( ملفوظ 202)ابتدائے سلوک میں قلت کلام کی ہیئت

ایک صاحب کی غلیطی پر ماخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالٰی ہی نے اپنی رحمت سے ہمت دی ہے کہ بوجود اتنی لمبی چوڑی اذیتوں کے پھر تحمل کی توفیق ہوتی ہے بدون توفیق کوئی کر نہیں سکتا اور زیادہ اذیت بے سمجھے بیعت پر اصرار کرنے سے ہوتی ہے سو اول تو خود بیعت ہی ضروری چیز نہیں خواہ مخواہ لوگ اس میں الجھتے ہیں اور نہ یہاں کے قیام میں مجھ کو مکاتبت مخاطبت کی فرصت ضرورت تو اسکی ہے کہ یہاں پر چند روز بیٹھ کر باتیں سنیں اور چلے جائیں چاہے اعتقاد لیکر جائیں اور چاہے بداعتقادی لیکر جو رائے قائم ہو اسپر عمل کریں تو لوگ اسکو ٹالنا سمجھتے ہیں یہ بھی بد فہمی کی بات ہے نئے آدمی کو جسقدر نفع یہاں پر خاموش بیٹھنے میں ہو سکتا ہے مکاتبت مخاطبت سے وہ نفع قیامت تک بھی نہیں ہو سکتا اور اگر خاموش بیٹھنے سے نفع نہ ہو تو اسی سے قابلیت معلوم ہو جائیگی تو ایسے شخص سے تعلق رکھنا ہی بیکار اس لئے کہ جس میں میں اسقدر بے حسی ہوا اسکو کیا نفع پہنچ سکتا ہے اسی لئے یہاں نئے آنے والے سے یہ شرط کر لی جاتی ہے کہ اگر مخاطبت مکاتبت نہ کرو اور خاموش مجلس میں بیٹھے رہو تو آنے والے کی اجازت ہے اگر کسی کو یہ طرز پسند نہ ہو یہاں نہ آئے کہیں اور تعلق پیدا کرے اگر بولنا چاندی ہے تو سکوت سونا ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا فیصلہ اس بارہ میں یہ ہے کہ شیخ کو زبان ہونا چاہیئے یعنی افادات کا ناطق ہو اور مرید کو کان ہونا چاہیئے یعنی انصات و استماع ( خاموش رہئے اور صرف سننے ) پر عامل ہو شیخ کو یہ خطاب فرماتے ہیں ـ
بنامے رخ کہ خلقے والہ شوند و حیران بکشائے لب کہ فریاد از مرد و زن برآید
اور مرید کو یہ خطاب فرمایا جاتا ہے ـ
چند گوئی خواجہ نظم و نثر فاش ، یک دو روزے امتحان کن گنگ باش
پہلے زمانہ میں مجاہدے چار تھے قلت الکلام کم بولنا قلت المنام کم سونا قلت الطعام کم کھانا قلت الاختلاط مع الانام کم ملنا مگر اس وقت محققین نے دو کو حذف کر دیا ہے یعنی قلت الطعام اور قلت المنام اس لئے کہ قوی ضعیف ہیں ان دو مجاہدوں کے جو ثمرات ہیں یعنی انکسار قوت بہیمیہ وہ اس وقت تو بلا مجاہدہ ہی حاصل ہیں دو باقی رکھا جائے یعنی قلت الکلام اور قلت الاختلاط مع الانام غرض قیل و قال سے سالک کو بڑا ہی ضرر ہوتا ہے خصوص مبتدی کو اگر قلت کلام کے ساتھ ایک تو گناہوں کو چھوڑ دے دوسرے تخلیہ اختیار کر لے انشاءاللہ تعالٰی تصفیہ قلب میسر ہو جائے گا دیکھئے پھر لوگوں سے ملکر دیکھئے معلوم ہو جائیگا کہ بولنا کوئی نافع چیز ہے یا سکوت غرض مبتدی کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ خاموش رہے ـ

( ملفوظ 201)دوسروں پر مواخزہ کیوقت حضرت پر غلبہ خوف

ایک صاحب کی غلطی پر متنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں جب کسی ک کوتاہی یا غلطی پر متنبہ کرتا ہوں خود مجھ پر اسوقت ایک خوف کا غلبہ ہوتا ہے اور جہاں کسی نے معذرت پیش کی میں فورا نرم ہو جاتا ہوں اس لئے کہ مجھ کو بھی تو خوف ہے کہ اگر کہیں حق تعالی مجھ سے اسی طرح ، مواخزہ فرمائیں اور معزرت قبول نہ ہو تو کیا جواب دے سکتا ہوں جب اللہ تعالٰی کے یہاں توبہ قبول ہے تو بندوں کی کیا حالت اور کیا ہستی ـ

( ملفوظ 200) عرب جیسی قوم کی اصلاح چند دنوں میں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عرب کی اصلاح سے بڑا عاقل بھی سو ڈیڈھ سو برس سے کم مدت میں نہ کر سکتا ایسی جہالت تھی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند روز میں کایا پلٹ کر دی واقعی خدا کی امداد کا فضل تھا اور زیادہ جلد اثر ہونیکا ظاہری سبب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل سے یہ متوہم نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ نے کوئی پالیسی کی ہو ورنہ دوسرا آدمی کتنا صاف ہو لیکن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بات کو ضرور مخفی کرتا ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حالت تھی اور جو واقعات تھے حتی کہ جن کا تعلق ازواج مطہرات سے تھا وہ بھی کسی پر مخفی نہ تھا حضور نے کبھی اسکی پروا نہیں کی آپکی جو حالت تھی بالکل کھلی ہوئی تھی کسی حالت سے کسی کو دوھوکا نہیں ہو سکتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جو بھی اس حالت کو دیکھ کر ایمان لائے وہ دل سے لائے مضبوط اور جان نثار ثابت ہوئے ـ

