کہ ایک غلام کے سر پر روپیہ کی تھیلیاں ہیں اور خود اس شخص کی کمر سے تلوار بندھی ہے اور ساتھ ایک عورت نہایت حسین زیور سے آراستہ ہے ـ دوست نے دریافت کیا کہ یہ کیا قصہ ہے ـ کہا کہ مجھ کو یہ خیال ہوا کہ دوست آیا ہے نہ معلوم کیا ضرورت ہے اگر کسی دشمن کا مقابلہ ہے تو میں حاضر ہوں اسی لئے تلوار ساتھ لایا ہوں اگر روپیہ کی ضرورت ہے تو یہ تھیلی موجود ہے ـ اگر خادم کی ضرورت ہے تو یہ غلام حاضر ہے اگر انس کے لئے عورت کی ضرورت ہے تو یہ کنیز موجود ہے ـ یہ ہے دوستی ـ محبت پر ایک اور قصہ یاد آ گیا ـ حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ایک رئیس کے یہاں مہمان ہوئے ـ وہ رئیس نہایت منتظم تھے ـ وہ کھانوں کی ایک فہرست مرتب کر کے غلام کے دو دیتے تھے کہ یہ کھانے تیار ہوں گے ایک دن امام صاحب نے غلام سے فہرست لے کر اس میں ایک کھانے کا اضافہ کر دیا ـ جب دسترخوان پر کھانا آیا تو رئیس نے دیکھا کہ فہرست میں جو کھانے لکھے تھے اس سے زاید دسترخوان پر ایک کھانا موجود ہے اس کا سبب غلام سے دریافت کیا غلام نے عرض کیا کہ امام صاحب نے کھانے کا اضافہ کر دیا تھا جب دسترخوان پر کھانا آیا تو رئیس نے دیکھا کہ فہرست میں جو کھانا لکھے تھے اس سے زائد دسترخوان پر ایک کھانا موجود ہے اس کا سبب غلام سے دریافت کی عرض کیا کہ امام صاحب نے کھانے کا اضافہ فرما دیا تھا اس رئیس پر مسرت کا ایسا حال طاری ہوا کہ اس غلام کو آزاد کردیا ـ محض اس بناء پر کہ مہمان کی فرمائش پر اس نے عمل کیا ـ
( ملفوظ 336) کشف صحیح کے بھی حجت نہ ہونے پر ایک عملی تمثیل
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض کشف ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بالکل احتمال غلطی کا نہیں ہوتا ـ مگر پھر بھی شرعا حجت نہ ہوگا اور اس کو مستبعد نہ سمجھا جاوے کہ جب اس میں غلطی کا احتمال نہیں ـ پھر حجت نہ ہونے کی کیا وجہ ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص رمضان 29 تاریخ کو عید کا چاند دیکھتا ہے اور دیکھنا ظاہر ہے کہ حسی طور پر ہے جس میں کوئی اشتباہ نہیں پھر اس پر یہ بھی واجب ہوگا کہ قاضی سے جا کر ظاہر کرے کیونکہ ممکن ہے کہ اور بھی کوئی شہادت ہو گو اپنے علم میں یہ واحد مگر نہ سمجھے کہ واحد کی شہادت مقبول نہ ہوگی ـ تو شہادت سے کیا فائدہ کیونکہ اگر سب دیکھنے والے اپنے کو واحد سمجھ کر شہادت سے تقاعد کریں تو رویت کیسے ثابت ہو ـ غرضیکہ اس نے جا کر قاضی سے کہا مگر اتفاق سے اور کوئی شہادت نہ تھی ـ اس لئے قاضی نے کہہ دیا کہ حجت نہیں تو اس صورت میں باوجود اس کے کہ اس نے خود دیکھا اور بلا اشتباہ دیکھا مگر پھر بھی خود اس کے لئے بھی حجت نہیں ـ چناچہ یہ بھی روزہ وجوبا رکھے گا ( یعنی اس کو بھی بوجہ عید کا چاند خود دیکھ لینے کے بعد افطار کرنا جائز نہیں بلکہ روزہ ہی رکھنا واجب ہے ـ کیونکہ شہادت شرعی سے چاند ثابت نہیں ہوا ) ایسے ہی اگر کسی کو کشف ہو اور بالکل بلا تلبیس مگر پھر بھی عدم تلبیس مستلزم نہیں ـ حجت کو شیخ اکبر بعض کشوف میں تلبیس کی نفی فرماتے ہیں مگر غلطی سے یہ مشہور ہو گیا کہ وہ کشف بلا تلبیس کو حجت سمجھتے ہیں ان کے قول میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ بعض حجت ہے ـ پس مذہب منصور سب کے نزدیک یہ ہی ہے کہ کشف حجت نہیں ـ
( ملفوظ 335)مربی کی تعلیمات اھل خصوصیت کیلئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والے اپنی کوتاہیوں کو نہیں دیکھتے میرے مواخزہ پر نظر کرتے ہیں ـ اور واقعہ کا یہ خلاصہ نکالتے ہیں کہ ذرا سی بات پر خفا ہوگئے ـ یا ہم نے خدمت کی تھی ـ بگڑ گئے ـ کچھ معلوم بھی ہے کہ بدون گرفت اور سختی کے کج فہموں کی اصلاح غیر ممکن ہے ـ دیکھئے جب مربا بنانا ہوتا ہے پہلے اس کو تکلے سے کوچتے ہیں تب اسمیں شیرینی پہنچتی ہے ـ نیز اس کو آگ پر بھی ابالتے ہیں ـ اسی طرح مربی کے فعل کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ مربا بنائے ـ سو یہاں پر جب مربا بننے آتے ہیں تو یہ امور ضرور ہوتے ہیں ـ غرض شیخ تربیت کے لئے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے ـ برتاؤ کرتا ہے ـ نرمی ہو یا سختی ہو مگر یہ معاملہ اسی کے ساتھ کیا جاتا ہے ـ جو اپنے کو سپر کرتا ہے اور محبت کا مدعی بن کر آتا ہے ـ اس لئے کہ حقوق کی بھی قسمیں ہیں ـ ایک حقوق تو عامہ مسلمانوں کے ہیں ـ اور ایک حقوق اس سے آگے ہے ـ جس کا منشا تعلق ہے ـ خصوصیت کا اس کے اور قواعد ہیں ـ حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے ـ حضرت خضر علیہ السلام نے قوانین بتائے ـ ساتھ رہنے کے دیکھئے حضرت موسی علیہ السلام کی کس درجہ کی ہستی مگر خضر علیہ اسلام سے ایک خاص کام لینا چاہتے تھے ـ اس لئے انہوں نے اس اتنفاع کے شرائط بیان کئے اور خصوصیت کے لئے شرائط تو ہوتے ہی ہیں ـ اگر موسی علیہ السلام ان شرائط کو قبول نہ فرماتے تو خضر علیہ السلام ساتھ رکھنے سے یقینا عذر فرمادیتے اس کے بعد جب شرائط میں اختلال ہوا صاف کہہ دیا ھذا فراق بینی وبینک حالانکہ حضرت موسی علیہ السلام کا کوئی فعل معصیت نہ تھا ـ پس خضر علیہ السلام کا عذر کا یہ حاصل تھا کہ ہماری تمہاری موافقت نہ ہوگی ـ اور یہ تفریق ایسی تھی کہ بدون کسی وجہ کے بھی جائز تھی اس لئے افتراق کے لئے معصیت شرط نہیں ـ
( ملفوظ 334)اس طریق میں فنا و انقیاد ہے
ایک صاحب کی تحریر غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ اس طریق کا نفع چاہتے ہیں تو محو و فنا کا ثبوت دیجئے آپ تو زندگی کا ثبوت دے رہے ہیں سو اگر انقیاد نہیں ہے تو آنا بیکار اور اگر آنا چاہتے ہو تو انقیاد سے کام لو ـ

You must be logged in to post a comment.