ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز مصنف کا قول ہے کہ کسی امتی کو اپنے نبی سے اتنی محبت نہیں ـ جس قدر مسلمانوں کو اپنے رسول سے محبت ہے ـ واقعی بدون محبت کے کچھ نہیں ہوتا ـ بڑی چیز محبت ہے گو ظاہرا ادب و تعظیم بھی زیادہ نہ ہو مگر محبت ہو اس سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے ـ وجہ یہ ہے کہ میں محب اپنے محبوب کے خلاف نہیں کر سکتا اور ظاہر ہے کہ اتباع کتنی بڑی چیز ہے آجکل لوگ ادب و تعظیم کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں ـ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی کے تو کرشمے ہیں کہ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جو قتل کیا ہے وہ محبین ہی نے کیا ـ کسی خشک مولوی صاحب نے نہیں کیا ـ زیادہ جاہلوں ہی نے کیا ہے جن کے دل میں کامل محبت تھی اور دیکھا تو یہی گیا ہے کہ مسلمان اگر فاسق فاجر بھی ہے اس کے دل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رچی ہوئی ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کوئی شخص تنخواہ دے کر بھی اس درجہ کا جان نثار نہیں بنا سکتا ـ فرمایا کہ تنخواہ کیا چیز ہے ـ حضور نے تو وہ چیز دی ہے جو دوسرا دے ہی نہیں سکتا ـ آپ ہی کی بدولت ایمان ملا ـ جنت ملی اور حضور کی محبت کی زیادہ درجہ یہ ہے کہ خود حضور ہی کو امت سے بہت زیادہ محبت تھی ـ یہی ترتیب محبت کی شیخ اور طالب میں ہے ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو شیخ سے محبت ہو وہ ناز نہ کرے کہ یہ ہمارا کمال ہے ـ نہیں بلکہ اول شیخ ہی کو تم سے محبت ہوتی ہے ـ البتہ لون و ( رنگ ) محبت کا جدا جدا ہے جس کو مولانا رومی نے ایک خاص عنوان سے ظاہر فرمایا ہے ـ
عشق معشوقان نہان ست دستیر عشق عاشق با و صد طبل ونفیر
( محبوبوں کو جو محبت عاشق سے ہوتی ہے وہ تو پوشیدہ ہوتی ہے ـ اور عاشق کی محبت ( بوجہ آہ فغاں کے ) ظاہر ہوتی ہے ـ )
ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ اپنے ایک مرید سے دریافت فرمایا کہ ہمیں تم سے محبت ہے ـ یا تم کو ہم سے محبت ہے ـ عرض کیا کہ حضرت مجھ کو زیادہ محبت ہے ـ بزرگ خاموش ہو گئے ـ مگر اس کی طرف سے توجہ ہٹالی ـ لہذا مرید کو جو ایک خاص گرویدگی تھی اور ہر وقت پاس رہتا تھا ـ اب یہ ہوا کہ آنے کی بھی توفیق نہ رہی ـ پھر ان بزرگ نے توجہ کی تو وہ آگئے ـ دریافت فرمایا کہ بولو تم کو زیادہ محبت تھی یا ہم کو ـ بہت شرمندہ ہوا ـ سو اگر کسی کی طرف اللہ کا مقبول بندہ متوجہ ہو جائے ـ بڑی نعمت ہے ، بڑ دولت ہے کیونکہ ان کو کسی کی خوشامند کرنا نہیں ـ اس کو کسی کی ضرورت نہیں ـ پھر بھی اگر توجہ کریں تو حق تعالی کا فضل ہی سمجھنا چاہئے ـ اپنا کمال ہرگز نہ سمجھے ـ
