( ملفوظ 323) تعلق مع اللہ میں استغناء کی خاصیت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلق مع اللہ میں استغناء کی خاصیت ہوتی ہے ـ جس کو بھی اللہ تعالی یہ دولت عطا فرمادیں یعنی ایمان کی معرفت کی ـ تعلق مع اللہ ہے ـ حضرت محمد یوسف صاحب تھانوی تحصیلدار یا قلعہ دار تھے ـ بھوپال میں اس وقت مولوی عبدالجبار صاحب بھی وزیر تھے ـ انہوں نے حافظ صاحب سے ملنے کی کوشش کی ـ بلایا حافظ صاحب نے تین شرطیں لگائیں کہ اگر یہ منظور ہوں تو آ سکتا ہوں ـ اول تو یہ ہے میری تعظیم نہ کریں ـ دوسرے یہ کہ میں جہاں بیٹھ جاؤں اٹھایا نہ جاوے ـ تیسرے یہ کہ میں جس وقت واپس آنا چاہوں مجھ کو روکا نہ جائے ـ وزیر صاحب نے تینوں شرطیں منظور کر لیں ـ پہنچے وزیر صاحب کے پاس وہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے کہا کہ دیکھئے شرط اول کی مخالفت ہو رہی ہے پھر ہی ادنی جگہ میں بیٹھ گئے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ حضرت یہاں آجایئے فرمایا کہ شرط ثانی کی مخالفت ہو رہی ہے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ حضرت جو عہدہ منظور فرمائیں اسکا انتظام کردوں ـ فرمایا کہ اس وقت میری تنخواہ پچاس روپیہ ہے بیوی منتظم ہوتی تو پچاس روپیہ سے کم میں بھی گزر ہو سکتی ہے مگر اب پچاس روپیہ میں بحمداللہ بخوبی گزر ہو جاتا ہے ـ سو میں یہ چاہتا ہوں کہ اس پچاس میں تو کمی نہ ہو ـ رہا عہدہ سو اس کے متعلق یہ ہے کہ چاہے بھنگیوں کا جمعدار بنا دیجئے ـ ہاں پچاس روپیہ دئے جائیں ـ بس کافی ہے ـ یہ کہہ کر اٹھ کر چلدئے ـ یہ اپنے باپ کے رنگ پر تھے ـ حافظ ضامن صاحب رحتہ اللہ علیہ کی بھی یہی شان تھی ـ بھوپال میں ایک فقیر آیا تھا ـ امراء کو معتقد بناتا پھرتا تھا چونکہ حافظ صاحب بڑے آدمی تھے ـ ان کو بھی مسخر کرنے آیا ـ مسند پر بیٹھے تھے کہ کونے میں کھڑے ہو کر توجہ کی حافظ صاحب کو محسوس ہو گیا اس پر اس فقیر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ـ سنبھل کے رکھنا قدم دشت خار میں مجنوں کہ اس نواح میں سودا برہنہ بپا بھی ہے یہ کہنا تھا کہ دہڑام سے زمین پر گر پڑا ـ اور اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ میں بھی حضور ہی کا شغال رنگین ( رنگا گیدڑ ) ہوں کہا کہ جاؤ ان باتوں میں کیا رکھا ہے ـ اتباع سنت اختیار کرو ـ یہ حافظ صاحب حضرت حاجی صاحب رحنتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور حضرت ہی سے مجاز تھے ـ

( ملفوظ 322)کیفیات مقصود نہیں رضاء حق مقصود ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خدا کے ساتھ صحیح تعلق ہونا چاہئے ـ پھر چاہے کچھ جائے یار ہے پرواہ نہ کرنا چاہئے ـ بعض لوگ کیفیات کے پیچھے پڑجاتے ہیں ـ اس میں کیا رکھا ہے ـ بعض منافع کے اعتبار سے وہ بھی خدا کی نعمت ہے مگر مقصود نہیں ـ ان کی رضاء کے سوا سب غیر مقصود ہے ـ

( ملفوظ 321) مولویوں کو چندہ جمع کرنا نہیں چاہئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کا کام نہیں ـ چندہ جمع کرنے کا یہ کام تو دنیا داروں ہی کے سپرد رہنا چاہئے ـ مولویوں کو مالیات میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس باب میں ان کا مذہب تو یہ ہی ہونا چاہئے ـ
لنگے زیرو لنگے بالا نے غم دزد نے غم کالا
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ بریلی کے ایک رئیس نے غالبا چھ ہزار روپیہ پیش کیا کہ کسی نیک کام میں لگا دیجئے فرمایا کہ لگانے کے بھی اہل ہو تم ہی خرچ کر دو ـ اس نے عرض کیا کہ میں کیا اہل ہوتا فرمایا میرے پاس اسکی دلیل ہے ـ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالی مجھ کو اہل سمجھتے تو مجھ ہی کو دیتے ـ تبسم فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اسکا جواب تو یہ تھا کہ حضرت اللہ میاں دے تو رہے ہیں ـ

