ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق میں اصل چیز تو یہ ہے کہ قلب کا حق تعالی کے ساتھ صحیح تعلق ہو جائے باقی اورسب چیزیں اس کے تابع ہیں اور یہ پیدا ہوتا ہے اس وقت جب شیخ کامل کی تعلم پر بے چون و چرا عمل کرے ـ شیخ اسی چیز کے پیدا کرنے کے لئے جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے ـ اقویا کے لئے اور تجویز ہوتی ہے ـ ضعفاء کے لئے اور جیسا جس کے لئے تجویز کر دے اس کو چاہیئے کہ وہ اسی میں اپنی مصلحت سمجھے اصل چیز تو وہی ہے کہ جس کو میں ابھی کہہ چکا ہوں کہ قلب کا صحیح تعلق حق تعالی کے ساتھ ہو جائے ـ بس یہی طریق ہے باقی سب کچھ اسی کے پیدا کرنے کی تدابیر ہیں ـ
11 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 251)اعلاء السنن کا کام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بفضلہ تعالی دین کا بعض کام جو یہاں پر ہوا ہے وہ بڑی جگہوں میں بھی نہیں ہوا ـ امام صاحب کے مذہب کی تائید میں حدیثیں جمع کی گئیں اس سلسلہ کا نام اعلاءالسنن ہے ـ ان احادیث پر نظر نہ ہونے سے غیر مقلدوں کو تو شبہ تھا ہی مگر بعض حنفیوں کو بھی شبہ ہو گیا تھا کہ امام صاحب کا مذہب قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ـ الحمدللہ کہ کتاب مذکور کے تدوین سے یہ ظاہر ہو گیا کہ کوئی مسئلہ بھی امام صاحب کا قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گو اس میں بہت وقت اور بہت کچھ روپیہ صرف ہوا مگر حق تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ انہوں نے اپنے فضل و کرم سے اس کام کو انجام کو پہنچایا ـ الحمدللہ
( ملفوظ 250) تصوف آسان ، فقہ مشکل
ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں سب علوم سے زیادہ آسان تصوف کو سمجھتا ہوں اور سب سے زیادہ مشکل فقہ کو ـ
( ملفوظ 249)اہل اللہ کی عقل کامل ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ہر طبقہ میں ایک عجیب ہڑبونگ مچا ہوا ہے ـ رودلی میں عین مسجد کے اندر سماع ہوتا ہے اس کی اصل یہ سنی ہے کہ حضرت شیخ عبدالحق کو ایک مرتبہ اتفاقا عین حالت سماع میں وجد کا غلبہ ہوگیا اور وہ اس حالت میں اٹھ کر مسجد کے اندر چلے گئے تھے اور ساتھ ساتھ قوال بھی چلے گئے ـ مگر وہ تو مغلوب تھے اور یہ لوگ محفل نقل کرتے ہیں ـ اب اسی ترتیب سے مجلس ہوتی ہے یعنی سماع شروع ہوتا ہے مسجد کے باہر اور درمیان میں اٹھ کر مسجد میں جاتے ہیں اور ڈھولک سارنگی مسجد میں بجتی ہے ـ ان نقالوں سے کوئی یہ بھی پوچھے کہ کیا حضرت شیخ بھی ڈھولک سارنگی سے سماع سنتے تھے ـ یہ خوب تحقیق ہوگیا ہے کہ حضرات اہل سماع نے معازف مزامیر کبھی نہیں سنے اسی طرح ایک مسجد کے باہر سماع ہورہا تھا ـ ڈھولک سارنگی بج رہی تھی ـ نماز کا وقت آگیا ـ باجہ والے نماز کے لئے تو آلات کو بھی مسجد میں لے گئے ـ ایک صاحب نے اعتراض کیا ـ میں مسجد میں آلات معصیت ان اہل سماع میں ایک مولوی صاحب بھی تھے وہ جواب میں کیا کہتے ہیں کہ آپ بھی تو آلات زنا لئے ہوئے مسجد میں آئے ہیں ـ کیا بیہودہ جواب ہے ـ جس چیز کو انہوں نے آلہ معصیت کیا ہے وہ آلہ معصیت کہاں ہے آلہ معصیت تو وہ چیز ہے جو وضع کیا جاوے معصیت کے واسطے اور یہ معصیت کے لئے وضع کیا گیا یہ تو ایک حلال ضرورت کے لئے وضع کیا گیا ہے ـ یوں کوئی سوراستعمال معصیت کا ذریعہ بنالے تو اس سے وہ آلہ معصیت تھوڑا ہی ہوگیا ـ بخلاف آلات غناء کے کہ وہ تو موضوع ہی ہوئے ہیں ـ معصیت کے لئے دوسرا فرق یہ ہے کہ اس میں تو ضرورت ہے اس کو کیسے کر سکتا ہے ـ تیسرے اپنے معدن میں ہے ـ معدن میں ہونا ایسا مؤثر ہے کہ جو چیز معدن میں ہے اس پر نجاست کا حکم نہیں ـ کیا جاتا مثلا پیشاب ہے ، پاخانہ ہے کس کے اندر نہیں مگر اسپر نجاست کا حکم نہیں اس لئے کہ وہ اپنے معدن میں ہے ـ