17 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 282)حضرت گنگوہی اور حضرت تھانوی کا وعظ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں تو جو کچھ ہے بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ ہے ـ ان ہی حضرات کی وجہ اور دعاؤں کی برکت ہے عمل وغیرہ جیسے ہیں ـ وہ مجھکو خود معلوم ہے ـ توجہ کا ایک قصہ عرض کرتا ہوں میں ایک مرتبہ گنگوہ گیا ـ بعض لوگوں کے اصرار سے وعظ ہوا ـ میں نے حضرت مولانا سے وعظ کو چھپایا تھا ـ کہ حضرت کی اطلاع میں وعظ کہنا گستاخی ہے ـ یہ واعظ ایک مسجد میں تھا ـ حضرت کو کسی ذریعہ سے اطلاع میں وعظ کہنا گستاخی ہے ـ یہ واعظ ایک مسجد میں تھا ـ حضرت کو کسی ذریعہ سے اطلاع ہو گئی ـ اس وقت جو شخص آتا فرماتے کہ دیکھو وہاں جاؤ آج حقانی وعظ ہو رہا ہے ـ اس قدر شفقت تھی ـ
( ملفوظ 281)اصلاح کا طریقہ اور شیخ کی تشخیص و تجویز پر اعتماد
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میرا مقصود مواخزہ یا کھود کرید کرنے سے تنگ کرنا نہیں ہوتا ـ مقصود یہ ہوتا ہے کہ جو منشاء ہے اس غلطی کا اس شخص کو اس کا علم ہو جائے تاکہ جہل سے نجات ہو مگر اس نجات کو لوگ چاہتے ہی نہیں ـ اب بتلایئے کہ اصلاح کس طرح ہو اگر غلطی پر آگاہ نہ کیا جائے تو جہل میں مبتلا رہے گا تو آنے سے فائدہ ہی کیا ہوا بس لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ بات گول مول رہے اور معاف ہو جائے اچھا اگر اس نے معاف بھی کر دیا اور گول مول بھی رکھا مگر تم کو کیا نفع ہوا جو مرض ہے وہ تو زائل نہ ہوا ـ اسی لئے اس پیری مریدی کے جھگڑے سے میرا دل کٹھا ہو گیا ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ مریض نے بد پرہیزی کی اور طبیب سے کہا کہ معاف کر دیجئے ـ اس نے کہہ دیا کہ اچھا معاف ہے نتیجہ کیا ہوا ـ علاج تو مرض کا نہ ہوا ـ مادہ فاسد تو بدستور رہا ـ پھر اس حالت میں طبیب سے تعلق رکھنا ہی بیکار ہے ـ آدمی اپنے گھر بیٹھا رہے کیوں خود پریشان ہو اور کیوں درسرے کو پریشان کرے ـ مادہ فاسد تو آپریشن سے ہی نکل سکتا ہے ـ کبھی ڈاکٹر سے بھی کہا کہ معاف کر دیجئے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت عوام بے چاروں کی آپ کیا شکایت کرتے ہیں ـ اہل علم اس بلا میں مبتلا ہیں کہ غلطی کا تدارک نہیں کرتے ـ ایک صاحب کو جو صاحب علم بھی ہیں اور غلطی کے اقراری بھی تھے ـ تحریکات کے زمانے میں میں نے ایک غلطی پر کہا کہ تم اس کا تدارک کرو کہ اپنی غلطی بذریعہ اشتہار اعلان کرو کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا میں نے کہا کہ میں ایسے شخص سے کوئی تعلق نہیں رکھنا نہیں چاہتا کہ اعتراف کے بعد بھی اظہار حق سے عار کرتا ہو ـ اب دس دس برس کے بعد وہی صاحب اپنے نفس کو پامال کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے اور اعلان کیا میں صاف ہو گیا مجھ کو تو یہ ہی دیکھنا مقصود تھا ـ صاحب اس طریق میں پہلا قدم اپنے کو فنا کردینا ہے ـ اگر یہ بھی حاصل نہ ہو تو وہ شخص بالکل محروم ہے ـ یہ طریق ایسا نازک ہے کہ بعض اوقات اس میں کسی تشخیص کے بعد بھی