( ملفوظ 304)اصول کے خلاف کرنے سے محبت کا ختم ہو جانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھ کو احباب سے بے حد محبت ہے مگر جب کوئی اصول کے خلاف کرتا ہے تو ایک دم قلب اس سے خالی ہو جاتا ہے یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ـ خدا کی اس میں بھی میرا کوئی کمال نہیں ـ حق تعالی ہی سب انتظام فرمادیتے ہیں ـ

( ملفوظ 302)اجنبی شخص کا ہدیہ اور حضرت کا کمال ادب

ایک نو وارد نا شنا سا صاحب آئے انہوں نے حضرت والا کی خدمت میں کھجوریں پیش کر کے عرض کیا کہ یہ مدینہ طیبہ کی ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ایک کھجور لے سکتا ہوں ـ بالکل نہ لینے کو مدینہ کی بے ادبی سمجھتا ہوں ـ آپ نے ہدیہ دینے میں غلطی کی ـ جس سے بے تکلفی نہ ہو ـ میں اس سے ہدیہ لیا نہیں کرتا ـ آپ کو دینا نہ چا ہئے تھا اب مجھ کو دونوں پہلوؤں کے جمع کرنے میں تنگی ہوئی پھر فرمایا کہ بعض مرتبہ آدمی دو پاٹ کے بیچ میں آجاتا ہے ـ اسی پر بعض نے گھبر اکر کہہ دیا ـ
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
( دریا کی تہ میں مجھ کو باندھ کر ڈال دیا ہے اور حکم یہ دیا جاتا ہے کہ خبردار دامن تر بھی نہ ہو )
مگر ایسے موقع پر وہ شخص نہیں گھبرائے گا جو جامع بین الاضداد ہوگا ـ بحمد اللہ کوئی ایسا موقع پیش نہیں آتا جس پر مجھ کو گھبراہٹ ہو ـ اس کے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب جو میرے مخالف تھے وہ مدینہ طیبہ کی کھجوریں لائے ـ اور بطور ہدیہ مجھ کو دیں ـ میں نے ایک کھجور لے لی اور مزاحا کہہ دیا کہ ایک مدینہ کی ہے اور سب تمہاری ہیں ـ غرض بین الاضداد ہونے کی ضرورت ہے ـ پھر کچھ دشواری پیش نہیں آتی ـ

( ملفوظ 301)شکایت سے متاثر نہ ہونا اور عدل کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عدل کا نام و نشان نہیں رہا اس کو تو دین کی فہرست سے خارج ہی سمجھ رکھا ہے ـ الحمدللہ میں ہمیشہ اسکا خیال رکھتا ہوں ـ بھائی مرحوم کے یہاں حاجی عبرالرحیم ملازم تھے ـ بڑے گھر میں سے مجھ سے ان کی کچھ شکایت کی میں نے ان کو بلا کر پوچھا ـ انہوں نے نفی کی ـ میں نے گھر میں سے کہا کہ شرعی ثبوت لاؤ تو انکار کرتے ہیں ـ وہ ثبوت پیش نہیں کر سکیں ـ تب میں نے کہا کہ بدون ثبوت شرعی کے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہئے ـ انہوں نے توبہ کی ایسے موقع پر بڑی مشکل ہوتی ہے ـ جہاں دونوں طرف تعلق ہو مگر شریعت کے اصول پر عمل کرنے کی صورت میں کچھ بھی مشکل یا دشواری نہیں ہوتی اور گود و شخص سے جو تعلق ہوتا ہے ـ اس میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر عدل کے وقت دونوں کے مساوات ہونا چاہئے ـ میں نے خاص یہ صفت یعنی شکایت سے متا ثر نہ ہوتا ـ دو بزرگوں میں ایک خاص شان کی دیکھی ہے ـ یوں تو سب ہی بزرگوں میں اچھی صفات ہوتی ہیں مگر پھر بھی تفاوت ضرور ہوتا ہے ـ ایک حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں اور ایک حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ میں سو حضرت مولانا صاحب تو شکایت سنتے نہیں تھے فرمادیتے کہ میں سننا نہیں چاہتا اور حضرت حاجی صاحب کی اس عادت کی دلیل قرآن میں ہے ـ وہ یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر منافقین نے تہمت لگائی ـ حق تعالی اس باب میں فرمادیتے ہیں ـ لو لا جاؤا علیہ باربعۃ شھداء فان لم یا تو با لشھداء فاولٰئک عنداللہ ھم الکاذبون ( یہ لوگ اپنے قول پر چار گواہ نہ لائے ـ سو اس صورت میں کہ یہ لوگ موافق تاعدہ کے گواہ نہیں لائے تو بس اللہ کے نذدیک یہ جھوٹے ہیں ـ اور ” عنداللہ سے مراد ہے فی دین اللہ فی قانون اللہ ” اللہ کے دین میں اللہ کے قانون میں ) آگے ارشاد ہے ـ ولو لا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بھذا سبحانک ھذا بھتان عظیم ۔ ( اور تم نے جب اس بات کو اول سنا تھا تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے بھی نکالیں معاذاللہ یہ تو بہت بڑا بہتان ہے ) اس سے صاف معلوم ہوا کہ حسن ظن کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں ـ سوء ظن کی دلیل کا نہ ہونا یہی ہی کافی دلیل ہے ـ حسن ظن کی پس حضرت حاجی صاحب پر یہ شبہ نہیں ہو سکتا ـ کہ بلا دلیل شا کی کو کیسے کاذب فرما دیا ـ البتہ با وجود غلط سمجھنے کے اگر کسی دوسری بناء پر عمل کیا جاوے تو دوسری بات ہے جیسا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص کے متعلق شکایت کو جھوٹ سمجھا مگر انتظامی مصلحت کی بناء پر ان کو معزول کر دیا ـ