( ملفوظ 199) ایک ہندو کے اطمنان قلب کیلئے علاج

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک معزز ہندو نے ایک شخص کے ہاتھ کہلا کر بھیجا تھا کہ میں اپنے مذہب کی تعلیم پر پوجا کرتا ہوں مگر قلب کو اطمنان نہیں ہوتا تزبزب ہی رہتا ہے دعاء کر دیجئے کہ حق واضح ہو جائے اور کوئی چیز پڑھنے کو بتلا دیجئے ـ میں نے کہا بھیجا کہ : اھدناالصراط المستقیم کثرت سے پڑھو ایک بات اور کہلا کر بھیجنے کا ارادہ ہے وہ یہ کہ وہاں تو پوجا پاٹ کر کے امتحان کیا اطمنان حاصل نہیں ہوتا اور یہاں بدون عمل کے امتحان کرنا چاہتے ہو ـ اس پوجا پاٹ کے بجائے یہاں تلاوت قرآن نماز وغیرہ کر کے دیکھو اگر بھی اطمنان نہ ہو تو پھر اطلاع کرو اور ان شاءاللہ تعالٰی ممکن نہیں کہ اطمنان نہ ہو اسی کو مولانا فرماتے ـ
ہیچ کنجے بے دردوبے دام نیست جز بخلوت گاہ آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بغیر خطرہ کے نہیں ہے ، خلوت گاہ حق میں ہی آرام ہے ) وہاں تو عمل اور یہاں محض زبانی اس کا اثر ہو ـ
تمہید
رسالہ سلطان العلوم دیوبند بابت جمادی الاولی 1356 ھ میں زیر عنوان اسلام اور ترقی ایک مضمون حضرت حکیم الامتہ دام ظلہم کا نظر سے گزرا ـ جو حضرت دام ظلہم کے مختلف مواعظ سے ایک مسلسل صورت میں مرتب کیا گیا ہے چونکہ مضمون نہایت نافع ہے اور اس کے قبل اس ہیئت اجتماعیہ سے شائع نہیں ہوا تھا اس لئے اس کورسالہ ہذا میں درج کیا جاتا ہے تاکہ ناظرین بھی اس سے منتفع ہو سیکیں ـ فقط مدیر ـ
اسلام اور ترقی
لوگ کہتے ہیں کہ علماء اسلام ترقی سے روکتے ہیں ـ میں کہتا ہوں کہ یہ الزام صحیح نہیں بلکہ عام طور پر لوگ تو عقلی طریقہ سے ترقی کو ضروری ثابت کرتے ہیں اور میں اسے شرعی فرض کہتا ہوں ، حق تعالٰی کا ارشاد ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقو الخیرات ـ یعنی ہر قوم کے لئے قبلہ کی ایک جہت مقرر ہے جس کی طرف وہ منہ کرتی ہے تو تم ایک دوسرے سے بھلائیوں میں آگے بڑھو ہم کو تو استباق یعنی ایک درسرے سے آگے بڑھنے کا حکم ہے اور یہی ترقی ہے تو ترقی کی ضرورت قرآن شریف سے ثابت ہے بلکہ استبقا امر کا لفظ ہے جو فرض ہے جو فرض ہونے کا تقاضا کرتا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اسلام میں ترقی کرنا فرض ہے ، اب کسی کی مجال ہے کہ ترقی سے روک سکے لہذا علماء پر یہ الزام بالکل تہمت ہےقرآنی فرض ہے سے کوئی کسے روک سکے ـ بس فرق اس قدر ہے کہ اور لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ دوسری قوموں کے قدم بقدم چل کر ترقی کرو اور علماء کہتے ہیں کہ جس طرح قرآن کہے اس طرح ترقی کرو ـ ( العبرۃ بزبح البقرۃ 45 )
غیر قوموں کی تقلید مسلمانوں کی مفید نہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ جو تدبیریں یورپ اور غیر قوموں نے اختیار کی ہیں ـ ان کا دنیوی کامیابی میں کوئی اثر نہیں ـ ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ مسلمانوں کو ان تدبیروں سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمانوں کے لئے ان تدبیروں کے اثر کرنے میں ایک رکاوٹ ہے اور وہ رکاوٹ ان کا گناہ اور خدا تعالٰی کی نافرمانی کرنا ہے اور رکاوٹ کافروں میں نہیں ہے کیونکہ ان پر جزئی عملوں کی ذمہ داری نہیں ان پر تو ایمان لانے کی ذمہ داری ہے ـ اور ایمان نہ لانے پر اور کفر کرنے ہی پر ایسا سخت عذاب ہوگا جس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں ـ باقی عملوں کی ان سے پوچھ نہ ہوگی ـ نہ ان کی سزا ملے گی ـ اور مسلمانوں سے الحمد للہ کفر کا عذاب ہٹا ہوا ہے ـ ان سے تو عملوں پر پوچھ ہوگی اور جب یہ ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جو خدا تعالٰی کے حکم کے خلاف ہیں تو ان کو کامیابی ہوا نہیں کرتی ـ اللہ تعالی ان تدبیروں میں سے اثر کو دور کر دیتے ہیں تاکہ اس مخالفت کی سزا دنیا ہی میں بھگت لیں اور ہر قوم کی ترقی اور کامیابی کا طریقہ الگ ہے ـ یہ ضروری نہیں کہ جو طریقہ ایک قوم کو فائدہ دے وہ سب کو ہی فائدہ دے ـ
اور اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ تدبیریں ہمیں بھی فائدہ دیں گی تب بھی خداوندی احکام کی پیروی فرض ہے اور ان ناجائز تدبیروں کا اختیار کرنا ہر گز روا نہ ہوگا ـ
