( ملفوظ 262) ایک طالبعلم کی طلب سفارش پر نصیحت

ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو مہتمم مدرسہ دیوبند نے ایک غلطی پر مدرسہ سے خارج کر دیا ـ حضرت والا ایک سفارشی خط تحریر فرمادیں کہ وہ مجھ کو مدرسہ میں داخل فرمالیں فرمایا کہ مجھ کو واقعہ کا علم نہیں کہ وہ غلطی کیا ہے جس کی وجہ سے تم کو مدرسہ سے نکالا گیا ـ دوسرے یہ بتاؤ کہ مدرسہ کے قواعد ہی کے ماتحت فرمایا کہ تو اب سفارش کا مطلب یہ ہوگا کہ قواعد کوئی چیز نہیں ـ جس کو جی چاہا خارج کر دیا ـ جس کو جی چاہا داخل کر لیا اور بڑی بات تو یہ ہے کہ واقعہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ وہ غلطی ثقیل ہے یا ثقیل نہیں آیا وہ کسی کہ لئے مضر ہے یا مضر نہیں ـ نیز آئندہ احتمال اس غلطی کے ہونے کا ہے یا نہیں ـ اس کو مہتمم مدرسہ ہی سمجھ سکتے ہیں تم ایک عرصہ مدرسہ میں رہ چکے ہو ـ وہ تمہاری حالت سے بخوبی واقف ہیں ـ سفارش کس بنا اور کس اطمنان پر کروں ـ دوسرے یہ کہ میں سفارش کے باب میں بہت محتاط ہوں اگر کوئی کام واجب ہو تب تو سفارش مطلقا جائز ہے ـ باقی مباح میں بھی آجکل میاں سفارش کو جائز نہیں سمجھتا ـ مخاطب پر ایک قسم کا بار ڈالنا ہے جو شرعا بھی جائز نہیں ـ البتہ اگر ایسی سفارش ہو کہ یقین ہو کر مخاطب بالکل از درہیگا چاہے عمل کرے یا نہ کرے یہ شفاش بے شک جائز ہے اور یہ سفارش حقیقت میں مشورہ کی ایک فرع ہے ـ باقی جس سفارش میں یہ احتمال بھی ہو کہ مخاطب خلاف نہ کر سکے گا ـ ایسی سفارش کرنا گویا کہ تنگ کرنا ہے ـ اسکو میں شرعا جائز نہیں سمجھتا ـ پھر ان طالب علم کی طرف حضرت والا متوجہ ہو کر نہایت شفقت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ میں ایک بات بتلاتا ہوں ـ محض تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی کی بناء پر وہ یہ کہ سفارش کا تو اکثر اثر بھی اچھا نہیں ہوتا ـ سب سے بہتر یہ ہے کہ تم خود جا کر ہاتھ پاؤں جوڑ کر معافی چاہو اس سے اکثر اوقات اچھا اثر ہوتا ہے ـ دل پگھل جاتا ہے اور سفارش پر اگر داخل ہو بھی گئے اور پھر کوئی نہ کوئی بات ہوگئی تو سفارش کرنے والے پر بھی الزام کہ صاحب ایسے شخص کی سفارش کی پھر کہاں سے سفارش لاؤگے ـ اور یہ ایسی چیز ہے کہ ہر وقت اپنے پاس ہے فورا معافی چاہ لی جاؤ یہی کرو انشاءاللہ تعالٰی اثر اچھا ہوگا ـ اور میں دعا بھی کرتا ہوں ـ
13 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ

( ملفوظ 261)شمشیر و سناں اول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کی اصلی کام نہ زراعت ہے نہ تجارت ہے ان کا کام تو شمشیر زنی ہے اور تجارت وغیرہ کے کام تو ہندوؤں کے ہیں ـ ایک صاحب نے بیان کیا کہ مسلمان ڈنڈی نہیں اٹھا سکتے ـ ان کا کام حکومت تھا ـ اگر کہیں مقابلہ کا مقابلہ ہو یا پولیس اور فوج میں بھرتی کی ضرورت ہو یہ کام ان کا ہے اور ڈنڈی اٹھانے کا کام ہندوؤں کا فرمایا کہ اس کا ایک راز ہے وہ فطری مناسبت اسی چیز سے ہوتی ہے جو آباء اجداد کا پیشہ ہو ـ چناچہ مسلمانوں میں بھی بعض ایسی نو مسلم قومیں ہیں جن کا آبائی پیشہ تجارت ہے ان کو اصول تجارت خوب یاد ہیں قریب قریب تمام قوم متمول ہے ـ

( ملفوظ 260)قبول ہدیہ سے انکار

ایک صاحب نے پرچہ کے ذریعہ سے حضرت والا سے درخواست کی کہ میرا جی چاہتا ہے پنچ روپیہ پیش کرنے کو ان صاحب نے بھی بذریعہ خط حاضری کی اجازت چاہی تھی ـ اور اس ہی شرط پر اجازت ملی تھی کہ یہاں پر آکر مجلس میں خاموش بیٹھے رہو ـ مکاتبت مخاطبت نہ کروـ اور ان کی تعلیم حضرت والا کے ایک اجازت یافتہ صاحب کے سپرد تھی ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرمایا کہ مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہ تھی ـ تو یہ پرچہ لکھنا مکاتبت مخاطبت میں داخل نہیں ہے اور کیا یہ صریح امر کی مخالفت نہیں ہے ـ عرض کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اصلاح کے متعلق مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں ـ فرمایا کہ یہ تم نے کیسے سمجھ لیا اور یہ اجتہاد کیسے کر لیا ـ نیز اصلاح تو دین ہے اور روپیہ دینا دنیا ہے تو جب دین ہی کے لئے اجازت نہ تھی مکاتبت مخاطبت کی تو دنیا کے لئے تو کیسے ہو سکتی ہے ـ کیا مجھ کو آپ نے بے حس ، بے غیرت ، بے شرم ، بے حیا ، سمجھا ہے ـ دوسری تکلیف مجھ کو یہ ہوئی کہ میں نے آپکو مکاتبت مخاطبت کی بھی اجازت نہ دی اور آپ مجھ کو روپیہ دیں تو کیا مجھ کو غیرت نہ آئے گی کہ ایک شخص تو میرے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہے اور میں اسکے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہوں ـ تیسرے محسن کا خواہ مخواہ قلب پر اثر ہوتا ہے تو میں آزادی سے تمھاری اصلاح لئے نہیں کر سکتا اس وقت تم نے مجھ کو سخت تکلیف پہنچائی ـ بے حد دل دکھایا تمھارے نفس کا کید ہے ـ تم یہ سمجھے کہ روپیہ لیکر نرم ہو جائے گا ـ مراعات کرے گا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ محسن کے ساتھ دل چاہتا ہے کہ ہماری طرف سے بھی کوئی ایسی بات ہو کہ جس سے اسکا دل خوش ہو ـ غرض تم نے کئی طرح کی تکلیف دی ـ ایسی حالت میں تمہارا روپیہ لینا کیا بے غیرتی اور بے حیائی نہیں ہے ـ

( ملفوظ 259)اصلاح ضروری ہے بیعت ضروری نہیں

ایک نو وارد صاحب نے حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی مگر حضرت والا کہ دریافت فرمانے پر بھی نہ اپنا پورا تعارف کرایا ـ نہ ضروری سوالات جا جواب دیا ـ اس پر حضور والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس چیز کو انسان سمجھے گا نہیں ـ اس کی طلب کی کیا خاک کرے گا ـ سب سے پہلے طریق کی حقیقت کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے تب آگے بڑھے میرے یہاں مرید ہونے میں اس واسطے دیر لگتی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے مطلوب کی حقیقت سے باخبر ہو جائے ـ حقیقت سمجھ لینے کے بعد پھر مریدی کا مضائقہ نہیں مگر لوگ اسکو ٹالنا سمجھتے ہیں ـ اور بدون کسی چیز کے سمجھے ہوئے اور حقیقت معلوم کئے ہوئے اس میں قدم رکھنا نہایت غلطی ہے محض مرید ہونا کافی نہیں بلکہ اس کی تو ضرورت ہی نہیں ـ اصل ضرورت تو کام کرنے کی ہے اور وہ بلا مرید ہوئے بھی ہو سکتا ہے اور اس میں وہی نفع ہوتا ہے ـ جو مرید ہوجانے کے بعد کام کرنے سے ہوتا ہے ـ معلوم نہیں لوگ بیعت پر اسقدر اصرار کیوں کرتے ہیں یہ تو محض رسم ہی رسم ہے ـ اصل چیز کام کرنا ہے اور اگر محض برکت سمجھتے ہیں تو قرآن پاک کی تلاوت میں نفلیں پڑھنے میں اس سے زیادہ برکت ہے اس کو اختیار کریں یہاں پر تو کام کرنے والوں کی کھیت ہے ویسے ہی جمع کر کے فوج تھوڑا ہی بھرتی کرنا ہے یا محض نام کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے کہ ہمارے اسقدر مرید ہیں اور اگر کسی کو محض ہو یہ ہی مقصود ہے تو ایسے پیر بھی بکثرت ہیں ـ انکے یہاں رجسٹر بنے ہوئے ہیں ـ مریدوں کے نام مع نشان درج کئے جاتے ہیں ـ جاؤ وہاں کسی قسم کی روک ٹوک بھی نہیں ـ خواہ مرید کے کیسے ہی افعال ہوں ـ صرف اس کی ضرورت ہے کہ ششماہی یا سالانہ فیس ادا کردو اور جب تک پیر کے پاس رہو دونوں وقت لنگر میں کھانا کھاؤ اور یہ لنگربازی بھی ایسی جگہ ہوتی ہے ـ جہاں اس قسم کی رسمی آمدنی ہو ـ ہم بیچارے غریب آدمی ہمارے یہاں رسمی آمدنی کہاں ـ ہم کو تو اگر دیتا بھی ہے تو اس میں سوفی نکالی جاتی ہیں کوئی ہفتہ اس سے خالی جاتا ہوگا کہ ایک دو منی آڑو واپس نہ ہوتا ہو ـ میں اپنے آپ کو مستثنی نہیں کہتا مگر ہاں اتنا ضرور ہے کہ بے طریقہ اور بے اصول اگر کوئی دیتا ہے لیتے ہوئے غیرت آتی ہے ـ اگر کسی کو دینا ہو طریقہ سے دے لینے سے انکار نہیں یہ ہیں وہ باتیں جن کی وجہ سے میں سخت مشہور ہوں ـ اور بدنام ہوں ـ خیر بدنام کیا کریں میری جوتی سے کیا میں نہیں سمجھتا کہ اس طرز معمول میں میری آمدنی کا نقصان ہے ـ میں کوئی دیوانہ تھوڑی ہی ہوں کہ میں اپنا نقصان چاہوں مگر لعنت ہے اس نفع پر کہ طالب تو جہل میں مبتلا رہے اور میں رقمیں اینٹھا کروں ـ میرے اس طرز سے میرے دو نقصان ہیں ـ ایک مال کا اور ایک جاہ کا ـ مال کا تو یہ نقصان کہ وہ لوگ پھر نہ دیں گے اور جاہ کا یہ نقصان کہ لوگ غیر معتقد ہو جائیں گے ـ مگر بلا سے غیر معتقد ہوجائیں ـ میں اپنے طرز کو نہیں بدل سکتا ـ اور متعارف اخلاقی مجھ سے نہیں اختیار کئے جاتے یہ طرز کسی کو نہ پسند ہے ـ یہاں نہ آوئے اور اگر آتا ہے تو جس طرح ہم کہیں گے چلنا پڑیگا ـ اتباع کرنا پڑیگا ـ لوگ چاہتے ہیں کہ مرید کر کے یونہی آزاد چھوڑ دو ـ جیسے ہندو سانڈھ چھوڑ دیتے ہیں ـ میں بد اخلاق ہوں ـ مگر