ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضی چیزیں ایسی ہی ہیں جو بیان میں نہیں آ سکتیں ـ محض وجدانی اور ذوقی ہوتی ہیں اور اس طریق میں زیادہ چیزیں ایسی ہی ہیں جن کے بیان پر قدرت نہیں ـ یہی شان ان حضرات کے کمالات کی ہے کہ نہ انکی تعبیر ہو سکتی نہ نقل اسی کو فرماتے ہیں ـ
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
ہزار نکتہ بار یکترز مو اینجائیت
نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
( یہ بات نہیں ہے کہ جس نے بناؤ سنگھار کر لیا وہ ادائے معشوقانہ بھی جانتاہو ـ نہ یہ ہے کہ جس کے پاس آئینہ ہو وہ سکندر بھی ہو ـ یہاں راہ سلوک میں ہزاروں نکتے بال سے باریک ہیں ـ صرف سر منڈانے اور درویشوں کا ظاہری لباس پہن لینے سے قلندری کا علم نہیں ہوتا ـ ) اور فرماتے ہیں
شاہد آن نیست کہ موئے و میانے دارد بندہ طلعت آن باش کہ آنے رارد
( حسن کے لئے زلفیں داراز ہونا اور کمر کا پتلی ہونا کافی نہیں اس محبوب کے طلبگار بنو جس میں ادائیں ہو ـ ) اور فرماتے ہیں ـ
گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید لیک حیرانم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( مصور اس محبوب کی صورت کی تصویر تو کھینچ دے گا مگر میں حیران ہوں کہ اس کے نازو انداز کی تصویر کس طرح کھینچے گا ـ )
اور وہ ایک کیفیت ہے وہ مقال میں کس طرح آوے گی وہ تو حال ہے ـ
( ملفوظ 271) اسلامی قانون کی خوبی اور حضرت عمر کا کمال عقل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز جج تھا ـ وہ انگریزی قانون اور اسلامی قانون کا موازنہ کیا کرتا تھا ـ اس کے یہاں ایک مقدمہ آیا ـ ایک شخص نے بیوی کو قتل کیا تھا ـ اور اس کے ایک سات سال کی بچی تھی ورثاء مقتول کا قصاص نہیں لینا چاہتے تھے اور قانون میں یہ معافی جائز نہ تھی ـ سزائے موت ضروری تھی ـ اس پر جج نے کہا کہ یہاں اسلامی قانون کی ضرورت ہے ـ یعنی معافی جائز ہونا چاہیئے ورنہ ماں تو یوں گئی اور باپ یوں گیا ـ تو اب اس کی پرورش کون کرے گا ـ مگر چونکہ قانون حکومت اس کے خلاف تھا ـ اس نے روئداد بدل دی اور اسکو رہا کر دیا ـ اسی موازنہ کے مناسب ایک اور انگریز کا قول یاد آیا ـ اس کے پاس ایک صاحب سرشتہ دار تھے ـ ان سے اس انگریز نے کہا تھا کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے متعدد بیدار مغز کام کے رہے ہیں اور تقریبا ڈیڈھ سو برس حکومت کرتے ہوگئے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیرہ برس میں انتظام کی جس حد تک پہنچے ہماری جماعت نہیں پہنچے ـ انہوں نے کہا اب آپ قائل ہوں گے کہ ان کے ساتھ یہ تائید غیبی تھی ـ اس نے کہا یہ تو آپ کا عقیدہ ہے مگر ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عاقل اعلی درجہ کے تھے ـ انہوں نے کہا ہمارے یہاں عقل کے ایسے ہی درجہ کا نام تائید حق ہے اسی عقل کے متعلق سفیر اسلامی نے ہرقل کے دربار میں جب اس نے حضرت عمر کی حالت کے متعلق پوچھا وہ چھوٹے چھوٹے جملے حضرت عمر کی تعریف میں کہے تھے ـ لا یخدع ولا یخدع ( وہ نہ دھوکہ دیتے ہیں نہ دھوکے میں آتے ہیں ) اس سے ہرقل جو کچھ سمجھا وہ بھی قابل تعریف ہے ـ چناچہ اس نے اہل دربار سے کہا کہ تم کچھ سمجھے لا یخدع خلیفہ کے دین کا کامل ہونے کی دلیل ہے ولا یخدع ان کے فراست اور عقل کے کامل ہونے کی دلیل ہے ہے اور جس شخص میں دین اور عقل جمع ہوں گے وہ سارے عالم پر غالب آ کر رہے گا ـ