دیکھئے شراب اور جوئے اور سود میں نفع ہے ـ خود ارشاد عزوجل ہے ـ قل فیھما اثم کبیر و منا فع اللناس کہہ دیجئے شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کو کچھ فائدے بھی ہیں ) لیکن ایسے فائدے کو لے کر کیا کریں ـ جس میں خدا تعالی کا غضب بھی ملا ہوا ہے ـ لوگ تدبیر کرتے ہیں شریعت کے خلاف اور چاہتے ہیں کہ یہ علماء ساتھ دیں ـ ( المرابط ص 48 ) اور وہ فائدہ ہی کہاں ہوا ـ جس میں خدا تعالی کا عذاب نازل ہوا اور دین و دنیا دونون کی تباہی ہو ـ اس لئے مسلمانوں میں ان تدبیروں سے ترقی نہیں ہو سکتی بلکہ اور تنزلی ہوگا اور ہوتا جا رہا ہے ( تسہیل )
ترقی کی قسمیں
ترقی اچھی باتوں میں بھی ہوتی ہے اور بری باتوں میں بھی مگر بھلائیوں میں تو ترقی کوشش کر کے حاصل کرنے کے قابل ہے اور برائیوں میں نہیں ورنہ نہ ایک ڈاکو کو بھی یہ کہنے کا حق ہے کہ مجھے ڈاکہ سے کیوں منع کیا جاتا ہے میں تو ترقی کرنا چاہتا ہوں بلکہ اسی طرح ہو دھوکہ باز کو چور کو ، گرہ کٹ کو ، کفن چور ، رشوت لینے والے کو ، سود خور کو سٹہ باز کو غرض ہر بدمعاش کو یہ کہنے کا حق حاصل ہوگا اس لئے بھلائی میں تو ترقی اچھی ہے اور برائی میں ترقی بری ہے تو اب جس ترقی کو اور لوگ کہتے ہیں یا وہ اس کا بھلا ہونا ثابت کر دیں یا جس ترقی کو علماء اسلام کہتے ہیں ہم اسکا بھلا ہونا ثابت کر دیں خود ترقی کرنا تو ضروری اور فرض ہے مگر ان طریقوں نے ترقی کو برائی میں ترقی کرنا بنا دیا ہے ( البقرہ 45 ) ( جو درحقیقت بجائے ترقی کے تنزل ہے )
اسلاف کی ترقی اور موجودہ ترقی
موجودہ ترقی کا حاصل تو حرص ہے اور شریعت نے حرص کی جڑ کاٹ دی ہے صحابہ کرام نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ تھے کہیں ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اسکی تعلیم فرمائی نہ حضور ہی کی سیرت میں کوئی ایسا واقعہ ہے ان سب کی ترقی تو دین کی ترقی تھی ـ اگرچہ اسکے ساتھ ہی ساتھ دنیا کی بھی وہ ترقی ملی کہ آج لوگوں کو خواب میں بھی نصیب نہیں لیکن مقصود صرف دینی ترقی تھی چناچہ انکی اس شان کو خدا تعالی ارشاد فرماتا ہے : الذین ان مکنٰھم فی الارض اقاموالصلوٰۃ واٰ تو الذکوٰۃ وامروبالمعروف ونھو عن لمنکر ( یہ وہ لوگ ہیں اگر ہم انکو زمین پر قبضہ دیدیں تو یہ نماز ادا کرتے رہا کریں ـ زکوۃ دیتے رہا کریں ـ اور بھلائی کا حکم اور برائیوں سے روک ٹوک کرتے رہا کریں )
یہ ہے ترقی کے بعد ان کے خیالات کا نقشہ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تجارت آخرت 2 تا 4
مالی ترقی
جس ترقی کو لوگ ترقی کہتے ہیں اسکے تین حصے ہیں مال ، عزت حکومت ، آجکل دوسری قوموں کے سامان عیش دیکھکر مسلمانوں کی رال ٹپکتی ہے مگر یہ نہیں جاتے کہ بھلائی اورسلامتی ، اسی میں ہے کہ انکو دنیا زیادہ نہ ملے اگر ہم کو زیادہ مال دیا جاتا تو رات دن دنیا ہی کی فکر میں رہتے آخرت سے بالکل غافل ہو جاتے اس پر شاید یہ شبہ ہوا کہ ہماری نیت تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالی ہم کو سامان زیادہ دیں تو خوب نیک کام کریں اور اللہ تعالی کے راستہ میں خوب خرچ کریں تو یاد رکھئے کہ اللہ تعالی آپ سے زیادہ جاننے والے ہیں آپ کو کیا خبر ہے کہ اسوقت آپ کے جو جو ارادے اور نیتیں ہیں زیادہ مال ملنے کے بعد بھی یہ باقی رہیں گے یا نہیں اسکو تو اللہ تعالی ہی جانتے ہیں ـ
حضرات صحابہ کرام سے بڑھ کر کون نیک نیت ہوگا مگر حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صحابہ سے فرمایا کہ “” تمہاری کیا حالت ہوگی جب کہ میرے بعد سلطنتیں اور شہر فتح ہونگے اور تمہارے پاس زیادتی کے ساتھ مال و سامان اور غلام اور نوکر ہونگے صحابہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیلہ وسلم اسوقت ہم اللہ کی عبادت کرنیکے واسطے فارغ ہو جائیں گے نتفرغ للعباۃ و نکفی المؤنۃ ہم عبادت کے لئے فارغ ہو جائیں گے اور مشقت سے بچ جائیں گے ـ
