( ملفوظ 293)شورش و غلبہ کمال نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سب کچھ سہی مگر یہ شورش اور غلبہ کی حالت کمال نہیں ـ کمال وہی ہے جو حضرات انبیاء علیہم السلام کی حالت تھی کہ قلب میں بلکہ رگ رگ میں تو آگ بھری ہوئی ہے ـ اور ظاہرا سکون ہے اسی طرح چشتیہ میں ایک آگ ہے جو سامنے پڑتا ہے وہ بھی جلنے لگتا ہے ان کی یہ شان ہے ـ
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہرچہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
( عشق وہ آگ ہے کہ جب یہ بھڑکتی ہے تو معشوق کے سوا اور سب چیزوں کو جلا دیتی ہے )
تو ایسے جلے بھنوں کے پیچھے سے کیا فائدہ بات یہ ہے کہ یہ چشتی بیچارے بولتے نہیں کسی سے اس لئے ان ہی پر سب کی مشق ہوتی ہے ـ
18 ـ محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 292)ادب المعذور یعنی بعض صاحب عذر مشائخ کا ادب

ملقب بہ ادب المعذور ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مشائخ کے کلام میں جو کہیں دلیل صحیح کے ساتھ تعارض ہوتا ہے ـ اسکی توجیہ میں بڑی مشکل پڑتی ہے ـ آجکل ایک رسالہ شروع کر رکھا ہے ـ وہ رسالہ مشائخ چشتیہ کی نصرت میں لکھ رہا ہوں ـ یہ حضرت بہت بدنام ہیں کہ ان کے افعال سنت کے خلاف ہیں ـ نام بھی اس رسالہ کا میں نے تجویز کر دیا ہے ـ السنۃ الجلیۃ فی چشتیۃ العلیۃ یہ محض شاعری ہی نہیں بلکہ حقیقت بھی ہے ـ اس لئے کہ چشتیہ کے یہاں سنت کا بہت زیادہ اہتمام ہے ـ اور اصل مذہب ان حضرات کا سنت ہی ہے مگر بعض جگہ غلبہ کی حالت کی وجہ سے معذور ہیں ـ آخر جب کوئی مضطر ہو تو کیا کرے باقی اصل مذہب ان حضرات کا کتاب و سنت ہی ہے مگر عذر میں کیا الزام ہے ـ معترضین ان کی خواہ مخواہ بدنام کرتے ہیں ـ البتہ ایک بات ظاہرا کھٹکی ہے کہ ان کے جو اشغال ہیں ان کو بعض مصنفین صوفیہ نے کتاب و سنت کی طرف مستند کر دیا ہے حالانکہ یہ ایک طب ہے جو تدبیر کا درجہ ہے ـ جیسے مسہل ہے اس میں اطباء مریض سے کہتے ہیں کہ دوسری طرف مشغول نہ ہونا چلنا پھرنا نہیں بولنا نہیں ، دیکھئے یہ بھی خلوت ہے ـ یہ بھی یکسوئی ہے ـ اسی طرح ریاضت تصوف کا بھی ایک فن ہے جس کا درجہ محض تدابیر کا ہے ـ اس کو کتاب و سنت کی طرف مستند کر دینا بیشک کھٹکتا ہے ـ ان مصنفین سے غلطی یہ ہوئی کہ اس کو مقاصد میں سے سمجھ لیا اگر مقاصد میں داخل نہ کرتے تو لوگوں کو دلائل کی ضرورت نہ ہوتی ـ بلکہ یہی سمجھتے کہ یہ تدابیر ہیں ـ دلائل کی تلاش مقاصد سمجھنے کی بناء پر ہوئی ورنہ بعد تحقیق کوئی اشکال نہیں ـ تو بعض مصنفین کے اس فعل کو دیکھ کر تمام سلسلہ پر اعتراض کرنا نہایت بے انصافی ہے ـ اسی واسطے مجھے بعضے نقشبندیوں کی شکایت ہے ج وبے حد غلو