( ملفوظ 270)کتابوں سے پیدا ہونے والی بزرگی میں غلو ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگی کی دو قسمیں ہیں ـ ایک وہ جو بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے اور ایک جو کتب بینی سے مکتسب ہوتی ہے ـ اس دوسری قسم میں اس کی کوئی بات ٹھکانے کی نہیں ہوتی ـ کوئی خاص رنگ پیدا نہیں ہوتا ـ یہ لوگ ہر بات میں غلو کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ـ
( ملفوظ 269)بزرگوں اور امراء کے خدام میں فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کے خادم واقعی خادم ہوتے ہیں اور امراء کے خادم خادم نہیں ہوتے ـ محض اجیر اور خود غرض ہوتے ہیں ـ بزوگوں کے خادم خواہ بیوقوفی سے کچھ گڑبڑ کر دیں مگر نیت فاسد نہیں ہوتی ـ جو خدمت کرتے ہیں ـ محبت سے کرتے ہیں ـ
( ملفوظ 268) اب مولوی ہونا بھی جرم ہو گیا ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں تو عورتوں کے اعتراض کرنے والوں میں بھی ایک خوبی ثابت کیا کرتا ہوں اور کہا کرتا ہوں کہ مولویوں کو یہ لوگ مقدس سمجھتے ہیں ـ جب ہی تو تقدس کے خلاف پرواویلا مچاتے ہیں اور مولویوں کا بھی اس میں نفع ہے اس لئے اعتراض ہونا ہی اچھا ہے ـ اسی اعتراض کی وجہ سے مولوی لوگ بچیں گے گو معترضین ک نیت یہ نہیں بلکہ ان کے نذدیک تو خود آجکل مولوی ہونا جرم ہے ـ ان کو مولویوں سے عناد ہے ان سے عداوت کرتے ہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عیوب چپکاتے ہیں ـ
( ملفوظ 267) عقیقہ میں حدود کی قید مستحب ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عقیقہ میں جو لڑکے اور لڑکی کے لئے جانور کی عدد کی قید ہے تو کہا یہ بھی قید ہے کہ لڑکی کہ لئے مونث اور لڑکے کے لئے مذکر ہو فرمایا کہ یہ قید اور عدد کی قید بھی مستحب ہے ـ واجب نہیں ـ
( ملفوظ 266)قصبات میں عورتوں کی عفت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل جہاں جہاں اس جدید تعلیم کا اثر ہو گیا ہے وہاں عورتوں کی حالت بھی بدلنے لگی ہے ـ مگر بحمدللہ ان قصبات میں ابھی تک اکثر حیا شرم والی ہیں ـ بلکہ باہر پھرنے والی بھی اکثر عفیف ہوتی ہیں ـ واقعی اس نواح کی عورتیں حوریں ہیں ـ جن کی شان میں آیا ہے ” فیھن قصرات الطرف ” ( وہ ایسی ہونگی کہ شوہروں کے سوا کسی مرد کی طرف نگاہ نہ اٹھائی ہوگی ) یہاں کی عورتیں بھی ایسی عفیف ہیں ان میں کافی حیاء اور شرم ہے ـ
( ملفوظ 265)عشق عجیب چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں نے بڑا خیال رکھا ہے کہ ایسی جگہ رہیں کہ جہاں ان کو کوئی پہچانے نہیں ـ حیدرآباد کے ایک بزرگ تھے اجمیر میں ناشناسائی کی حالت میں ریاضیات مجاہدات میں لگے رہے اور بارہ برس تک پاخانہ کمایا کسی کوبھی پتہ نہ چلا ـ عشق بھی عجیب چیز ہے کیا کچھ نہیں کرادیتا ـ
ایں چنیں شیخ گدائے کو بہ کو عشق آمدلا ابالی فا تقوا
( ایسا شیخ کامل اور عشق کی بدولت گلی گلی میں فقیر بنا پھرتا ہے ـ عشق میں جوشان استغناء ہے لہذا اس کو کسی کی پرواہ نہیں ـ ذرا ہوشیار رہنا ـ )
اس عشق اور محبت کا ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک قاری صاحب تھے ـ ریاست رامپور میں انہوں نے حج کا ارادہ کیا ـ خرچ پاس نہ تھا سفر شروع کیا ـ دن کو روزہ رکھتے ـ پیدل چلتے اور شام جہاں ہوجاتی ٹھر جاتے کچھ چنے ساتھ لے لئے تھے ـ دن کو روزہ رکھتے شام کو ایک مٹھی چنوں سے افطار فرمالیتے غرض اسی طرح بمبئی پہنچ گئے ـ کوئی جہاز تیار ہوا کپتان جہاز سے ملے کہ ہم جدہ جانا چاہتے ہیں اور خرچ ہمارے پاس نہیں ـ ہم کوئی نوکری جہاز میں دیدو ـ اس نے نورانی صورت دیکھ کر سمجھا کہ ان کو ایسی نوکری بتاؤں جس کو یہ قبول ہی نہ کر سکیں ـ کہا کہ بھنگی کی جگہ خالی ہے ـ انہوں نے کہا کہ مجھے منظور ہے اس نے دیکھا یہ تو اس پر آمادہ ہیں تو اور بات گھڑی کہ محض بھنگی ہی کا کام نہیں اس کےساتھ بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے ـ انہوں نے کہا وہ بھی منظور ہے ـ اس نے کہا کہ اچھا بوجھ اٹھانے میں امتحان دو ایک بورا تھا جس میں اڑھائی تین من وزن تھا کہا کہ اس کو اٹھاؤ انہوں نے اس بورے کے پاس پہنچ کر حق تعالی سے دعا کی کہ یہاں تک تو میرا کام تھا ـ اب آگے آپ کا کام ہے ـ مجھ میں قوت دیدیجئے پس بسم اللہ کہہ کر بورے کو سر سے اونچا اٹھا لیا تب تو کپتان جہاز مجبور ہوا ـ انہوں نے بھنگی کا کام شروع کر دیا ـ شب کے وقت قاری صاحب حسب معمول تہجد پڑھتے ـ ایک روز جہاز کے کنارے پر کھڑے تہجد پڑھ رہے تھے اور اس میں جہر کے ساتھ تلاوت کررہے تھے کہ اتفاق سے وہ انگریز کپتان جہاز اس طرف آ نکلا ـ قرآن شریف بہت ہی عمدہ پڑھتے تھے ـ انگریز کو سن کر بہت اچھا معلوم ہوا ـ قاری صاحب نے جب سلام پھیر دیا تو اس نے پوچھا کہ تم کیا پڑھتے تھے ـ کہا کہ قرآن پوچھا کہ قرآن کس کو کہتے ہیں کہا کہ ایک کتا ہے خدا کا کلام ـ اس نے کہا کہ ہم کو بھی سکھا دو انہوں نے کہا کہ ہر شخص نہیں سیکھ سکتا ـ اس لئے پاک ہونے کی ضرورت ہے ـ اس پر کہا کہ ہم غسل کر لیں گے ـ انہوں نے کہا کہ ظاہری غسل سے کچھ نہیں ہوتا ـ باطنی غسل کی ضرورت ہے ـ کہنے لگا باطنی غسل کیسے ہوتا ہے ـ فرمایا : لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے سے ہوتا ہے یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم کو سکھلا دو انہوں نے سکھلا دو اور وہ اسکو یاد کرتا پھرتا تھا ـ دوسرے انگریزوں نے اس کی میم سے کہہ دیا ـ میم نے پوچھا کیا تم مسلمان ہو گئے کہا نہیں پھر اس نے قاری صاحب سے کہا کہ کیا ہم کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو گئے ـ انہوں نے فرمایا آج کیا مدت ہوئی اول کچھ گھبرایا ـ اس کے بعد کہا کہ اچھا ہم مسلمان ہی ہوتے ہیں اور میم سے کہہ دیا کہ اگر ہمارا ساتھ دینا ہے تم نے بھی مسلمان ہو جاؤ اس نے انکار کیا ـ آخر جدہ پہنچ کر اپنے نائب کو چارج دے کر خود قاری صاحب کے ساتھ ہو لیا ـ اور خادموں میں داخل ہوکر حج کوچلا گیا ـ تو حضرت یہ عشق وہ چیز ہے کہ اس میں آبرو مال و جان سب کچھ دے بیٹھتا ہےکچھ بھی پروا نہیں کرتا ـ ہم میں اسی کی کمی ہے ـ ورنہ جس کے اندر یہ حالت پیدا ہو جائے اس پر خدا کا بڑا فضل ہے ـ
( ملفوظ 264)اپنی غلطی کی تاویل نہ کرنا سچی محبت کی دلیل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر مرید کو شیخ سے سچی محبت ہو تو کبھی اس کے سامنے اپنی غلطی کی تاویلیں نہیں کر سکتا ـ محبت کا یہی اقتضاء ہے کہ وہ محبوب سے اونچ نیچ نہیں کرتا ایسا کرنا خود علامت ہے ـ عدم محبت کی ـ غزوہ تبوک میں بعض صحابہ شریک نہ ہوئے تھے ـ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو منافقین نے تو تاویلیں کیں ـ کسی نے کہا بیوی بیمار تھی ـ کسی نے کہا کہ کھیتی پک رہی تھی مگر کعب ابن مالک جس وقت حضور کے سامنے آئے کچھ بھی تاویل نہیں کی اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں کسی اور بادشاہ کے سامنے ہوتا تو ایسی بات بناتا کہ مجھ پر جرم ثابت نہ ہوتا مگر سچی بات یہ ہے کہ کوئی عزر نہ تھا ـ محض سستی تھی ـ حضور نے فرمایا انہوں نے نے سچ بولا ہے حکم فرمایا کہ کوئی مسلمان اس سے نہ بولے اور