حضور نے فرمایا یہی حالت اچھی ہے جو آجکل ہے جب حضور نے صحابہ کے لئے زیادہ پسند نہیں کیا حالانکہ ان حضرات نے واقعی زیادہ سامان ہونے پر عبادت میں پہلے سے زیادہ ترقی کی ہے اور دنیا میں نہیں گھسے تو اوروں کے لئے کب پسند فرمائیں گے اس لئے مسلمانوں کو دوسری قوموں کا مال دیکھ کر رال نہ ٹپکانا چاہیئے او لٰئک عجلت لھم طیباتھم فی حیوٰتھم الدنیا ( یہ کافر لوگ تو وہ ہیں جنکو انکی تعمتیں دنیاوی زندگی ہی میں دیدی گئی ہیں ) اور آخرت میں تو کافروں کے لئے عذاب ہی ہے اور مسلمانوں کے واسطے تو راحت جنت میں ہے دنیا میں تو مسلمانوں کو اتنی چاہیے کہ پیٹ بھر کر روٹی مل جاوے ستر ڈھانکنے کے لئے کپڑا اور رہنے کو مختصر سا مکان اور اتنا الحمد اللہ بہت مسلمانوں کو حاصل ہے صحابہ کو حضور کے زمانہ میں اتنا بھی حاصل نہ تھا تو ہم تو گویا بادشاہ ہیں ـ
ارشاد نبوی ہے : من اصبح معافی فی جسدہ امنا فی سر بہ عندہ قوت یومہ فکانما حیرت لہ الدنیا بحذ افیرھا ( یعنی جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ بدن میں صحت ہو ، دل میں بے فکری ہو ، ایک دن کھانا اس کے پاس ہو تو گویا اسکو تمام دنیا مل گئی ) ـ
غرض حق تعالٰی کی حکمت ہے کہ بعض لوگوں کو غربت رکھتے ہیں ان کو کیا خبر ہے کہ امیر ہونیکے بعد وہ کیسے ہو جاتے ـ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی یہ نیک نیت عطا فرمادیتے ہیں یہی درجے بلند کرنے کے لئے کافی ہے ـ
خود ارشاد فرمایا ہے : قول معروف و مغفرۃ خیر من صدقۃ یعبعھا اذی واللہ غنی حلیم
( اچھی اچھی باتیں اور معافی دیدینا ایسے صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد احسان جتا نیکی تکلیف ہو اور اللہ تعالٰی بے بے نیاز ہیں بردبار ہیں ) جس کے پاس مال نہیں وہ نیک باتوں سے ثواب حاصل کر سکتا ( مظاہر الاحوال 18 )
ایک شبہ اور جواب
شاید کوئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں ہے : و انہ لحب الخیر لشدید بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے )
کتب علیکم اذا حضر احد کم الموت ان ترک خیران الوصیۃ الآیتہ ( تم پر ضروری کی گئی ہے وصیت جب کسی کو موت آنے لگے اگر وہ مال چھوڑے ) یہاں مال کو خیر فرمایا ہے لہذا مال کی ترقی بھی خیر اور بھلائی میں ترقی ہوئی اور فاستبقوا لخیرات
( بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو ) میں یہ بھی آگئی ـ
جواب یہ ہے کہ الخیرات میں مطلق خیر مراد ہے یعنی جو ہر طرح بھلائی ہی ہو ـ اور مال ہر طرح بھلائی نہیں اسکی بھلائی ہونے کی بہت سی شرطیں ہیں جنکی رعایت نہیں کی جاتی اس لئے مالی ترقی کو بھلائی میں ترقی نہیں کہہ سکتے اور جس درجہ میں مال بھلائی ہے اس درجہ ترقی کو ہم بھی نہیں روکتے جائز بلکہ فرض کہتے ہیں ـ
حضور کا ارشاد ہے : کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ ( حلال مال کمانا اور فرضوں کے بعد فرض ہے ) ( علاج الحرص ص 17 )
عزت کی ترقی
حق تعالٰی فرماتے ہیں : وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ( یعنی اللہ ہی کے لئے ہے عزت اور اسکے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے لئے ) بھلا جس شخص کا اس آیت پر ایمان ہوگا وہ عزت ، حاصل کرنے سے کیسے روکے گا علماء صرف طریق ترقی پر اعتراض کرتے ہیں ک کلکتہ کا ٹکٹ لیکر جانے سے پشاور نہیں پہنچ سکتے جو طریقے لوگ کہتے ہیں وہ غلط ہیں صحیح طریقہ وہ ہے جو اللہ و رسول نے بتایا ہے مگر اس طریق کی تحقیق کے لئے پہلے یہ سمجھے کہ عزت حاصل کرنیکی غرض کیا ہے اور وہ کیوں ضروری ہے لوگ جو ترقی و عزت چاہتے ہیں اسکی محض بڑا بننا ہے مگر میں اسکی اصلی وجہ بیان کرتا ہوں ـ اصل یہ ہے کہ عقلی طریقہ پر انسان کو دو چیزوں کی ضرورت ہے نفع حاصل کرنا اور ضرر سے بچنا آدمی جو کچھ کرتا ہے اسکی وجہ یہی ہوتی ہے کہ یا نفع حاصل کرتا ہے یا ضرر سے بچتا ہے مثلا کھانا کھاتا ہے تو اس لئے کہ بھوک کے ضرر سے بچے اور قوت کا فائدہ حاصل کرے دوا کرتا ہے تو اس لئے کہ بیماری کے ضرر سے بچے اور تندرستی کا فائدہ حاصل کرے غرض جو کچھ کرتا ہے یا فائدہ حاصل کرنیکے لئے یا ضرر س بچنے کے لئے دوسری بات یہ سمجھئے کہ ضروری چیزوں کے بھی طریقے بھی ضروری ہوتے ہیں اور اسکا طریقہ مال اور عزت کا حاصل ہونا ہے کہ مال تو فائدہ کے حاصل کرنیکے واسطے ہے اور عزت ضرر سے بچانیکے لئے اور عزت کبھی خطرہ کا سبب ہوتی ہے جیسے بڑے آدمیوں کے کچھ دشمن بھی ہو جاتے ہیں تو عزت کی کمی اور کسی نہ کسی حد کے اندر ہونیکی وجہ سے ہوتی ہے ورنہ عزت تو بچاؤ کی ہی چیز ہے اسی وجہ سے حق تعالٰی کا کوئی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ غلبہ اور عزت بیحد و انتہا ہے تاہم عزت ہی ایسی چیز ہے جو آدمی کو بہت مصیبتوں اور خطروں سے ہوتی ہے مثلا اب ہم اطمنان سے بیٹھے ہیں کوئی ہمکو ذلیل نہیں کر سکتا بیگار میں نہیں پکڑ سکتا غرض عزت کی غرض ضرر سے بچنا ہے ـ