کرتے ہیں ـ چشتیوں پر اعتراض کرتے ہیں اور اعتراض بھی حد سے گزرے ہوئے جن کے نہ اصول ہیں ـ نہ حدود بڑا ہی افسوس ہے ـ آخر کیوں دوسروں کو اس قدر حقیر سمجھتے ہیں ـ ان کے تمام طریق پر الزام رکھتے ہیں کیا یہ کوئی تحقیق کی شان ہے ـ یہ تو اچھا خاصا عناد ہے ـ ورنہ جیسے چشتیہ بیچارے کسی کو کچھ نہیں کہتے اور نہ کسی سے تعرض کرتے ہیں ـ دوسروں کو بھی چاہئے کہ ان کے پیچھے نہ پڑیں ـ یہ ہی چیز مجھ کو داعی ہوئی ـ رسالہ لکھنے کے لئے میں تو انشاءاللہ اہل حق کی نصرت ہی کروں گا گو اس میں مجھ کو تعجب زیادہ ہورہا ہے ـ میں نے خود رسالہ میں چشتیہ کے مشرب کی حقیقت لکھی ہے کہ ان کے مشرب کی حقیقت حنفیہ کے مذہب جیسی ہے کہ سب مذاہب سے زیادہ کتاب و سنت کے مطابق ان کے افعال و اقوال ہیں مگر سب میں زیادہ وہی بدنام ہیں کہ یہ سنت کے خلاف ہیں ۔۔ اسی طرح چشتیہ بدنام ہیں کہ ان کے یہاں خلاف سنت کی تعلیم ہے ـ یہ اعتراض کرنا حقیقت سے بے خبری ہے ـ باقی اضطراری حالت میں اگر کبھی لغزش ہوئی ہے اس پر متنبہ ہونے کے بعد نادم ہوئے اور توبہ کی اور اس میں انکا وہی طریقہ رہا ـ جیسا ایک شیخ سے منقول ہے کہ ان کے مریدوں نے کہا کہ حضرت آپ خاص حالت میں یہ کلمہ غیر مشروعہ کہتے تھے ـ فرمایا کہ اگر اب کے کہوں تو مجھ کو قتل کر دینا مریدین صاحب شریعت تھے ـ شیخ کے انتشال امر کے لئے تیار ہو گئے ـ شیخ پر پھر غلبہ ہوا اور وہی کلمہ کہنا شروع کیا ـ مریدوں نے چھریوں سے ان پر حملہ کیا مگر جو شخص جس جگہ شیخ کے مارنا چاہتا تھا خود اس کے اسی جگہ چھری لگتی تھی ـ اس طرح سے تمام مجلس زخمی ہوگئی ـ جب شیخ کو ہوش آیا تو مریدین نے عرض کیا کہ واہ حضرت اچھی تدبیر بتلائی اور تمام قصہ سنایا ـ فرمایا بس تو معلوم ہوا میں نہیں کہتا تھا ورنہ میں سزا کا مستحق ہوتا اس سے استدلال کیا اپنے معزور ہونے پر بہرحال شریعت کا مقابلہ نہیں کیا ـ سزا کے لئے تیار ہو گئے ـ یہ تو قدماء کی حکایت ہے باقی اسی زمانہ کا واقعہ عرض کرتا ہوں ـ ماموں صاحب میں ایک خاص شورش تھی ـ بعضے طریقے ان کے ہمارے بزرگوں کے مسلک کے خلاف تھے ـ میں نے ان کو خیر خواہی و ہمدردی سے ایک خط لکھا اور آخر میں لکھا کہ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ حق تعالی آپ کو طریقہ سنت پر قائم فرمائیں جواب لکھا کہ بیٹا تم جوان صالح ہو ـ قبول الدعاء کرتا ہو میرے لئے ایسی دعاء نہ کرنا میری تو ساری عمر کا ذخیرہ ہی ہاتھ سے نکل جائے گا ـ میں تو یہ دعاء کرتا ہوں کہ میں جس چیز میں ہوں ـ اسی پر ختم ہو جاؤں تمہارا طریق تم کو مبارک ہو اور میرا طریق مجھ کو مبارک ہو غرض میرے ساتھ دو قدح نہیں کیا ـ دیکھئے یہ تو حالت اختلاف کی اور اس پر یہ جواب