( ملفوظ 248)سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب میں ایک گستاخی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے سیرت نبویہ لکھی ہے ـ اس میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کامیابی کا بڑا راز یہ ہے کہ ان میں استقلال تھا اور اسکی زندہ نظیر گاندی موجود ہے استغفراللہ نعوذ باللہ سیرت پر کتاب اور ایک مکذب توحید و رسالت سے تشبیہ کیا ـ آفت ہے نہ معلوم کتنے مسلمانوں نے دیکھا ہوگا اور گمراہی میں پھنسے ہوں گے ـ میرے پاس بھی وہ کتاب بھیجی گئی تھی میں نے واپس کے کے لکھ دیا کہ ایسی کتاب کو اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا ہوں ـ کہ جس میں روح سیرت یعنی نبوت کے مکذب کی مدح ہو ـ اس کو جواب آیا کہ یہ زمانہ جاہلیت میں مجھ سے ایسی حرکت صادر ہوئی اب آتے جاتے ہیں ـ اپنے پہلے زمانہ کو جاہلیت سے تعبیر کیا ـ یہ سب جدید تعلم یا صحبت کا اثر ہے ـ اس پر کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس کو نئی روشنی کہتے ہیں ـ جس میں ہزاروں ظلمتیں بھری ہیں ـ
( ملفوظ 247)حضور کے چند لفظی لطائف
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر کئی کئی مرتبہ گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے مگر پھر بھی راستہ یاد نہیں ہوتا بھول جاتا ہوں فرمایا کہ بات تو میرے اندر بھی ہے میاں راستی یاد رہے راستہ یاد رہے نہ رہے اس میں کیا رکھا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے لطائف بھی بڑے معنی خیز اور نصیحت آمیز ہوتے ہیں ـ ایک مولوی صاحب مجھ سے فرماتے تھے کہ حضرت والا کے لطائف ہی کا مجموعہ جمع کر لیا جائے تو اسی میں سب کچھ ہے مثلا ایک صاحب سے تحریکات کے متعلق سلسلہ گفتگو میں آپ نے فرمایا تھا کہ اگر محض کاغزی امیرالمؤمنین بن جاؤں تو نتیجہ یہ ہو کہ آج امیرالمومنین ہوں اور کل کو اسیر الکافرین بن جاؤں اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ ایک صاحب یہ واقعہ بیان کرتے تھے کہ خورجہ میں ایک مولوی صاحب کو یہ ہی الفاظ پہنچائے گئے تو سن کر ان پر ایک وجد کی سی کیفیت ہو گئی اور ایک گھنٹہ تک اس کی شرح بیان کرتے رہے کہ بدون کامل قدرت کے اگر آج امیرالمومنین ہوگئے تو کل اسیرالکافرین ہو جائیں گے ـ میں نے یہ واقعہ سن کر اس سے تو مجھ کو بھی استیاق ہو گیا ـ سننے کا وہ شرح کیا ہوگی جو ایک گھنٹہ تک بیان کی گئی ہے میں نے تو محض ایک لطیفہ کے طریق پر شاعری کے انداز پر بیان کر دیا تھا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا نے ایک ایسے ہی موقع پر بھی تو فرمایا تھا کہ آج سردار ہیں اور کل سردار ہونگے ـ فرمایا کہ یہ بھی اسی کا ترجمہ ہے ـ
10 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 246)آداب المصلح یعنی شیخ کے آداب