سمجھنا مشکل ہوتا ہے ـ میں نے ایک شخص سے کہا تھا کہ تم میں کبر کا مرض ہے ـ صاف انکار کیا کہ مجھ میں کبر ہر گز نہیں بلکہ برا مانا کہ یہ مرض میرے اندر کیسے تشخیص کیا ـ پانچ برس کے بعد خود اقرار کیا کہ آپ کی وہ تشخیص میرے متعلق صحیح تھی ـ اب معلوم ہوا کہ میرے اندر کبر کا مرض ہے ـ میں نے کہا کہ بندہ خدا اگر جبھی مان لیتا تو اب تک علاج بھی ہو جاتا ـ پانچ برس کی مدت بہت ہوتی ہے ـ یہ سب ضائع ہو گئی ـ اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ اس طریق میں طالب کا فرض تقلید محض ہے ـ یعنی جو مربی کہے اس کو بے چوں و چرا مان لے قیل و قال سے اس میں کام نہیں چلتا ـ اس کا انجام محرومی ہے ـ ایک مثال سے سمجھ لیجئے اگر طبیب کسی شخص سے یہ کہے کہ تیرے اندر دق کے آثار ہیں تو اگر وہ تشخیص غلط بھی ہو تب بھی احتمال ہی کے درجہ میں بھی علاج کر لینے میں کیا حرج ہے ـ اس تقلید کی ایک محل مثال کہ طور پر عرض کرتا ہوں کہ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر میں کسی سے یہ کہوں کہ تمام شب جاگو اور بیٹھ کر مجھکو پنکھا جھلو ـ اس ریاضت کے لئے تیار ہو جائیں گے ـ اور سمجھیں گے کہ اب قطب بنادیں گے ـ اتنا بڑا کام ہم سے لیا ہے اور اگر یوں کہوں کہ خوب آرام کرو ـ تمام شب سوؤ خوب کھاؤ پیو فلاں گناہ چھوڑ دو ـ اس پر برا مانیں گے ـ اور اس پر اتباع نہ کریں گے ـ اور اس کو محض معمولی بات سمجھیں گے ـ یہ حالت ہے عقل اور فہم کی ـ
( ملفوظ 280) تحریکات میں شرکت سے اجتناب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ کے دور میں عجیب عجیب الزامات اور بہتان میرے سر تھوپے گئے ـ بعض لوگ کہتے تھے ان کو حس نہیں ـ اس لئے خاموش بیٹھے ہیں میں کہتا ہوں کہ بیٹھنے کا سبب بے حسی نہیں ـ بلکہ حس ہی بسبب ہے ـ وہ یہ کہ جو تم کو معلوم ہے ـ ہم کو بھی معلوم ہے اور تم سے زائد ہم کو ایک اور بات معلوم ہے ـ جس کیوجہ سے ہم خاموش ہیں ـ وہ یہ کہ بدون قوت کے مقابلہ کرنے میں ہم فنا ہو جائیں گے ـ مٹ جائیں گے کیونکہ ان تحریکات کی کامیابی کا نتیجہ ظاہرا ہندوؤں کا غلبہ ہے اور ہندو انگریزوں سے زیادہ دشمن ہیں ہر شخص شب و روز اسکا مشاہدہ کرتا ہے ـ دیکھ لیا جائے تمام دفاتر اور محکموں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے ـ اگر واقعات اور مشاہدات کو بھی نظر انداز کیا جائے تو اسکا کسی کے پاس کیا جواب ہے ـ
( ملفوظ 279) خرچ کی حدود اور انعامات الہیہ کا احترام
ملقب بہ حقوق الا نفاق ) ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا کی خدمت میں ایک پرچہ پیش کیا جو کسی دوسرے صاحب نے ان کے ہاتھ بھیجا تھا ـ ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں لکھی ـ جس کے لئے آدمی کو بھیجنے کی اور اتنا خرچ کرنے کی زحمت گوارا کی ـ خیر اگر آپ کو معلوم ہو تو آپ ہی کوئی بات بتلائیں ـ اس میں تو بالکل گول مول بات لکھی ہے ـ وہ صاحب خاموش رہے