( ملفوظ 300) دین کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے پھر آسان ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر صحیح طریقہ سے کام کرنا چاہیں ـ افراط تفریط نہ کریں تو میں سچ عرض کرتا ہوں کہ دین میں بہت آسانی ہے اب تو جواڈ الکر بالکل الگ ہو گئے ـ یہ چاہتے ہیں کہ کچھ بھی نہ کرنا پڑے خود بخود سب کام ہو جائیں ـ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیز تو بدون مشقت کے حاصل ہوتی نہیں ـ دین کیسے حاصل ہو جائے آدمی کچھ تو کر لے کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے ـ

( ملفوظ 299)چشتیہ کا خاص رنگ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتیوں میں ایک خاص رنگ ہے ـ تعلق مع اللہ اور قطع تعلق عن غیراللہ میں اس رنگ کے غلبہ میں ان کو دوسروں کو ترجیح دیتا ہوں ـ

( ملفوظ 298)تصوف کا عطر ، خوف ، رجا اور محبت ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے حضرت خوجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ دیکھا ہے جو عطر ہے ـ تمام طریق کار میں اس کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ اس سے میرے دوست کام لیں وہ فرماتے ہیں کہ آدمی تین چیزیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ ایک خوف اور دوسری رجاء تیسری محبت یہ سب سنت کا رنگ ہے ـ خوف سے تو یہ ہوگا کہ گناہ نہ ہونگے اور رجاء سے یہ ہوگا کہ طاعت کی رغبتی ہوگی ـ اور محبت سے یہ ہوگا کہ تکلیف برداشت کرے گا اور جو امور غیر اختیاریہ ہیں ـ جیسے حوادث و مصائب وہ تو محبت کی وجہ سے برداشت کر لیگا اور جو امور اختیاریہ ہیں جیسے طاعات یا معصیت ان میں خوف اور رجاء سے کام ہو جائے گا اگر آدمی کچھ بھی نہ کرے یہ باتیں اختیار کر لے ـ بس کافی ہیں ـ خواجہ صاحب نے کیا اچھی بات فرمائی آخر بڑے ہیں ـ کسی وجہ سے تو بڑے ہیں بس یہی باتیں ہیں ـ بڑے ہونے کی میرا اس ملفوظ سے آج بڑا ہی جی خوش ہوا کیونکہ ایک ضرورت ہے گناہ سے بچنے کی اس کے لئے خوف ہے اور ایک ضرورت ہے طاعات کی ـ اس کے لئے رجاء ہے اور ایک ضرورت ہے معصیت اور تکلیف کے وقت ثابت قدم رہنے کی اس کے لئے محبت ہے مجھے تو یہ ملفوظ دیکھ کر یہ معلوم ہوا کہ جیسے بڑی دولت نصیب ہوگئی ـ

( ملفوظ 297)بالغ ہونے کے بعد ختنہ کا حکم

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کیا لڑکے کے بالغ ہونے کے بعد بھی ختنہ کرانا چاہئے ـ یا نہیں فرمایا کہ اگر وہ برداشت کر سکے ـ یعنی گھبرائے نہیں ، ڈرے نہیں تو ختنہ کرانا چاہئے ـ عرض کیا کہ اس لڑکے پر تو نہ کرانے میں گناہ نہیں فرمایا اگر برداشت کر سکتا ہے اور نہیں کراتا تو گناہ ہوگا ورنہ گناہ نہیں ـ