ملقب بہ آداب المصلح ) ایک نو وارد صاحب نے جو اصلاح کی غرض سے آئے تھے اور جن کا تھانہ بھون کی حاضری کا پہلا ہی موقع تھا ـ حضرت والا سے ایک فقہی مسئلہ پوچھا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ آجکل مصلح باطن سے مسائل فقہی پوچھنے والوں کو باطنی نفع نہیں ہوتا ـ تجربہ سے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ بس ان ہی تحقیقات میں رہ جاتے ہیں ـ اصلاح کے متعلق اہتمام کی نوبت ہی نہیں آتی ـ میں خیر خواہی سے عرض کرتا ہوں کہ ان مسائل کی تحقیق کے لئے تو اور بہت جگہ ہیں اور یہاں سے اچھا کام ہو رہا ہے ـ دیوبند ہے ، سہارنپور ہے اور کیا آپ نے یہ سفر مسائل فقہی پوچھنے کے لئے تھا ـ عرض کیا نہیں پھر کیوں بیٹھے بیٹھے جوش اٹھا خاموش نہیں رہا جاتا کیا خاموشی سے پیٹ میں درد ہوتا ہے ـ کیا خاموش رہنا جرم ہے یا اس سے شان میں بٹا لگتا ہے ـ یوں کہئے کہ بک بک کرنے کی باتیں بنانے کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں ـ اور یہ بتلایئے کہ اگر آپ نے یہاں آنے کی اجازت لی ہے ـ عرض کیا کہ اس کی اجازت نہیں لی پھر کیوں مخالفت کی پھر جب شروع میں ہی مخالفت کرنا شروع کردی تو آئندہ کا تو اللہ ہی حافظ ہے ـ جس بدفہمی کا کوئی علاج ہے ـ ایک صریح بات اور اس پر عمل نہیں ـ اس ہی ضرورت سے میں اس قسم کی شرطیں لگاتا ہوں ، سمجھتا ہوں کہ فہم کا قحط ہے مگر پھر بھی اپنا ہنر ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے اگر ایسا ہی فقہی مسائل کی تحقیق کرنا ہے اور فن کو مدون کرنا ہے ـ ( کیونکہ اکثر سوالات غیر ضروری ہوتے ہیں ) تو میں کہہ چکا ہوں یہ کام اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے مثلا دیوبند ہے ، سہارنپور ہے وہاں جایئے بلکہ اور لوہار کے یہاں سونا چاندی نہیں لے جاتا اگرچہ وہ دونوں ہی کام جانتا ہو مگر پھر بھی کام وہی لیا جاتا ہے ـ جس کو عادۃ کر رہا ہے ـ افسوس طریق مٹ ہی گیا یہ طریق کے آداب میں سے ہے کہ مصلح سے دوسرے کام نہ لیا جاوے ـ اب یہ کہا جائیگا کہ صاحب ایک مسئلہ پوچھا تھا ـ دین کی بات کی تھی ـ اس پر اسقدر گرفت اگر مسئلہ پوچھنا دین ہے تو جو میں بتلا رہا ہوں ـ یہ بھی دین ہی ہے ـ دوسرے آپ نے اس لئے سفر نہیں کیا اور جس غرض سے سفر کیا ہے اسکا نام و نشان بھی نہیں ـ اسکا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں سے پہلے بے تکلفی ہے اور وہ مقصود غیر میں تمیز کرتے ہیں ـ وہ مستثنے ہیں حتی کہ وہ اگر دنیا کی بات بھی پوچھ کر لیں کوئی حرج نہیں ـ پھر بڑی بات یہ ہے تو یہ کام تو اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے اور جو کام یہاں پر ہو رہا ہے ـ یہ ایسا ہے کہ کہیں بھی نہیں ہو رہا نہ اچھا نہ برا مگر کس سے کہے وہی مثل ہو رہی ہے ـ اندھے کے آگے روئے اپنی آنکھیں کھوئے اور الحمدللہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مسائل فقہی اس طریق سے اعظم ہیں مگر اعظم ہونا اور چیز ہے اور کسی عارض سے اہم ہونا اور چیز ہے ـ مسا ئل فقہی اعظم ضرور ہیں مگر وہ دوسری جگہ سے حاصل ہوتے ہیں اور جو کام یہاں ہو رہا ہے وہ کہیں ہو ہی نہیں رہا ـ اس عارضی سبب یہ اہم ہے ـ میں نے اس لئے اہم کو اختیار کر رکھا ہے ـ بچے کو کہتے ہیں کہ قاعدہ بغدادی پڑھ حالانکہ قرآن شریف اعظم ہے مگر اس کو