( ملفوظ 320)مسمانوں میں اتحاد مگر کونسا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں باہم تفرق نہ ہو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسری قوموں کو ان کو ضرر پہنچانے کی جرات ہوتی ہے ـ اس لئے باہمی اتحاد کی سخت ضرورت ہے ـ مگر یہ اتحاد نہیں جو آجکل کے لیڈر اور ان کے ہم خیال مولوی کراتے پھرتے ہیں ـ جس میں شریعت بھی محفوظ نہیں رہی بلکہ وہ اتحاد مقصود ہے ـ جس کو حق تعالی فرماتے ہیں ـ واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا یعنی اعتصام بحبل اللہ کے ساتھ اتحاد یہی اتحاد کارآمد اور مفید ہے ـ ( اور مضبوط پکڑے رہو اللہ کے سلسلہ کو اس طور پر کہ سب باہم متفق بھی ہو ـ )

( ملفوظ 319)تشبہ ممنوع ہے تشابہ جائز ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے فمن تشبہ بقوم فھو منھم اس کی حکمت یہ ہے کہ اہل باطل سے امتیاز ہو مگر تشابہ جائز ہے تشبہ جائز نہیں ـ تشابہ وہ ہے جو فطری ہو اور تشبہ وہ ہے جو قصد سے ہو ـ
21 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ

( ملفوظ 318)پوری عبارت بیان نہ کرنے پر مواخزہ

ایک شخص آ کر خاموش بیٹھ گئے ـ حضرت والا کے دریافت فرمانے پر بھی پوری بات اور اپنا تعارف نہ کرایا ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص حاجت لے کر آوے اس کو خود کہنا چاہئے کیا یہ میرا ذمہ ہے کہ میں پوچھا کروں کس کس سے پوچھوں ـ میں ان چیزوں کی بھی تعلیم کرتا ہوں ـ اس لئے بدنام ہوں ـ مگر لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کے غلام ہو جاؤ سو مجھ سے غلام نہیں بنا جاتا ـ اس غلامی کا نام رکھا ہے ـ اخلاق قیامت تک بھی اختیار کرنے کہ لئے تیار نہیں یہ تو اعلی درجہ کی بد اخلاقی ہے ـ جس سے لوگوں کا دین خراب ہو اور وہ جہل میں مبتلا رہیں ـ

( ملفوظ317 )پیغبروں کا بکریوں کا چرانا ثابت ہے :

ایک صاحب نے آکر عرض کیا کہ حضرت محنت مزدور تمام پیغبروں نے کی ہے اس کی کوئی اصل ہے فرمایا کہ یہ کلیہ تو منقول نہیں مگر اتنا ثابت ہے کہ بکریاں سب نے چرائی ہیں ـ

( ملفوظ 316) ذلت اور تواضع کے درمیان فرق

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذلت اور توضع کے درمیان کیسے فرق معلوم ہو کہ یہ ذلت ہے یہ تواضع فرمایا کہ تواضع کی حقیقت سمجھ لینے کی ضرورت ہے ـ اس کے بعد ذلت کا درجہ خود سمجھ آ جائے گا تواضع کی حقیقت ہے اپنے کو حالا یا مالا سب سے کمتر سمجھنا مثلا کسی کافر کی نسبت اگر یہ سمجھے کہ ی برا ہے اس اعتبار سے کہ ہم مسلمان ہیں لیکن مال کی کیا خبر ہے تو یہ توضع مامور بہ ہو گئی اور یہ سمجھنا اعتقادی تواضع ہے اور عملی تواضع یہ ہے کہ بلا ضرورت کسی کی تحقیر نہ کرے ـ یہ حقیقت ہے تو تواضع کی ـ

( ملفوظ 315) دفن کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جنازہ دفن کرنے کےبعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لئے دعاء کرنا جائز ہےـ فرمایا کہ منقول نہیں ـ اس لئے ترک اولی ہے اور منہی عنہ بھی اگر لازم نہ سمجھے تو دعا بھی جائز ہے اور رفع یدین اس کے آداب میں سے ہے ـ

(ملفوظ 314) نفس قید میں ہو تو اس کا کید نہیں چلتا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ نفس اگر قید میں ہو تو اس کا قید مضر نہیں آزاد نفس کا کید مضر ہے ـ