کوئی جواب نہیں دیا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ وہ کاتب صاحب سامنے نہیں خط کا مضمون کافی نہیں ـ آپ بولتے نہیں ـ اب کام کیسے چلے فرمایا بعضے لوگ زرا سی بات پر پیسہ کو نہایت بے دردی سے صرف کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ بھلا آدمی کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ـ ایک کارڈ سے جو کام ہو سکتا ہے اس کے لئے اتنا صرف اگر موقع محل اور ضرورت میں ہزار بھی صرف ہو جائیں تو دل کوقلق نہیں ہوتا فرمایا کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مثلا دونوں گھروں میں ضرورت کے موقع پر ایک ایک ہزار روپیہ دینے کا ارادہ کر لیا تو قلب میں تقاضا ہوتا ہے ـ کہ جلد یہ کام کردینا چاہیئے ـ مالکی محبت صرف کرنے سے مانع نہیں ہوتی ـ اور بے موقع اور بلا ضرورت ایک پیسہ صرف کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا ـ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک پیسہ گم ہو گیا دیر تک اس کو تلاش کیا نہیں ملا پھر نیاز سے کہا کہ تم بھی ڈھونڈھنا اب اس کو چاہے کوئی بخل ہی سے تعبیر کرے جب تک مل نہ گیا ـ چین نہیں آئی ـ کیونکہ وہ گم ہو جانا کسی مد میں شمار نہ تھا ـ فضول جانے کا قلق تھا اور اگر باوجود تلاش کے بھی نہ ملتا تو اس بھی ایک مد سمجھ رکھا ہے ـ وہ یہ کہ نہ ملنے پر صبر کا ثواب تو ملا ـ ایک ریاست سے ایک شخص کو محض اجوائن سیاہ مرچ پڑھوانے کے واسطے بھیجا گیا ـ سو جو کام ایک روپیہ میں ہو سکتا تھا ـ ڈاک کے ذریعہ سے اس میں اتنا صرف کیا فائدہ ایک شخص مجھ سے بیان کرتے تھے کہ فلاں نواب صاحب کا ایک چھوٹا سا لڑکا بیمار ہو گیا تھا تو اسی تمارداری میں روزانہ چار سو پانچ سو روپیہ صرف ہوتا تھا ـ یعنی ڈاکٹروں میں طبیبوں میں جھاڑ پھونک والوں میں شائد اتنا وزن لڑکے میں بھی نہ ہوگا جتنے وزن کی چاندی صرف ہو گئی ہوگی ـ اس سے میرا یہ مطلب یہ نہیں کہ صرف نہ کیا جائے یا پیسہ اولاد سے زیادہ عزیز ہے ـ مطلب یہ ہے کہ جیسے اولاد خدا کی نعمت ہے ـ پیسہ بھی ان ہی کی نعمت ہے اس کو بھی طریقہ سے ہی صرف کرنا چاہیئے ـ اور اس موقع پر بہت سا فضول بھی صرف ہو رہا تھا ـ ان نواب صاحب نے یہاں آدمی بھیجا دعاء کے لئے اور دس روپیہ بھیجے کہ ختم میں دعا کر دیجئے میں نے مزاہن کہا کہ وہ چیزیں تو اس قدر صرف کر رہے ہیں اور یہاں پر دس روپے بھیجے کم از کم پچاس تو بھیجے ہوتے اور یہ کہہ کر میں نے دو روپیہ رکھ لئے اور آٹھ واپس کر دیئے اور لکھ دیا کہ دو روپیہ میں ایک مہینہ تک دعاء ہوتی ہے ـ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اس مدت میں اس کو آرام ہوجائے گا ـ ایک مرتبہ میں بمبئی گیا ـ چھوٹے گھر سے حج کو جا رہی تھی ـ ان کو جہاز میں سوار کرنے گیا تھا ـ وہاں پر حکیم محمد سعید صاحب نے ہم لوگوں کیلئے ایک مکام کرایہ پر لیا تھا ـ بڑا مکان تھا کرایہ وہاں عموما بہت زیادہ ہوتا ہے ـ غالبا تین سو روپیہ میں لیا گیا تھا ـ حکیم صاحب کے یہاں سے کھانا وہاں ہی آجاتا تھا ـ اس میں غسل خانہ کے نام سے ایک حصہ تھا ـ مگر چونکہ وہ مکان نیا بنا تھا ـ اس میں غسل وغیرہ کرنا شروع نہ ہوا تھا کھا نا جو آتا تھا اس غسل خانے میں رکھ دیا جاتا اور کھانا خرچ سے بہت زائد آتا تھا اور کھا کر بچ جاتا تھا ـ تو کھانا لانے والے نوکر یہ حرکت کرتے کہ بچا ہوا کھانا اس غسل خانہ کی کھڑکی سے باہر نالی میں پھینک دیتے ـ اس نالی میں اس نالی میں گندہ پانی بہتا تھا ـ پھر علاوہ رزق کے احترام کے وہ کھانا صورۃ بھی نہایت عمدہ ہوتا تھا ـ پلاؤ ، زردہ ، قورمہ ، مزعفر مگر نا معقول اس کے نہ معنی کا ادب کرتے نہ صورت کا احترام مجھ کو ایک روز معلوم ہوا کہ کھانا اسطرح پھینک دیا جاتا ہے ـ مجھ کو اس قدر رنج اور صدمہ ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ـ میں نے ان لوگوں کو ڈانٹا کہ خدا کی نعمت کی یہ بے قدری کرتے ہو اور پھر میں نے حکیم صاحب سے شکایت کی کہنے لگے کہ یہ ایسے ہی نالائق ہیں ـ ممکن ہے کہ بعد میں زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کی ہو پھر بعد میں سمجھ میں آیا کہ وہاں کی فضا اور ماحول میں یہ اثر ہے کہ نعمت کی قدر نہیں کی جاتی ـ اور یہ ملازم گو بمبئی کے رہنے والے نہ تھے ـ ہندستانی ہی تھے مگر وہاں کے برتاؤ کو دیکھتے دیکھتے ان میں بھی بے حسی پیدا ہو گئی ـ اتفاق سے وہاں پر لوگوں کی درخواست پر ایک بیان ہوا ـ میں نے سوچا اگر اختلافی مسائل کا بیان کرتا ہوں تو فتنہ کا اندیشہ ہے ـ یہ وہاں پر بڑی آفت ہے ـ قتل تک کی سازشیں شروع ہو جاتی ہیں ـ اور اگر نماز روزہ کا بیان کرتا ہوں تو اسکو سب جانتے ہیں ـ اس لئے چنداں نفع نہیں ایسا بیان ہو کہ یہ بھی نہ ہوں اور اس میں نزاع بھی نہ ہو ـ اسلئے میں نعمت الہیہ کی قدر کے متعلق اس آیت کا بیان کیا ـ وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت اٰمنۃ مطمئنۃ یا تیھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف بما کانوا یصنعون ۔ کہ تم خدا کی نعمت کی قدر نہیں کرتے ـ اب اس بے قدری کا نتیجہ چند ہی روز ہی میں برآمد ہوا ـ واقف لوگوں سے معلوم ہوا کہ جن کی کئی کئی کروڑ کی حیثیت تھی ـ اب وہ سڑکوں پر رات بسر کرتے ہیں ـ خدا کی نعمت کی بے قدری کرنا ـ بڑی خطرناک بات ہے ـ میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا ـ ہمراہیوں میں خواجہ صاحب تھے اور ایک صاحب رئیس تھے ـ قنوج کے جوبہت دیندار آدمی تھے ـ کھانا ساتھ تھا ـ جب کھانا شروع کیا ـ اتفاق سے ایک بوٹی ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے کے تختے پر گر گئی ـ ان صاحب نے یہ کیا کہ اس کو جوتہ سے تختے کے نیچے سرکا دیا ـ مجھ کو انکی یہ حرکت بے حد ناگوار ہوئی ـ اب سوچا کہ اگر کچھ کہتا ہوں تو نیک آدمی اور رئیس پھر بوڑھے بھی ان کو کیا کہوں مگر تنبیہ ضرور تھی ـ یہ سمجھ میں آیا کہ ان