اس تقریر سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ عزت اور مال دونوں پسندیدہ اور حاصل کرنیکے قابل ہیں بشرطیکہ طریقہ سے ہوں شریعت کی حد میں رہکر ہوں اور جو لوگ مال اور عزت حاصل کرنیکی کرتے ہیں ان کا مطلب مال کی محبت اور عزت کی محبت سے منع کرنا ہے اور محبت بھی ایسی جو حق تعالٰی کی محبت سے بڑھی ہوئی ہو کہ انکی ہوس میں اللہ تعالی کے حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا جائے ـ
خود ارشاد ہے : قل ان کان اٰ با ء کم وابناء کم و اخونکم و ازواجکم و عشیرتکم واموال ن اقترفتموھا وتجارۃ تخشون کسادھا و مساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ و جھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ ( فرما دیجئے اگر تمہارے باپ ، بیٹے ، بھائی ، بیویاں ، کنبے اور وہ مال جس کو تم نے کمایا ہے اور تجارت جس کے رک جانے سے تم ڈرتے ہو اور گھر جنکو تم پسند کرتے ہو تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسکی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو تم انتظار کرو اللہ تعالی اپنا حکم یعنی عذاب لائیں )
اس سے صاف معلوم ہوا کہ مال و عزت کی محبت اور وہ بھی اتنی بڑھی ہوئی جو اللہ تعالی سے غافل کر دے اور ان کے مقابلہ میں شریعت کی پرواہ نہ رہے اور مال آبرو کی اتنی حفاظت کہ دین رہے یا جائے مگر مال نہ جائے یہ برا ہے اور بہت برا ہے ـ ( البقرۃ ص 14 )
حکومت کی ترقی
لوگ علماء کو کہتے ہیں کہ تم کو سیاسیات کی کچھ خبر نہیں ہے یہ وقت جائز و نا جائز سوال کا نہیں اب جس طرح ہو حکومت کی ترقی ہونا چاہیے یعنی ہم کو جس قدر حکومت حاصل ہے اس میں اور ترقی کرنا چاہیئے ـ لیکن افسوس ان لوگوں کو یہ خبر نہیں ہے کہ شریعت میں خود حکومت مقصود ہی نہیں بلکہ ملانا پن چاہا جاتا ہے سلطنت و حکومت سے بھی مقصود ہی پھیلانا ہے کہ جو ایمان سے محروم ہیں انکو ایمان کی دولت سے مالا مال کیا جائے اپنے میں ملا کر رکھا جائے کہ وہ ایمان اور شریعت کے نور کو دیکھیں اور اپنی آنکھیں کھولیں حکومت سے صحابہ میں بھی یہ ملا پن ہی پسند فرمایا گیا ہے ـ
ارشاد ہے : والذین ان مکناھم فی الارض اقامو الصلوٰۃ واٰ تو الذکٰو وامروا بالمعروف ونھو عن المنکر ۔ ( یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انکو زمین پر قبضہ دے دیں تو یہ نماز پڑھتے رہا کریں زکوۃ دیتے رہا کریں اور بھلائی کا حکم اور برائی سے روک ٹوک کرتے رہا کریں
( علاج الحرص ص17 )
حاصل یہ ہے کہ مال عزت حکومت تینوں کی ترقی میں خود انہی کی ترقی تو زیادہ پسند نہیں ہاں اگر دینداری کی ترقی مقصود ہو تو یہ سلف کی ترقی کے موافق ہوگی اور اسی سے تینوں ترقیاں خود بخود حاصل ہوتی چلی جائیں گی لیکن اگر یہ تینوں ترقیاں شریعت کی حد میں رہ کر ہوں جن سے کسی حکم کے خلاف نہ لازم آئے تب تو بھلائی میں ترقی ہے ورنہ پھر برائی کی ترقی ہے اور بہت بری اور خالص حرص ہے تو یہ سمجھئے کہ لوگوں نے حرص کا نام ترقی رکھ لیا ہے تاکہ یہ عیب چھپارہے اور پھر اسکی کبھی اصلاح بھی نہ ہو سکے ( تسہیل )
غیر قوموں کی ترقی کا اصلی راز اور ترقی کے اسلامی اصول
مسلمانوں کے لیڈر بار بار اس میں غور کرتے ہیں کہ دوسری قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے مگر اب تک حقیقت تک کوئی نہیں پہنچا کسی نے یہ کہدیا کہ یہ لوگ سود لیتے ہیں اس وجہ سے ان کو ترقی ہو رہی ہے مگر یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اگر سود میں ترقی کا اثر ہوتا تو چاہئے کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ سود کے گناہ میں مبتلا ہیں انکو بھی ترقی ہوتی حالانکہ دوسری قومونکے مقابلہ میں وہ بھی کچھ پائے ہوئے ہیں ـ
بعض لوگ کہتے ہیں کہ شریعت میں چونکہ تجارت کی بعض صورتوں کو نا جائز کہا ہے اس لئے مسلمانوں ترقی نہیں کر سکتے ـ مگر یہ بھی غلط ہے کیونکہ معاملوں میں شریعت کی حدوں کے پابند کتنے تاجر ہیں غالبا دو چار کے سوا کوئی نہ ملے گا تو پھر ان تاجروں کو ایسی ترقی کیوں نہیں ہوئی یہ کون سے نا جائز معاملے چھوڑ دیتے ہیں ـ