( ملفوظ 291)سائل کے لئے چندہ کرنا صحیح نہیں

ایک سائل نے آکر کچھ خرچ کا سوال کیا فرمایا کہ اگر آنہ دو آنہ لینا منظور ہو تو میں خدمت کر سکتا ہوں ـ اس سے زائد کا خیال ہوتو اس سے معزور ہوں ـ عرض کیا کہ اور حاضریں سے امداد کر دیجئے فرمایا کہ یہ میرے معمول کے خلاف ہے ـ اول تو میرے پاس بیٹھنے والے اکثر مسافر ہیں ـ کسی کو کیا خبر کہ ان میں مالی حالت کے اعتبار سے کون کس حالت میں ہے ـ اور اگر خبر بھی ہو تب بھی یہ طریق نا پسندیدہ ہے ـ نہ معلوم کوئی دل سے دینا چاہتا ہے یا نہیں اب اگر کہا گیا تو دو حال سے خالی نہیں ـ یا تو دے گا یا نہیں دیگا ـ اگر دیا تو جبر کی صورت ہے نہ دیا تو رسوائی سی معلو م ہوتی ہے ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ان مسافر سائلوں کی بھی کچھ خطا نہیں ـ مشائخ ایسا کرتے ہیں کہ خود تو کچھ دیتے نہیں اور دیں بھی کہاں سے ـ اپنے ہی لینے سے فرصت نہیں ـ ہر وقت اینٹھنے کی فکر میں رہتے ہیں ـ ہاں اپنے متعلقین سے فرمائش کردیتے ہیں کہ ان کی خدمت کر دو یہاں معاملہ اس عکس ہے میں خود تو خدمت کر دیتا ہوں مگر اہل تعلق سے کبھی فرمائش نہیں کرتا ـ پھر یہ کہ سائل تو روزانہ ہی آتے رہتے ہیں اگر روزانہ ایسی فرمائیشیں کی جاویں تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ لوگ تنگ ہوں گے ـ بعض مشائخ کی شکایت خود ان کے مریدین نے مجھ کو لکھی کہ روزانہ فرمائیشیں کرتے ہیں ہم تنگ آ گئے ہیں کیا کرنا چاہئے پھر اس سائل کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جو میں کہہ چکا ہوں اگر وہ قبول اور منظور ہو تو میں پیش کروں ـ اس پر وہ سائل خاموش رہا ـ فرمایا کہ مجھ کو صرف یہی ایک کام نہیں اور بھی کام ہیں ـ ہاں نہ کا جواب دو تاکہ میں اپنے کام میں لگوں ـ عرض کیا کہ آپ کو اختیار ہے فرامایا کہ صاف بات اب بھی نہیں کہی مجھ پر ہی بوجھ رکھ دیا ـ خدا معلوم یہ مرض کم بخت کہاں سے لوگوں کو چمٹ گیا ہے ـ بدون اینچ پینچ کے بات ہی نہیں کرتے فرمایا کہ اختیار ہے بیٹھے رہو ـ جب تک صاف بات نہ کہو گے ادھر سے بھی اب کوئی بات نہ ہوگی ـ عرض کیا کہ مجھے منظور ہے ـ فرمایا کہ اتنا دق کر کے کہا پہلے کیا کسی نے چھینک دیا تھا ـ حضرت والا نے چار آنہ پیسہ دیئے ـ وہ سائل لیکر چل دیا ـ اس پر فرمایا کہ اب خوش ہوگا کیونکہ دو آنہ سے زیادہ توقع نہ تھی ـ اب ملے چار آنہ اس میں یہی مصلحت ہوتی ہے کہ زائد از امید پر زیادہ مسرت ہوتی ہے اگر پہلے ہی چار آنہ کہتا تو چار آنہ پر بھی خوش نہ ہوتا ـ اب خوش ہو گیا ـ ایک شخص