کو عملی تبلیغ کرنا چاہئے میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ یہ خدا کی نعمت ہے ـ اس کو اٹھا کر اور دھو کر مجھ کو دی جائے ـ میں اسکو کھاؤں گا خواجہ صاحب بے حد نفیس آدمی ہیں ـ انہوں نے کہا اگر کوئی اور کھا لے تو کیا اسکو اجازت ہو سکتی ہے ـ میں نے کہا اجازت ہے ـ مشرطیکہ طبیعت گوارا کرے ـ مقصود تو خدا کی نعمت کا احترام ہے خواجہ صاحب نے اٹھا کر دھو کر صاف کر کے اس بوٹی کو کھا لیا ـ وہ صاحب اس وقت تو کچھ نہیں بولے مگر میری غیبت میں کہا کہ اگر پچاس جوتے مار لئے جاتے مجھ اسقدر شرمندگی نہ ہوتی ـ جتنی اس صورت میں ہوئی ہے ـ آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں ہو سکتی ـ میں گھر جاتا ہوں کہ کہیں پر روٹی کا ٹکڑا یا اناج کا دانہ کہیں دیکھتا ہوں کانپ جاتا ہوں ـ فورا اس کو اٹھاتا ہوں اوراحترام سے اسکو حفاظت کی جگہ رکھ دیتا ہوں ـ بعضی مرتبہ چنے وغیرہ گھونگنی کھانے کا اتفاق ہوتا ہے اور اچٹ کر کوئی دانہ گر جاتا ہے اگر شب کا وقت ہوتا ہے تو اس کو لالٹین سے ڈھونڈتا ہوں جب تک پا نہیں جاتا اور اس کو صاف کر کے کھا نہیں لیتا ـ قلب کو چین نہیں آتا ـ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ ” یا عائشہ اکرمی الخبز ” یعنی اے عائشہ رزق کا احترم کرنا چاہئے ـ یہ جس گھر سے نکل جاتا ہے پھر واپس نہیں آتا ـ یہ عبرت بڑے خوف اور عبرت کا مقام ہے ـ یعنی رزق کا گھر سے نکل جانا اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے پھر کیا نوبت ہوتی ہے ـ اگر آئے گا بھی تو شائد کسی آئندہ نسل میں آئے گا اس کو میسر ہونا مشکل ہے ـ غالب یہی ہے حق تعالی کی نعمتوں کی بے قدری کرنا اور ان کا قلب میں احترام نہ ہونا صاف کفران نعمت ہے وہ عطا فرمائیں اور یہ قدر نہ کرے اس کا جو کچھ انجام ہوگا ظاہر ہے ـ ایک صحابی ہیں حضرت حزیفہ وہ فارس کی کسی مقام پر بطور دروہ حکام تشریف ہے گئے بڑے بڑے رئیس کفار ملاقات کے لئے آئے ـ آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور وہ تمام کفار بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے ـ آپ کے ہاتھ سے لقمہ چھوٹ گیا ـ آپ نے اٹھا کر صاف کر کے کھا لیا ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آپ بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ـ وہ کوئی خاص اور ممتاز جگہ نہ تھی یعنی وہاں قالین گدے نہ تھے ورنہ لقمے کو لگتا ہی کیا زمین میں بیٹھے ہوئے کھا رہے تھے ـ جبھی تو صاف کرنے کی نوبت آئی ـ مٹی میں ملوث ہو گیا ہوگا ـ ایک خادم نے چپکے سے عرض کیا کہ حضرت اس وقت یہاں پر بڑے بڑے دنیا دار کفار کا مجمع ہے ـ اور یہ ایسی بات کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ انہوں نے تولیت پست آواز سے کہا تھا مگر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا کہ کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے خلیل اور