حاصل یہ کہ دوسری قوموں کی دنیاوی ترقی دیکھ دیکھ کر مسلمانوں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے تو وہ ان کی ہر حالت کو ترقی کا سبب سمجھنے لگتے ہیں اور پھر انکو اختیار بھی کرنے لگتے ہیں دوسروں کو رغبت بھی دلاتے رہتے ہیں کبھی انکی سی صورت اور وضع بناتے ہیں کہ اسی سے ترقی ہوگی کبھی عورتوں کے پردہ کو اٹھا دینا چاہتے ہیں کہ یہی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے عورتیں آزاد ہوں گی تو علوم اور صنعت و حرفت سیکھیں گی خود بھی ترقی کرینگی اور اولاد کو بھی ترقی کرائیں گی لیکن یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ مسلمانوں میں بعض قوموں کی عورتیں پردہ نشین نہیں اور زیادہ تعداد ایسی غریب قوموں کی ہے جن میں ہمیشہ سے پردہ کا رواج نہیں تو اگر بے پردگی سے ہی ترقی ہوتی ہے تو ان قوموں نے کیوں نہ کر لی ( العبرۃ ص 42 و 45 ، )
تو معلوم ہوا کہ ایسی باتیں غیر قوموں کی ترقی کا سبب نہیں ورنہ اگر ان باتوں میں ترقی کا خاصہ ہوتا تو یہ جہاں پائی جاتیں وہاں ترقی بھی ہوتی مگر ایسا نہیں تو معلوم ہوا کہ ان باتوں میں ترقی کا خاصہ نہیں ہے ( تسہیل )
غیر قوموں کی ترقی کا اصل سبب جو باتیں ہیں وہ دوسری ہیں وہ انکی ایسی صفتیں ہیں جو انہوں نے آپ ہی کے گھر سے لی لی ہیں جیسے منتظم ہونا مستقل مزاج ہونا ، وقت کا پابند ہونا ، برد با ہونا ، انجام سو چکر کام کرنا ، صرف جوش سے کام نہ کرنا ، ہوش سے کام لینا آپس میں اتفاق و اتحاد کرنا ، اور یہ سب باتیں وہ ہیں جنکی تعلمیم اسلام نے دی ہے ان سب حکموں کا خاصہ ہے کہ انکے اختیار کرنے سے ترقی ہوتی ہے اور چھوڑ دینے سے ترقی والوں کی بھی خاک میں مل جاتی ہے چاہے کوئی اختیار کرے اور کوئی چھوڑے ـ
اب مسلمانوں نے تو ان حکموں کو چھوڑ دیا ہے ان میں نہ اتحاد و اتفاق ہے نہ رازداری کا مادہ ہے نہ انتظام ہے ، نہ وقت کی پابندی ہے نہ انجام سوچکر کام کرتے ہیں اور جو احکام کرتے ہیں جوش سے کرتے ہیں ہوش سے نہیں کرتے اس لئے انکی ترقی جو ہو چکی تھی وہ بھی جاتی رہی اور درسری قوموں نے انکے گھر سے چرا کر ان باتوں پر عمل شروع کردیا تو ان حکموں کا جو خاصہ تھا یعنی ترقی وہ ہے اس میں ظاہر ہو گیا مگر یہ چوری نا تمام چوری ہے جیسے چور کو گھر کی سب چیزیں معلوم نہیں ہوتیں اسکے ہاتھ وہی چیزیں لگتی ہیں جو ظاہر ہوتی ہیں دبے ہوئے خزانے ہاتھ نہیں لگے اس لئے انکو بھی پارس کی پتھری کی جو آپ کے گھر میں تھی خبر نہیں ہوئی مگر انہوں نے اسے ایک بیکار پتھر سمجھ کر چھوڑ دیا کہ اسکی قدر تو واقف ہی کو ہوتی ہے نا واقف اسے کیا جان سکتا ہے وہ پارس کی پتھری ایمان ، توحید ، اعتقاد رسالت ، نماز روزہ وغیرہ ہیں افسوس آپ کو اپنے گھر کی قدر نہیں اگر آج آپ میں وہ صفتیں ہوتیں جو دوسری قوموں نے آپ سے لی ہیں تو اس یا اس کی پتھری کے ساتھ مکر آپ کو وہ ترقی ہوتی جو غیر قوموں کے خواب میں بھی کبھی نہ آئی ہوگی ـ آپ کو وہ عروج اور بلندی حاصل ہوتی جو آپکے اسلاف کو حاصل تھی کہ ان سے کوئی بھی نہ ملا سکتا تھا ـ افسوس آج مسلمان یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ان باتوں کو اور نماز روزہ کو ترقی میں دخل بھی ہے اس صاف ارشاد پر نظر بھی نہیں رہی ـ وعبداللہ الذین اٰمنوا وعملوا لصٰلحٰت لیستخلفنھم فی الارض ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعبد و ننی ولا یشرکون بی شیاہ ۔ ( اللہ تعالی نے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ ضرور ان کو ملک میں خلیفہ و بادشاہ بنائیں گے اور ان کو دین پر جس کو ان کے واسطے پسند فرمایا ہے قبضہ والا بنادیں گے اور خوف کے بعد امن بدل دیں گے کہ وہ میری عبادت کریں اور شرک نہ کریں ) ـ
کس قدر صاف طریقہ سے ان عملوں کا خاصہ بیان فرمایا ہے اور پھر ترقی کا وعدہ بھی فرمایا ہے کہ جس کے خلاف ہونیکا وہم بھی نہ ہو اس میں سو فی صد کا کامیابی ہی کامیابی ہے خدا تعالی کا وعدہ ہے اسکے خلاف نہیں ہوگا اس لئے اس تدبیر میں کامیابی بالکل یقینی ہے ( تسہیل )