ضرورت اہم کی ہے اور اسکو قاعدہ میں لگا کر قرآن ہی کی تلاوت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے ـ اسی طریق میں لگا کر احکام فقیہ کی تکمیل کے لئے تیار کیا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت یہاں تک ہے کہ اکابر کی وصیت ہے کہ شیخ کو کسی کا کلام نہ پہنچائے نہ سلام پہنچائے نہ کسی کا ہدیہ پہنچائے جیسا کہ آجکل دستور ہے کہ کسی آتے جاتے کے ہاتھ کوئی چیز بھیج دی روپیہ بھیج دیا تو ایسا نہیں کرنا چاہیے ـ علاوہ مصالح کے خود غیرت عشقی کا بھی اقتضا ہے ـ
عشاق کی یہ شان ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کو دوسری طرف متوجہ نہ کرے ـ یہاں تک لکھا ہے کہ مرید شیخ سے درسی کتاب نہ پڑھے اور نہ پیر اپنے مرید کے خانگی معاملات میں دخل دیا ـ غریبوں کو کچھ خبر تو ہے نہیں ـ مرید ہونے آ جاتے ہیں اگر متنبہ کرتو ہوں اور طریق بتلاتا ہوں اس غرض سے کہ راہ پر پڑیں مقصود معلوم ہو کہ کیونکہ طریق مفقود ہو رہا ہے ـ اس لئے اس کے آداب بھی نہیں تو سخت اور بدخلق اور خدا جانے کیا کیا کہتے ہہیں اجی اگر طبیب شفیق ہے اور حمد درد خیر خواہ ہے تو چاہے منہ بناؤ یا روؤ وہ مرض کی تشخیص کر کے اگر کڑوی دوا مفید ہوگی تو شاہترہ چرائتہ حظل ہی تجویز کرے گا اگر سو دفعہ غرض پڑے پیو ورنہ جاؤ چلتے بنو اور جو سیب کا مربا ورق نقرہ لپیٹ کر دے اس کو مربی بناؤ ـ یہاں تو خود طالب کو بجائے سیب کے چھیل چھال کر کانٹ چھانٹ کر اس کو مربہ بنایا جاتا ہے اور یہ جو لکھا ہے کہ مرید شیخ سے سبق نہ پڑھے وجہ اس کی یہ ہے سبق میں قیل و قال ہوتا ہے ـ جس سے مبادا شیخ کو انقباض ہو جائے اور فیض باطنی سے محروم ہو جائے اور جو لکھا گیا ہے کہ شیخ مرید کے خانگی معاملات میں دخل نہ دے اس میں یہ راز ہے کہ شیخ کو اصل واقعات سے یا مرید کے مصلحت کے خلاف ہو اور اس سے اس کو شیخ سے کیدگی بھی پیدا ہو جائے ـ اس صورت میں بھی باطنی نفع نہ ہو گا البتہ جس صورت میں یہ علت نہ ہو وہ اس سے مستثنی ہے ـ مثلا ایک شخص بیوی کا نان نفقہ نہیں دیتا ـ شیخ کہے کہ نفقہ دو یہ خانگی معاملات میں دخل دینا نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس میں دوسرا احتمال ہی نہیں ـ طاعت خالصہ کا حکم ہے ـ مطلب یہ کہ فصل قضایا میں یا ان مباحات میں جس میں شرعا دونوں جانب کی گنجائش ہے ـ دخل نہ دے ـ جیسے رشتہ وغیرہ آج کل پیر اکثر ایسا کرتے ہیں کہ ایک مرید کی لڑکی ہے ـ دوسرے کا لڑکا ہے کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے لڑکے سے تمہاری لڑکی کا رشتہ کرتے ہیں یا نکاح کرتے ہیں ـ مشائخ نے اس کو منع فرمایا ہے یا اسی طرح کوئی نزاعی معاملہ ہے ـ شیخ سے اس کا فیصلہ کوئی کرانے لگے اس میں بھی ممکن ہے کہ ایک کے خلاف ہو تو اس کو رنج ہوگا اور نفع باطن سے محروم ہو جائے گا ـ اور ان باتوں میں دخل دینا تو بری چیز ہے کہ اس میں دنیا کا رنگ ہے ـ تعلیم جو دین محض ہے ـ اس میں بھی اس قدر احتیاط ہے کہ ہر شخص کی باطنی مصلحت اور اسکی حالت کے مطابق دی جاتی ہے اس کا بھی معین ضابطہ نہیں ـ
( ملفوظ 245)آج کل کی تصانیف