اپنے محبوب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو چھوڑ دونگا ـ کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کے ایمان کا ایمان قلب میں رچا ہوا تھا ـ جو بات آجکل ریاضتوں ، مجاہدو ، مراقبوں ، مکاشفوں سے پیدا کی جاتی ہے ـ وہ ان حضرات کے ویسے ہی حاصل یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کرنا چاہئے ـ اسراف سے بچنا بھی اسی قدر میں داخل ہے اور اسراف کا سہل علاج یہ ہے کہ جب خرچ کرو سوچ کر خرچ کرو کہ ضرورت ہے یا نہیں ـ یونہی مت اڑادو ـ اس کے متعلق تو نص ہے ـ فضول مال اڑانے والوں کی نسبت حق تعالی فرماتے ہیں ـ ولا تبزر تبزیرا ان المبزرین کانوا اخوان الشیاطین فضول مال اڑانے والوں کو شیطان کا بھائی فرمایا اس بڑھ کر کیا وعید ہو سکتی ہے ـ ایک مقام پر فرماتے ہیں ـ ان اللہ لا یحب المسرفین غرض جہاں صرف ہو حدود کے اندر ہو ـ
16 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 277) زیادہ محبت سے زیادہ رعب پیدا ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے سلسلہ کی مقبولیت اور نافعیت الحمدللہ کھلی ہوئی ہے ـ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اسی کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہماری روشنی ہمارے بعد دیکھنا اب وہ روشنی کھلی آنکھوں نظر آرہی ہے ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تو بعض کرامتیں بھی عجیب و غریب سنی ہیں ـ فرمایا کہ جی ہاں ایک مرتبہ کسی کے کھیت میں آگ لگ گئی ـ کھیت والے نے آکر شکایت کی آپ نے سر سے ٹوپی اتار کر دے دی کہ جلدی س جا کر آگ میں ڈال دو ـ وہ لے جا کر ڈال دی گئی آگ فورا بجھ گئی ـ ایک مرتبہ بیوی صاحبہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ـ ولی ہیں بزرگ ہیں ، ہاں ہوں گے مگر ہماری تکلیف میں تو کام نہ آئے ـ ان کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہی تھی ـ بابینا ہو گئی تھیں ـ حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ سن کر چلدیئے کہ کوئی جواب نہ دیا ـ یہ قضاء حاجت کے لئے چلیں ـ کسی دیوار میں بڑی زور سے ٹکر لگی بیہوش ہو کر گر گئیں اور اسقدر پسینہ آیا کہ کپڑے تر ہو گئے اور آنکھوں سے بھی پسینہ نکلا ہوش آیا تو ایک لڑکی سے کہا کہ مجھ کو تو دیوار پر بیٹھی چڑیا نظر آرہی ہے نظر عود کر آئی آنکھوں سے جو پسینہ نکلا وہ رطوبت کا مادہ تھا ـ اس کے نکلنے سے آنکھ صاف ہو گئی ـ
( ملفوظ 276) وصول میں تاخیر حکمت کی بنا پر ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں حضرت حاجی صاحب کے پاس سے تازہ آیا ہوا تھا ـ طبیعت میں شورش بہت تھی ـ جی چاہتا تھا کہ جو کچھ ہونا ہو ـ یک دم ہو جائے ـ ایک بار اسی غلبہ میں چند مقدمات ذہن میں جمع ہو کر ایک سوال پیدا ہوا کہ ایک مقدمہ یہ تھا کہ کامل درجہ کی نہ سہی مگر پھر بھی اپنی استعداد کے موافق طالب میں طلب بھی ہے ـ اور دوسرا یہ کہ اس طلب کا ان کو علم بھی ہے ـ تیسرے یہ کہ وہ قادر بھی ہے ـ چوتھا یہ کہ وہ رحم بھی ہے مگر باوجود ان دواعی کے اجتماع کے پھر وصول الی المقصود میں دیر کیوں ہوتی ہے ـ جب اشکال زیادہ بڑھا میں نے مثنوی کھولی تو اس میں یہ اشعار نکلے ـ چار می جوید پے من درد تو ( اس میں طلب کا ذکر ہے ) میثوم دم و دش آہ سرد تو ( اس میں علم کا اثبات ہے ) می توانم نہم کہ بے ایں انتظار رہ نمایم وادہم راہ گذار ( اس میں قدرت کا ذکر ہے ) تا ازیں طوفان دوران وار ہی بر سر گنج و صالم پا نہی ( اس میں لطف و رحمت کا بیان ہے ان سب مقدمات کے بعد یہ شعر ہے
لیک شیر ینی ولذت مقر ہست براندازہ رنج سفر
آنگہ از فرزند و خویشاں بر خوری کز غریبی رنج و محنت ہابری
( ملفوظ 275) آجکل کی متانت کبر سے ناشی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کی متانت اکثر کبر سے ناشی ہوتی ہے ـ اسی معنی کے اعتبار سے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ شوخی آدمی کی روح زندہ ہوتی ہے اور نفس مردہ اور متین آدمی کا نفس زندہ ہوتا ہے اور روح مردہ ہنسنا بولنا بے تکلف رہنا یہ روح کے زندہ ہونے کی دلیل ہے مگر اس میں بھی اعتدال کی ضرورت ـ ہے چناچہ کتابوں میں لکھا ہے کہ زیادہ باتیں یا زیادہ مزاح مت کرو ـ اس سے وقار جاتا رہتا ہے ـ یعنی اسکا ضروری درجہ جو کہ مصالح کے لئے مطلوب ہے اور خدا داد ہوتا ہے ـ اس لئے اسکی حفاظت ضروری ہے لیکن اسکی حفاظت کسی خاص اہتمام و تکلف پر موقوف نہیں اور زیادہ باتیں کرنے سے مراد فضول گوئی ہے ـ اس سے ظمت پیدا ہوئی ہے قلب سے نورانیت جاتی رہتی ہے ـ دیکھا جاوے کس کو ترجیح دیتا ہے ـ اصل اور قوی تعلق اس سے سمجھا جاویگا ایسا دو سے نہیں ہو سکتا
( ملفوظ 274)عورتوں کے سر منڈانے سے ڈاڑھی نکل آنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فطری چیزوں میں دخل دینا حماقت اور عقلی ہے ـ امریکہ میں عورتوں نے سر منڈانا شروع کیا تو ان کے ڈاڑھی نکلنا شروع ہوگئی ـ تب ڈاکٹروں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی ـ واقعی عورتوں کے سر پر بال رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اس طرف کے بخارات اس طرف کو نکلتے ہیں ـ وقوع ضرر کے بعد یہ حکمت سمجھ میں آئی ویسے کون ماننے والا ہے ـ
( ملفوظ 273) حضور کی صحبت کا صحابہ کرام پر اثر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ کا تو کمال ہے ہی مگر اصل کمال تو حضور کا ہے کہ آپ کی تھوڑی سی صحبت سے صحابہ کیا سے کیا ہو گئے اور ان کمالات کے ہوتے ہوئے آپ کی شان امیت ایسی ہے جیسے کسی ایسے حسین کی شان کہ اس کے بدن پر نہ تکلف کے کپڑے نہ بناؤسنگار مگر دلربائی کی یہ کیفیت ہو ـ
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خدا داد آمد
( وہ محبوب مجازی سب بناؤ سنگار کے متاج ہیں ـ ہمارے محبوب کا حسن حسن خدا داد ہے ـ )

You must be logged in to post a comment.