افسوس جس خزانہ کو چور نے ناواقف ہو کر یا بکار سمجھ کر چھوڑ دیا تھا آج اسکی قدر و قیمت سے خود گھر والے بھی واقف نہیں ہیں اور کس قدر بے قدری کر رکھی ہے کہ بعض کا کلمہ بھی درست نہیں یا نماز ہی غائب یا نماز بھی تو سجدہ و رکوع یا قومہ غائب یہ سب بے قدری اس واسطے ہے کہ نماز صرف ثواب کا کام سمجھ رکھا ہے اسکے دنیا کے فائدے انکو معلوم نہیں بلکہ بعض جاہل تو نماز روزہ کو اور ترقی س روکنے والا سمجھتے ہیں ـ
اگر ان کو حقیقت معلوم ہو جاتی اور یہ خبر ہو جاتی ان عملوں کو ترقی میں اور حکومت ملنے میں بڑا دخل ہے تو پھر دیکھئے کہ مسلمان کس زوق و شوق سے جوق جوق نماز روزہ وغیرہ سب عملوں کو بجا لاتے ، گو اس نیت سے عمل کرنا اچھا نہیں خلوص کے خلاف ہے ـ اصل مقصود خدا تعالٰی کی رضا مندی ہونا چاہیئے یہ دنیا کے فائدے تو خود بخود حاصل ہو جاتے ہیں غرض ترقی کے اسباب آپ کے گھر میں موجود ہیں اور آپ ہی کے گھر سے دوسروں نے چرائے ہیں اسلامی تعلیمات جو نہایت زریں تعلیمات ہیں افسوس ہم مسلمانوں نے ان سب کو چھوڑ رکھا ہے پھر کیسے ترقی ہو سکتی ہے ( العبرۃ البقرۃ 49 تا 52 )
( احقر تسہیل کنندہ عرض کرتا ہے کہ ایک کاشتکار کی ترقی کا شت کی ترقی سے ہوتی ہے ملازم کی ترقی ملازمت کی ترقی سے ہوتی ہے ، تاجر کی ترقی تجارت کی ترقی سے صنعت و حرفت والیکی ترقی صنعت و حرفت کی ترقی سے ہوتی ہے غرض ہر کام والے کی ترقی اس کے کام ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور جس قدر زیادہ ترقی اس کام میں ہوگی اسی قدر وہ بھی ترقی والا اہل کمال اور ساری دنیا میں عزت والا ہوگا تو پھر کیا مسلمانوں کی ترقی اسی سے نہ ہوگی کہ اسکے اسلامیں ترقی ہو اور اسلامیت میں اعتقادات ، معاملات ، اخلاق سب میں کمال درجہ کی ترقی ہو ، بس ایک ہی اصول ہے ترقی کا : انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین ( تم ہی عالی اور ترقی والے ہو اگر پورے مسلمان بن جاؤ )
مسلمان کو دوسروں میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ انکی ایک صفت کو ارشاد فرمایا ہے ـ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین ( مسلمان مسلمانوں میں نرم اور کافروں پر غلبہ و عزت ، والے ہیں ) تو جس قدر مسلمانوں کے ساتھ آپ اپنے آپ نرم اور خوش اخلاق رکھیں گے اسی قدر دوسروں کی نظر میں عزت ہوگی یہ ایک زریں اصول ہے چند ہی روز عمل کر کے نتیجہ دیکھ لیا جائے کہ اسی سے کس قدر ترقی حاصل ہوتی ہے ـ حضرات صحابہ و تابعین اور اسلاف کو جسقدر ترقی حاصل ہوئی اس سے دنیا واقف ہے تو کیا ان حضرات نے سودی کاروبار کئے ہیں کیا ہیں ناجائز خریدو فروخت کی تھی کیا پردہ اٹھایا تھا ، یا کوئی تدبیر جو آجکل کی غیر قوموں میں رواج پا رہی ہے ان میں سے کوئی تدبیر کی تھی ؟
ظاہر ہے ان میں سے کوئی نہ تھی وہاں فقط وہی ایک تدبیر تھی جو قرآن شریف نے بتائی ہے یعنی کمال ایما ، عقائد ، اعمال ، معاملات ، اخلاق سب میں شریعت عزا کی کامل فرمانبرداری ہر مسلمان کے لئے ہیچ اور ذلیل بن جانا جس میں ایثار اتفاق و اتحاد ، بردباری ، انتظام استقلال سب کچھ آگیا ہے بس یہی وہ نسخہ ہے جس سے مسلمانوں نے ہمیشہ اور وہم و خیال سے زیادہ ترقیا کی ہیں یہ ہمیشہ کا تجربہ کیا ہوا دیکھا اور برتا ہوا نسخہ ہے اور پھر ان پر خدا تعالی کا وعدہ بھی ترقی کا ہے ـ
افسوس اس اکسیری نسخہ کو چھوڑ کر در بدر بھیک مانگی جارہی ہے اور نا موافق مزاج نسخے استعمال کر کے نقصان اٹھایا جا رہا ہے ـ
کاش قوم کو درد رکھنے والے بزرگ ہر جگہ اسکی انجمنیں اور کمیٹیاں قائم کریں کہ لوگوں کو ایمان ، کامل کی طرف لایا جاوے ـ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین کا درس دیا جائے پھر ترقی مال و عزت کی بلکہ حکومت تک آگے رکھی ہوئی ہے فقط ( واللہ اعلم بالصواب )

( ملفوظ 198) گائے کا گوشت کھانا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ گائے کا گوشت کھانے سے قساوت پیدا ہوتی ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ قساوت کا علاج ہی گائے کے گوشت کھانے میں ہے چناچہ مشاہد ہے کہ جو قومیں گائے کا گوشت نہیں کھاتیں وہ بے رحم ہیں اور جو کھاتے ہیں وہ رحم دل ہیں ـ