ہیں جو میرے دوست ہیں ان پر قرض ہو گیا تھا تقریبا ڈھائی ہزار روپیہ انہوں نے مجھ سے کسی کو سفارش لکھنے کو کہا میں نے کہا کہ خطاب خاص تو میرے معمول اور مسلک کا خلاف ہے اگر تم کہو تو خطاب عام کی صورت میں کچھ لکھدوں ـ انہوں نے اس کو منظور کر لیا میں نے ایک عام خطاب کی صورت میں لکھ دیا ـ وہ یہاں سے اول میرٹھ پہنچے اور ایک رئیس سے ملے انہوں نے رقم کی مقدار کو دیکھ کر کہا کہ میاں اتنی بڑی رقم کہیں اسطرح پر ادا ہو سکتی ہے ـ اور کون اتنی بڑی رقم دے سکتا ہے ان کو اس وقت ایک طیش آیا اور قسم کھا کر یہ کہا کہ اب میں بھی جب تک ایک ہی آدمی ساری رقم نہ دے گا کسی سے کچھ نہ لوں گا ـ یہ کہہ کر اٹھ کر چل دیئے ـ پھر ان رئیس نے ان کو کچھ دینا بھی چاہا مگر انہوں نے نہیں لیا ـ اور وہاں سے دھلی پہنچے ـ ایک صاحب خیر سے ملے اس کے متعلق کچھ گفتگو ہو رہی تھی ـ ان کے یہاں ایک بمبئی کے سیٹھ مہمان تھے ـ ان کے کانوں میں کچھ الفاظ پہنچ گئے ـ ان سیٹھ صاحب نے دریافت کیا کہ معاملہ ہے ـ میزبان نے کہا کہ یہ صورت ہے اور فلاں شخص کی تصدیق ہے ـ اس سیٹھ نے ڈھائی ہزار کے نوٹ نکال کر ان کے حولے کئے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ سیٹھ اپنے بزرگوں کے مسلک اور مشرب کے بھی نہ تھے وہ دوست تیسرے چوتھے ہی روز یہاں پر آگئے ـ میں سمجھا کہ نا کامیاب آئے انہوں نے کہا کہ میں کامیاب آٰیا ہوں ـ میں ان کے اس کہنے کو بھی غلط ہی سمجھتا رہا ـ پھر انہوں نے بالتفصیل واقعہ سنایا تب یقین ہوا ـ دیکھئے خدا تعالی نے کس طرح بے گمان سامان کر دیا ـ جب ان کی یہ رحمت ہے تو پھر خدا ہی سے مانگنا چاہئے جو مانگنے پر خوش ہوتے ہیں اور دیتے ہیں اور نا مانگنے پر ناراض ہوتے ہیں ـ جو شخص ایسے کریم ک وچھوڑ کر لئیم کی خوشامد کرے اس سے زیادہ بیقوف کون ہوگا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی میں توکل اور زہد کی شان بہت بڑھی ہوئی تھی ـ سلطان عبدالحمید خان صاحب نے خود بلایا تنخواہ مقرر کرنا چاہی ـ انکار کر دیا ـ مدرسہ کیلئے مقرر کرنا چاہا صاف انکار کر دیا مولوی صاحب مجھ سے خود فرماتے تھے کہ اللہ تعالی نے میرے دل میں اس قدر قوت دی ہے کہ اگر ہفت و اقلیم کے بادشاہ جمع ہو کر مجھ سے خشونت کے ساتھ گفتگو کریں تب بھی میرے دل پ ررائی کے دانہ کے برابر بھی اثر نہ ہوگا ـ حالانکہ محض ظاہری عالم تھے مگر قلب میں اس قدر قوت تھی کہ کسی کا اثر نہ پڑتا تھا ـ یہ سب خدا داد عطائیں ہوتی ہیں ـ
18 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ

( ملفوظ 290)دینی تعلقات رکھنا ہو تو میرے طرز پر رہو

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو مجھ سے دین کا تعلق رکھنا چاہتا ہے ـ میں اس کو اپنے طرز پر لانا چاہتا ہوں ـ اور طرز بالکل سیدھا سادا ہے ـ لوگ اس پر نہیں آنا چاہتے سو میں اس کا کیا علاج کروں ـ

( ملفوظ 289) تعویزات میں عامل کے خیال کا اثر ہوتا ہے :

ایک شخص نے تعویز کی درخواست کی کہ حضرت جی ایک عورت کو تکلیف ہے ـ تعویز دو ـ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ( اور تکلیف کا نام نہیں لیا ) حضرت والا نے فرمایا نواب بن کے آیا ہے ادھوری بات کہہ کر خاموش ہو گیا پوری بات کہو جب تک پوری بات نہیں کہے گا جواب کیا دیا جائے ـ عرض کیا کہ اوپر اثر ہے فرمایا اس پر تو ہے یا نہیں مگر تو بھی اسی مرض میں مبتلا ہے ـ پہلے ہی پوری بات کیوں نہیں کی تھی ـ جا اب تو دل برا کر دیا ـ پھر تھوڑی دیر میں پوری بات کہنا تعویز مل جائے گا ـ وہ شخص اٹھ کر چلا گیا ـ فرمایا کہ تعویز وغیرہ میں زیادہ تر عامل کے خیال کا اثر ہوتا ہے اگر اس کو مکدر کر دیا جائے تو پھر اس میں اثر نہیں ہوتا ـ ہر فن کے کچھ خاص احکام ہیں ـ فن عملیات کا یہی حکم ہے ـ اس لئے ضرورت ہے کہ عامل کو مکدر نہ کرو اور یہ جو میں کہہ دیتا ہوں کہ پھر آکر پوری بات کہو ـ اس میں علاوہ اس حکم مذکور کے یہ بھی مصلحت ہے کہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہو جائے ـ اور یاد رہے اور آئندہ پھر ایسی حرکت نہ کرے ـ بس یہی وہ باتیں ہیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے ـ

( ملفوظ 288)آج کل الگ الگ رہنا مصلحت ہے

ایک دیہاتی شخص نے عرض کیا کہ حضرت ایک تعویز دے دو میرا بھائی مجھ سے ناراض ہو کر جدا ہو گیا ہے ـ وہ مجھ سے محبت کرنے لگے فرمایا کہ الگ ہو گیا ہے ـ ہو جائے ـ جانے دو تمھارا کیا ضرر ہے ـ آجکل تو ایک جگہ رہنا فساد کی بات ہے ـ الگ ہی الگ رہنا مصلحت ہے ـ اس سے محبت بنی رہتی ہے ـ اور ساتھ رہنے میں محبت جاتی رہتی ہے ـ یہ الگ ہو جانا تو شکایت کرنے کی بات نہیں بلکہ خود الگ کر دینا چاہئے تھا ـ پھر اس میں تعویز سے کیا کام چلے گا ـ ایسی باتوں کے لئے تعویز نہیں ہوتا تم اپنا کھاؤ کماؤ وہ اپنا کیوں دوسروں کے غم میں پڑے مسلمان کا تو یہ مذہب ہونا چاہئے ـ
بہشت آنجا کہ آزا رے نباشد کسے رابا کسے کارے نباشد

( ملفوظ 287)صاحب نسبت میں شبہ ہو تو صالح ہونا یقینی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں صوفی صاحب ایک بی بی کے متعلق فرماتے تھے کہ صاحب نسبت ہیں ـ میں نے کہا خدا معلوم کہ ہیں بھی یا نہیں ـ مگر اس شہادت سے اتنا ضرور ثابت ہوا ـ نیک ہیں ـ مولانا شیخ محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نبوت میں اختلاف ہو اس کی ولایت تو یقینی ہے اور جس کے کفر میں اختلاف ہو اس کا فسق یقینی ہے ـ اور اس طرح جس کے صاحب نسبت ہونے کا شبہ ہو صالح ہونا یقینی ہے ـ

( ملفوظ 286) مشائخ طریق سے کسی کے ساتھ بدگمانی نہ ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو مشائخ طریق میں سے کسی سے بھی بدگمانی نہیں کسی کا کسی درجہ میں بھی وحشت ناک قول ہو وحشت ناک فعل ہو مگر الحمدللہ میرے ذہن میں اسکی توجیہ ایسی آجاتی ہے ـ کہ ذرا برابر بدگمانی میرے قلب میں رسد نہیں ہوتی ـ
17 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 285)طریق کا احیاء اور حق تعالٰی کا فضل

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ طریق مجھ کو ملہم ( الہام کے ذریعہ بتلایا گیا ) ہو گیا ہے یہ تو بڑا دعوی ہے مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ اجمالا تو حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات سے تفصیل اس کی حق تعالی نے محض محبت سے قلب میں وارد فرمادی ہے ـ اسکو چاہے الہام سے تعبیر کر لیا جائے اختیار ہے ـ خدا کا فضل ہے ـ انعام ہے ـ احسان ہے جو چیز عطا فرمائی گئی ہے ـ میں اسکی نفی کر کے کیوں کفران نعمت کروں ـ یہ طریق مردہ ہو چکا تھا ـ مفقود ہو چکا تھا ـ حق تعالی نے اس کے احیاء کی توفیق فرمادی یہی وجہ ہے کہ نا واقفی سے لوگوں کو وحشت ہے قدیم طریق سلف کا گم ہو چکا تھا ـ یہاں وہی طریق ہے جو سلف کا تھا ـ مگر اس کے مفقود ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کو نیا معلوم ہوتا ہے حالانکہ ہے پرانا ـ

( ملفوظ 284) کسی صاحب کے آنے نہ آنے سے حضرت کا خالی ذہن ہونا

ایک صاحب نے عرض کیا کہ کہ فلاں مولوی صاحب کو لکھ دیا جائے کہ اگر آنا چاہیں تو اجازت ہے اور یہ بات میں لکھ دوں گا آپ کو آنے کی اجازت ہے ـ فرمایا کہ اس سے ان کو میری نسبت یہ شبہ ہوگا کہ وہ ان کا آنا چاہتا ہوگا حالانکہ میں بالکل خالی الذہن ہوں ـ مجھ کو نہ اس میں موافقت ہے نہ مخالفت بلکہ میرا تو مذاق تو یہ ہے کہ جس قدر کم تعلقات ہوں ـ میں ہلکا پھلکا رہتا ہوں ـ معتقدین کی کثرت کوئی امر مطلوب نہیں ـ خود طالبین کا نفع ہے اگر وہ اپنا نفع سمجھیں تعلقات رکھیں مجھے کوئی ضرورت نہیں ـ مجھ کو نہ اس میں موافقت ہے نہ مخالفت بلکہ میرا تو مزاق یہ ہے کہ جس قدر کم تعلقات ہوں ـ میں ہلکا پھلکا رہتا ہوں معتقدین کہ کثرت کوئی امر مطلوب نہیں ـ خود طالبین کا نفع ہے اگر وہ نفع سمجھیں تعلقات رکھیں مجھے کوئی ضرورت نہیں ـ نہ اس میں میرا کوئی نفع اس حالت میں تمھارا مشورہ دینا اس کو موہم ہوگا ـ اور اس نے یعنی میں نے کہا ہوگا پھر ایسی صورت میں مجھ کو یہ شبہ رہے گا کہ نہ معلوم ان کا تعلق خلوص سے ہو یا نہیں ـ ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے جو اپنی غلطیوں کا اعلان کیا ہے ـ اس اعلان سے مظنون یہی ہے کہ خلوص ہے مگر یقین کا درجہ اب بھی نہیں ـ اس لئے کہ جب پہلے عدم اعلان لوگوں کے کہنے سے ہوا تھا ـ ممکن ہے اب اعلان کسی کے کہنے پر سے کر دیا ہو ـ دوسرے مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ وہ آئندہ بھی خلوص سے تعلق رکھیں گے یا نہیں اس کو تو ان سے گفتگو کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں ـ میرا تو کسی حالت میں بھی ضرر نہیں ـ آخر دس برس تک انہوں نے اپنی غلطی سے رجوع نہیں کیا میرا کیا ضرر ہوا اب رجوع کرنے کا اعلان شائع کر دیا تو مجھ کو کونسا نفع ہو گیا کہ میں نے ابتداء ہی میں جب انہوں نے اعلان سے عزر کیا تھا ـ پوچھا تھا کہ کیا عار اور استکبار اس اعلان سے مانع ہے ـ انہوں نے کہا کہ جی ہاں تو ظاہرا ایسے شخص سے آئندہ کیا توقع ہو سکتی ہے مگر میں با وجود اس کہ بھی بدظنی نہیں کرتا ـ ہر زمانہ انسان پر یکساں نہیں ہوتا ـ ممکن ہے کہ اب جو وہ کر رہے ہیں ـ خلوص پر منبی ہو ـ مگر مجھ کو کسی حال میں نہ اس سے بحث کہ وہ تعلق رکھیں نہ اس کا خیال کہ وہ تعلق نہ رکھیں ـ جس میں وہ اپنا نفع دیکھیں کریں ـ میں باکل اس معاملہ میں خالی الزہن ہوں ـ نہ مجھ کو انتظار نہ مجھ کو ضرورت اور اب کیوں دوسروں کے معاملات میں ٹانگ پھنسانا چاہتے ہیں ـ کوئی کچھ کرے یا نہ کرے آپ اپنے کام میں مشغول رہیں ـ دوسروں کی تو انسان جب فکر کرے جب اپنے سے فراغت کر چکا ہو ـ