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصنیف کا کام بھی بہت مشکل کام ہے ـ آج کل ہر شخص مصنف بنا ہوا ہے کوئی معیار ہی نہیں رہا ـ قلم ہاتھ میں لیا اور جو جی میں آیا لکھ مارا نہ اصول کی خبر ہے نہ فروع کی ـ میں آجکل ایسی ہی بے اصول کتاب دیکھ رہا ہوں ـ بڑے مشہور مصنف کی تصنیف ہے مگر محض ملمع آجکل بڑا کمال یہ ہے کہ الفاظ زوردار ہوں چاہے مدلول صحیح ہو یا غلط اس سے کوئی بحث نہیں ـ جن باتوں کی اس کتاب میں ثابت کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سوچ سوچ کر یہ تلبیس باتیں بنائیں ہیں ـ استدلال کی دو صورتیں ہیں ـ ایک صورت تو یہ ہے کہ آزادی سے دلائل پہلے ذہن میں آئیں اور نتیجہ ان کے تابع ہوا اور ایک صورت یہ ہے کہ دلائل پہلے سے ذہن میں نہیں ـ پہلے ہی سے ثابت کرنا ہے اور اس کے لئے سوچ سوچ کر دلائل کو ذہن میں لایا جاتا ہے ـ ان دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے ـ پہلی ایک خاص قوت ہوتی ہے گو اس میں اجتہادی غلطی ہی ہوگئی ہو اور دوسری صورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص محض باتیاں بنا رہا ہے اور یہ فرق معلوم ہو جانا موقوف ہے ـ ذوق صحیح پر بعضی بات وجدان سے معلوم ہوتی ہے بیان کرنے پر قدرت نہیں ہوتی ـ
( ملفوظ 244) سیاست اور اسلام
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر ایک شخص سیاست کا ماہر ہے مگر ہے کافر اس میں اس کی اقتداء کر لی جائے کیا حرج ہے ـ فرمایا کہ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ اگر کافر نماز خوب جانتا ہو اور مسلمان نہ جانتا ہو تو کیا اس کافر کی اقتداء جائز ہے ـ شبہ کا منشا یہ ہے کہ سیاست کو لوگ دین نہیں سمجھتے ـ خود یہی سخت غلطی اور جہل اعظم ہے ـ سیاست بھی تو دین ہی ہے ـ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ اسلام نے سیاست کی تعلیم نہیں کی ـ سو یہ کتنی بڑی تحریف ہے ـ پھر دین میں کافر کی اقتداء کرنا کیا معنی نیز کیا اس میں اسلام اور مسلمانوں کی اہانت نہیں ہے اور کیا کوئی شخص کہیں یہ بات دکھلا سکتا ہے کہ اسطرح سے کہ اسلام اور مسلمانوں کی اہانت کرانا اور ان کو ذلیل کرانا جائز ہے ـ اور کیا مسلمانوں میں ایسا کوئی نہیں کہ وہ سیاست جانتا ہو ـ البتہ اس طریق سے ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں کہ کافر تابع ہوں اور مسلمان متبوع اور یہاں بالکل عکس ہے کہ مسلمان تابع اور کافر متبوع اور مجھ کو عوام کی اور لیڈروں کی شکایت نہیں ـ وہ جہل میں مبتلا ہیں ہی شکایت تو علماء کی ہے کہ وہ غلطی میں پھنس گئے ـ حق تعالٰی ہدایت فرمائیں اور جہل سے محفوظ رکھے مجھ کو ایسی باتیں سن کر بے حد قلق اور صدمہ ہوتا ہے جب لکھے پڑھوں کی نسبت سنتا ہوں کہ وہ ایسی خرافات کے حامی اور دلدادہ ہیں ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ عجیب بات ہے کہ خسران کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کر رہے ہیں مگر بات کی پچ ہو گئی اس سے نہیں ہٹتے اور ایسے ایسے لچر استدلالات اور تاویلات کرتے ہیں جو اہل علم کی شان کے بالکل خلاف ہے ـ
( ملفوظ 243) شرکت والے کام پورے نہیں ہوتے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج ایسے کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ـ جس میں دوسرے کی شرکت کی ضرورت ہو ـ آج کل تجربہ سے معلوم ہوا کہ وہ کام ہوتا ہی نہیں جس میں مختلف طبائع کے لوگ جمع کئے جائیں ـ

You must be logged in to post a comment.