( ملفوظ 196)غیر مسلموں کو علم سے مناسبت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علوم میں ساری دنیا مسلمانوں کی محتاج ہے اور ہمیشہ سے رہی دوسری قوموں کا عدم مناسبت علمی کے سلسلہ میں ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مولوی نورالحسن صاحب کاندھلوی کی ایک انگریز سے ملاقات ہوئی یہ ملاقات ایک سر شتہ دار نے اس انگریز کی تمناؤں کے بعد کرائی تھی اس انگریز نے سوال کیا گنگ مولوی صاحب نے سوال کو ملہمل سمجھ کر جواب میں بطور تمسخر کہہ دیا سنگ بس قافیہ ملا دیا جن صاحب نے مولوی صاحب کی انگریز سے ملاقات کرانے کی کوشش کی تھی ان سے مولوی صاحب نے کہا کہ یہ کیا واہیات آدمی ہے کیا لغو حرکت کی وہ کہنے لگے وہ انگریز مجھ سے کہتا تھا کہ مولوی صاحب بہت بڑے عالم ہے ہم نے پوچھا تھا کہ دریائے گنگ کہاں سے نکلا انہوں نے کہا کہ پہاڑوں سے بس یہ علوم ہیں دوسری قوموں کے اور خیر یہ تو محض مہمل بات تھی جو تحقیقات ان کے یہاں مایہ ناز ہیں وہ بھی اسلامی علوم کے سامنے محض لچر ہیں اس کا مشاہدہ ہے ـ
7 محرم الحرام 1351 ہجری مجلس خاص بوقت یوم شنبہ

( ملفوظ 197) ایک صاحب کے سکوت پر مواخزہ

ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا نے تنبیہ فرماتے ہوئے جواب طلب فرمایا کہ اس غلطی کا جواب دو وہ صاحب خاموش رہے اس پر فرمایا کہ جواب نہ دینا بھی بہت ہی ایزا رسانی کی بات ہے ایک خیر خواہ بصورت سوال دوسرے کو اس کے جہل سے نکالنا چاہتا ہے اور وہ اس میں جواب سے اس کی امداد نہیں کرتا ـ آدمی پوچھنے پر جواب دے جواب نہ دینے کا مرض بھی عام ہو گیا ہے ـ اس پر بھی وہ صاحب کچھ نہ بولے ـ خاموش رہے ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ارے میاں جب تم نہ بولنے کی قسم کھا کر آئے تھے تو یہ بتلاؤ کہ دوسرا اصلاح کس طرح کرے ـ اپنا تو حساب لگا لیا کہ جاؤں گا یہ کہوں گا ، یہ ہوگا ، وہ ہوگا مگر دوسرے کی بات کا تو جواب دے دو تمہارے نزدیک دوسرے کا سوال لغو ہے بیکار ہے ـ عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ بندہ خدا اتنا دق کر کے کہا پہلے سے یہی کہہ دیا ہوتا خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا ـ یہاں پر جتنے آتے ہیں منتخب ہو کر ایسے ہی آتے ہیں ـ

( ملفوظ 195) صرف وعظ اور لیکچر کافی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ یہ جانتے ہیں کہ لیکچروں یا وعظوں سے مسلمانوں کی حالت سنبھال لیں فی نفسہ اچھی بات ہے مگر بدون عملی جامہ پہنائے نرے وعظوں اور لیکچروں سے کفایت نہیں ہو سکتی اس کی طرف کسی کو بھی التفات نہیں محض زبانی عملدرآمد ہے –

( ملفوظ 194)کسی مسلمان کے انتقال پر حالت خوف ہونا

فرمایا کہ ایک عجیب بات ہے بہت عرصہ تک میں اس کو سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہے وہ یہ کہ کسی بزرگ کے انتقال کو سنتا ہوں تو ان کے متعلق احتمال مواخزہ کا قلب پر استحضار ہوتا ہے اور اگر کسی گنہگار کے انتقال کو سنتا ہوں تو اس کی نسبت معاملہ رحمت کا قلب پر استحضار ہوتا ہے بڑے ہی سوچ میں تھا کہ یہ کیا قصہ ہے ایک روز سمجھ میں آیا کہ وہاں یعنی بزرگ کی نسبت رحمت کا استحضار تو پہلے ہی سے ہے دوسرے احتمال کا استحضار ہونا چاہئے تاکہ جمع بین الخوف والرجاء ہو اور یہاں یعنی گنہگار کی نسبت اعتدال مواخزہ کا استحضار پہلے ہی سے ہے احتمال رحمت کا استحضار ہونا چاہئے ـ

( ملفوظ 193) عنداللہ محبوب ہونے کا مراقبہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب بندہ نا فرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر گر جاؤں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں فرشتے کہتے ہیں کہ ہم اس کو ہلاک کر دیں حق تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم نے اس کو بنایا نہیں اس وجہ سے ایسا کہتے ہو میں نے بنایا ہے اس کی قدر میں جانتا ہوں کس قدر رحمت ہے اور اپنے بندوں سے کس قدر محبت ہے میں نے تو ایک مرتبہ اس سے استنباط کر کے دوستوں سے کہا بھی تھا کہ عنداللہ اپنے محبوب ہونے کا مراقبہ کیا کرو اس سے بڑا نفع ہوگا کیونکہ اس کی خاصیت ہے کہ اللہ تعالٰی کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہو جائے گی پھر یہی مراقبہ میں نے ایک کتاب میں بھی دیکھا ایک بزرگ نے بھی یہی لکھا ہے اس وقت دیکھ کر بڑا جی خوش ہوا کہ جو چیز قلب میں آتی ہے الحمدللہ اس کی تائید بزرگوں سے بھی نکل آتی ہے میں اتنی قید اس مراقبہ میں اور لگایا کرتا ہوں کہ صاحب مراقبہ شریف طبیعت کا ہونا ورنہ برا اثر قبول کرے گا کہ عجب و دلال ( ناز ) اور تعطل پیدا ہو جائے گا ـ