دوسروں کے اخلاق کو درست کر دیتا ہوں ـ پھر اسکی رفتار سے گفتار سے نشست برخاست سے ہاتھ سے پاؤں سے زباں سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ سکتی ـ ایک پکے اور سچے مسلمان کی جو شان ہوتی ہے الحمدللہ وہ اسکے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ـ مگر آجکل لوگوں نے بزرگی کا انحصار صرف تسبیح میں نفلوں میں ٹخنوں سے اونچے پا جامہ میں گھٹنوں سے نیچے کرتہ میں کر رکھا ہے ـ خواہ کتنا ہی گندہ ہو جس کو ایک بزرگ فرماتے ہیں ـ
سبحہ برکیف توبہ برلب پر از ذوق گناہ معصیت را خندہ می آید بر استضفار ما
( ہاتھ میں تسبیح زبان سے توبہ توبہ ـ اور دل گناہ کے لطف سے بھرا ہوا ہو ـ تو گناہ کو بھی ہماری استغفار پر ہنسی آتی ہے ـ )
اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں ـ
از برون چوں گور کافر پر حلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از برون طعنہ زنی بر بایزید وز درونت ننگ دارد یزید
ظاہری حالت تو ایسی ـ جیسے کافر کی گور پر پرتکلف غلاف ہوں ـ اور باطنی حالات ایسے جو خدائے عزوجل کے قہر کے موجب ہیں ـ ظاہری حالت تو ایسی کہ حضرت بایزید بسطامی پر بھی طعنہ کرتے ہو کہ وہ بھی ایسے نہ تھے جیسے ہم ہیں اور تمہارے باطنی حالات ایسے ہیں ـ یزید بھی شرما جاوے کہ اتنا شوقی تو میں بھی نہیں ـ
حضرت اصلاح تو اصلاح کے طریقہ سے ہی ہوتی ہے اب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جو حساب ہم گھر سے لگا کر چلے ہیں ـ اس میں فرق نہ آئے ـ اسکا تو صاف مطلب یہ ہوا کہ کہ دوسرا ہمارے تابع رہے ـ ہم کسی کا اتباع نہ کرنا پڑے تو پھر گھر سے لانے کی تکلیف ہی کیوں گوارا فرمائی ـ گھر پر رہتے آزاد رہتے تو بلانے تو نہ گیا تھا کیا میرید ہونا کوئی پالا چھونا ہے ـ نام ہو جائے گا کہ ہم بھی مرید ہو گئے ـ اس سلسلہ میں بکثرت لوگ آتے ہیں خطوط بھی آتے ہیں مگر سب کے سب اس جہل عظیم میں مبتلا ہیں کہ مرید کرلو اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر میں مقصود کا طریقہ بتلاتا ہوں تو اس میں بھی باتیں بنا کر اینچ پینچ لگا کر پھر نتیجہ میں وہی بیعت کرے ـ بیعت کوئی فرض ہے ـ واجب ہے جو اس قدر اصرار ہے ـ اسی وجہ سے میں نے اب یہ قید لگائی ہے کہ اگر یہاں آؤ تو مکاتبت مخاطبت بھی نہ کرو خاموش بیٹھے باتیں سنا کرو تاکہ طریق کی حقیقت تو تم کو معلوم ہو جائے مگر بعضے ذہین ہیں کہ خاموش بیٹھے رہنے کی شرط پر آتے ہیں مگر پھر گڑبڑ کرتے ہیں ـ میں تو کہا کرتا ہوں یا تو لوگوں میں فہم کا قہط ہے یا مجھ کو عقل کا ھیضہ مگر ہر حال میں قحط زدہ اور ہیضہ زدہ میں مناسبت نہیں ہو سکتی لہذا ایسوں سے کہہ دیتا ہوں کہ کہیں اور جا کر تعلق پیدا کر لو مجھ سے تم کو مناسبت نہیں اور یہ طریق ایسا نازک ہے کہ بلا مناسبت نفع نہیں ہو سکتا ـ ایسی کھلی حقیقت پر بھی اگر کوئی برا بھلا کہے تو کہا کرے مجھ سے کسی کی غلامی نہیں ہوتی اگر کسی کو مجھ سے تعلق رکھنا ہے تو اس کو اس کا مصداق بننا چاہیئے ـ
یا مکن با پیلبا ناں دوستی یا بنا کن خانہ برانداز پیل
یا مکش پر چہرہ نیل عاشقی یا فرد شو جامہ تقوی نہ نیل
( یا تو فیلبان سے دوستی مت کرو یا پھر ایسا بناؤ جس میں ہاتھی آسکے اور یا تو چہرہ پر عاشقی کی علامت مت ظاہر کرو ـ اور اگر کرتے ہو تو جامہ تقوی کو دریائے نیل میں دھولو کہ عاشقی کے ساتھ تقوی کہاں رہ سکتا ہے ـ

(ملفوظ 258) ایک گائے کے آٹھ حصے

فرمایا کہ ایک بڑے تماشہ کا خط آیا ہے ـ لکھا ہے کہ ایک گائے قربانی کے لئے خریدی تھی اس میں آٹھ حصہ دار ہوگئے تھے ـ جب ذبح کر چکے تب معلوم ہوا کہ آٹھ حصہ دار ہیں تو کیا اگر اب ایک کو الگ کر دیں تو قربانی صحیح ہو جائے گی یا نہیں ـ اس پر فرمایا کہ اس الگ کردینے پر یاد آیا کہ ایک شخص نماز میں ایک ٹانگ الگ اٹھا ئے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا جب نماز ختم کر چکا کسی نے پوچھا کہ میاں یہ ٹانگ الگ کئے ہوئے نماز کیوں پڑھ رہے تھے ـ کہتا ہے کہ اس ٹانگ میں نجاست لگی تھی اور نماز کا وقت تھا تنگ دھوسکا نہیں ـ اس وجہ سے اسکو نماز سے الگ کردیا ـ قربانی کے بعد ان کا اٹھواں حصہ دار کو الگ کر دینا بھی ایسا ہی ہوگا ـ لوگوں میں فہم اور عقل کا تو بالکل نام و نشان نہیں رہا ـ
12 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 257) آمدنی اختیار میں نہیں مگر خرچ اختیار میں ہے

فرمایا کہ ایک مہتمم مدرسہ کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ خرچ مدرسہ کا بڑھا ہوا ہے اور آمدنی ہے نہیں سخت پریشانی ہے فرمایا میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اسکی وحی تو ہوئی نہیں کہ فلاں خاص پیمانہ پر ہو مدرسہ کہلائیگا ورنہ نہیں ـ ارے بھائی کام کم کردو خرچ خود کم کو جائے گا ـ اور اگر بالکل بھی آمدنی نہ ہو مدرسہ بند کردو کوئی فرض نہیں واجب نہیں اور ظاہر ہے کہ آمدنی کا ہونا تو اختیاری بات نہیں مگر خرچ کا کم کر دینا اختیاری بات ہے ـ ایک رئیس تھے میرٹھ میں انہوں نے بڑے کام کی بات کہی تھی کہ لوگ عموما آمدنی بڑھانے کی فکر کرتے ہیں جو غیر اختیاری ہے خرچ گھٹانے کی فکر نہیں کرتے ـ جو اختیاری ہے واقعی بڑے کام کی بات کہی ـ اکثر دنیا داروں کو تو ایسی حکمت کی باتیں سوجھتی بھی ہے ان کو تو اپنے تنغم اور عیش ہی سے فرصت نہیں ملتی ـ