( ملفوظ 296)زہد کی حقیقت اور اس کا صحیح مطلب

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ( زہد یہ نہیں کہ حلال کو عملا حرام کر لو مثلا خربوزہ حلال ہے مگر زہد کے سبب نہ کھاتا ہوسو یہ زہد نہیں بلکہ زہد یہ ہے کہ جو چیز اپنے ہاتھ میں ہو اس پر اتنا بھروسہ نہ ہو جتنا بھروسہ اس پر ہو جو خدا کے ہاتھ میں ہے ـ یہ حقیقت ہے زہد کی اور یہ مضمون حدیث مرفوع کا ہے ـ جس کو ترمزی نے روایت کیا ہے
16 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 295) یورپ میں خود کشی کا بازار گرم ہونے کی وجہ :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یورپ میں بوجہ دہریت کے خود کشی کا بازار گرم ہے اسلئے کہ جب اسباب کے اعتبار سے کسی کام سے مایوس ہوتے ہیں تو بوجہ مسبب کے قائل نہ ہونے کے آگے تو کوئی چیز دل کی تھامنے والی ہے ہی نہیں ـ فرمایا کہ حقیقت میں بدون دین کے راحت نہیں ـ حتی کہ راحت کے سامان بھی راحت نہیں یہی خودکشی کرنے والے چونکہ آخرت کے قائل نہیں ـ اس لئے کچھ خبر نہیں کہ خود کشی کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ اگر دین ہوتا تو مصیبت میں بھی دیکھتے کہ شریعت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی مصیبت پر اجر کا وعدہ ہے تو پریشان نہ ہوتے ایسی مثال ہوتی کہ اگر کسی کا ایک روپیہ کھویا جائے اور ایک شخص کہے کہ گبھراؤ مت ایک گنی دوں گا ـ تو اس وقت کچھ عجب نہیں کہ اس کھوئے جانے کو غنیمت سمجھے بلکہ یہ تمنا کرے کہ ہر روز کھویا جایا کرے کہ کئی ملا کریں ایک رئیس تھے ـ میرٹھ میں اپنے نوکر کے ایک چپت مار دیا مگر تھے رحمدل ـ اس لئے اس کے بعد اسکو ایک روپیہ دیا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے کہا کہ حضور کی جان و مال کو دعاء کر رہا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ ایک چپت ہر روز مار دیا کریں تو تیس روپیہ مہینہ میں مل جایا کریں ـ غرض جب تکلیف عوض ملتا ہے تو اسکی تمنا ہوتی ہے ـ اسی طرح دیندار آدمی آخرت کے عوض کے اعتقاد سے مصیبت کو بھی خیر سمجھتا ہے

( ملفوظ 294)آج کل کے کامل ناقص ہو کر اپنا نقص چھپاتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے کامل ایسے ہیں کہ باوجود ناقص ہونے کے اپنے نقص پر پردہ ڈالتے ہیں گو اخیر میں ان ہی کے اقوال و افعال سے نقص ظاہر ہوتا ہے ـ جیسے ایک شخص سے کسی نے کہا کہ خط لکھ دو کہ میری ٹانگ میں درد ہے ـ اس نے کہا کہ لکھنے کا ٹانگ سے کیا تعلق کہ میرا لکھا ہوا میں ہی پڑھ سکتا ہوں ـ دوسرا نہیں پڑھ سکتا ـ مگر یہ نہیں کہا کہ مجھ کو لکھنا نہیں آتا گو اخیر ظاہر ہو گیا ـ اس بد خطی پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک عالم متقدمین سے ہیں بہت بڑے شخص ہیں ـ ان کا قلم نہایت بد خط تھا ـ ایک روز بازار گئے تو اپنے سے بھی برے خط کی ایک کتاب نظر پڑی اس کو گراں قیمت پر خریدا ـ طاعنین کے جواب کے واسطے کہ لوگوں کو دکھاؤں کہ مجھ سے بھی زیادہ بدخط لوگ ہوئے ہیں ـ مگر گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ بھی میرا ہی ابتداء کا خط ہے ـ مگر سادگی دیکھئے کہ خود ہی اپنے اس قسم کے کچے چٹھے کھول رہے ہیں ـ آجکل کو مدعیوں کی طرح اپنے نقص کو چھپایا نہیں ـ