دو صحابی اور بھی تھے ـ ان کا بھی یہی معاملہ ہوا ایک صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا کہ جب حضرت کعب بن ابن مالک نے سچ بول دیا تھا ـ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان سے بولنے کو کیوں منع فرمادیا ـ فرمایا کہ حضور اپنی طرف سے تھوڑا کچھ کر رہے تھے جو وحی سے حکم ہوتا تھا ـ فرمادیتے تھے نیز پورے طور پر پاک کس طرح ہوتے ـ بعض زخم تو آپریشن ہی سے صاف ہوتا ہے ـ غرض پچاس دن تک اسی حالت میں رہے ـ ایک مسلمان بھی ان سے نہیں بولا بڑا طویل قصہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ کعب ابن مالک فراماتے ہیں کہ مجھ کو اس زمانہ میں بڑی فکر یہ رہی کہ اگر میں حضور کے سامنے مر گیا ـ اسی حات میں تو حضور میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں گے ـ اور اگر حضور کی میرے سامنے وفات ہوگئی تو پھر مجھے عمر بھر کوئی مسلمان نہیں بولے گا میں ساری عمر یونہی رہا یہ یقین کے ساتھ اتنا جانتے تھے کہ صحابہ اس قدر جان نثار ہیں کہ حضور کی وفات کے بعد بھی حضور کے حکم کے خلاف نہ کریں گے اور آجکل یہ رنگ ہے لوگ اپنے مشائخ کے ساتھ تاویلیں کرتے ہیں ـ جھوٹ بولتے ہیں ـ میرے سامنے اپنی غلطی کی کوئی تاویل کرتا ہے میں تو کہہ دیتا ہوں کہ جب تم میں یہ امراض نہیں تو پھر آئے کیوں اور اصل سبب ان تاویلات کا یہ ہوتا ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس کے سامنے بات کھل گئی یا امراض ظاہر ہو گئے تو اس کی نظر میں ہماری حقارت اور ذلت ہوگی ـ استغفراللہ کیا ایسا شخص کسی کو ذلیل سمجھے گا جو خود ہی اپنے کو سب سے بدتر اور ذلیل سمجھتا ہے ـ اور سب کو معزز سمجھتا ہوفضول اسکے سامنے معزز بننا چاہتے ہیں ـ
( ملفوظ 263) بچوں کی شوخی شرارت محبوب ہوتی ہے
ایک صاحب نے اپنے لڑکے سے کہا جس کی عمر تقریبا سات یا آٹھ سال کی تھی کہ حضرت کو سلام کرو فرمایا کہ ان کا یہی اسلام ہے ـ جس میں یہ خوش رہیں فرمایا کہ اسلام بریاد آیا ـ حضرت مرزا صاحب مظہر جان جاناں رحمہ اللہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ ہم تمہارے لڑکوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ـ انہوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت ہیں نازک مزاج اور لڑکے ہوتے ہیں شوخ اور شریر ایسا نہ ہو کہ بے ڈھنگا پن کریں اور حضرت کے مزاج کے خلاف ہو اس سے حضرت کو تکلیف پہنچے کوئی بہانہ کر کے ٹال دیا ـ حضرت نے پھر دریافت فرمایا اب یہ سمجھے کہ بدون لڑکوں کے لائے پیچھا نہ چھوٹے گا ـ آخر لائے اور لانے سے پہلے ان کو تعلیم دی کہ دیکھو نیچی نظر کئے بیٹھے رہنا جو بات حضرت پوچھیں جواب دینا کوئی حرکت خلاف متانت نہ کرنا ـ اب آئے تو حضرت نے ان سے خوش مزاجی کی باتیں شروع کیں اب وہ لڑکے ہیں کہ سر نیچا کئے بیٹھے ہیں ـ کچھ حرکت نہیں کرتے حضرت نے بے حد کوشش کی کہ یہ کھلیں مگر ان میں کوئی تغیر نہ ہوا ـ حضرت نے فرمایا میاں تم اپنے لڑکوں کو نہیں لائے ـ عرض کیا کہ حضرت یہ حاضر تو ہیں فرمایا کہ یہ لڑکے ہیں یہ تو تمہارے بھی باوا ہیں ـ لڑکے تو ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمارا عمامہ اتار لے جاتا ـ کوئی گود میں چڑھ بیٹھتا کوئی کندھے پر سوار ہو جاتا ہے ـ واقعی یہ حضرات بڑے حکیم اور عادل ہوتے ہیں اس قدر تو نازک مزاج مگر بچوں سے وہی چاہتے تھے جو ان کا زیور ہے ـ شوخی شرارت کیونکہ ان کی تو یہی باتیں محبوب معلوم ہوتی ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.