( ملفوظ 256) غیروں میں شادی کرنے کا نقصان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لڑکی کا معاملہ بڑا نازک ہے ـ بڑے بڑے عالی دماغ اور آزاد لوگ اس معاملہ میں مغلوب ہو جاتے ہیں ـ محض اپنی لڑکی کے خیال کی وجہ سے بعض اوقات ذلت گوارا کرنی پڑتی ہے ـ یہ ایسا نازک تعلق ہے کہ کچھ بنائے نہیں بنتا پہلے بزرگ جو غیر خاندان میں تعلق نہیں کرتے تھے اس کا منشاء کبر نہ تھا ـ بلکہ واقعات کی بنا پر ایسا کرتے تھے اس میں بڑی مصلحت تھی کہ غیروں کا حال زیادہ نہیں معلوم ہوتا ـ اب تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بالکل صحیح رائے تھی ـ

( ملفوظ 255) محبیبن مال ظاہرا متقی ہوتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبین مال اکثر ظاہری متقی ہوتے ہیں ـ اس لئے کہ معصیت میں روپیہ صرف ہوتا ہے اور یہ ان سے ہو نہیں سکتا ـ

( ملفوظ 254) ظاہری تقوی سے دھوکہ نہ کھانا چاہیئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کا ظاہری تقوی طہارت دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا چاہیئے جبتک اس سے معاملہ نہ پڑا ہو بدون اس کے کیا خبر ہے کہ کیا حالت ہے حضرت عمر نے حاضرین سے سوال کیا کہ کوئی اس کو جانتا ہے ـ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں جانتا ہوں ـ نیک ہے دریافت فرمایا کہ کبھی سفر میں تمھارا اس کا ساتھ ہوا ہے کہا نہیں فرمایا کہ کبھی اس سے دوستد کا معاملہ ہوا ہے عرض کیا نہیں فرمایا کہ کبھی اس کے پڑوس رہے ہو کہا نہیں بس معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اسے مسجد سے نکلتے دیکھ لیا ہوگا ـ عرض کیا جی فرمایا تو تم نہیں جانتے ـ

( ملفوظ 253) ہندو مسلم اتحاد کی شرائط

ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت اگر ہندو مسلمان باہم حاکم محکوم نہ ہوں ـ بلکہ باہم مساوات ہوتو اس وقت مل کر ہندوؤں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں ـ فرمایا قواعد سے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت تجربہ کی بنا پر یہ دیکھا جائیگا کہ اشتراک میں نفع کس کو ہوگا اور ضرر کس کا ـ سو یہ تجربہ یہی کہہ رہا ہے کہ اگر صرف ہندو مسلمان کے ہاتھ میں حکومت آجائے اور تیسری قوم کے بے دخل ہو جانے میں کامیابی بھی ہو جائے تب بھی وہ حکومت ہندوؤں کی ہوگی ـ مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ ایک تو ترکیب کی خاصیت سے دوسرے ان کی اکثریت کی وجہ سے تیسرے ان کے طبائع کی حالت پر نظر کر کے اور عقلی طور پر بھی مقصود حکومت عادلہ آمنہ ہے اور ہندو مسلمانوں کے اشتراک میں یہ احتمال ہی نہیں کہ عدل ہو ، امن جیسا کہ ہندوؤں کی کارگزاریوں سے اس وقت ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کیو ہندستان سے مٹانا چاہتے ہیں یہ اپنے اس دلی مزاق سے باز نہ آئیں گے ـ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فساد اور خونریزی ہوگی اور جو مقصود ہے حکومت سے وہ حاصل نہ ہو گا ـ اسی بناء پر میں نے تحریکات کے زمانہ میں ایک مولوی صاحب سے کہاتھا کہ اول تو کامیابی موہوم اور اگر ہوئی بھی تو ہندوؤں کی ہوگی ـ اگر مسلمانوں کو بھی ہوئی تو تم جیسے مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ غور کرو کہ وہ کامیاب کس قسم کے مسلمان ہوں گے ـ بددین ملحد فرعون ہامان پھر دیکھنا تمہاری کیا گت بنتی ہے ـ
11 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