( ملفوظ 192) حضرت شیخ الہند کی حالت گریہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ حکایت معتبر ذریعہ سے معلوم ہوئی کہ حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ جس وقت مالٹا میں تشریف فرما تھے ایک روز بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ساتھیوں نے پوچھا کہ کیا حضرت گھبرائے ہیں یہ لوگ سمجھے کہ گھر بار یاد آرہا ہوگا یا جان جانے کا خوف ہوگا فرمایا کہ میں اس وجہ سے نہیں رو رہا ہوں جو تم سمجھے ہو بلکہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں یہ مقبول بھی ہے یا نہیں ـ

( ملفوظ 191) دنیا اور آخرت کی پریشانی سے نجات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ تعالی دنیا و آخرت میں پریشانی سے بچاوے دنیا کی وہ پریشانی چاہے قلت مال سے ہو یا فقدان تندرستی سے ہو اولاد کی نافرمانی سے ہو اور آخرت کی پریشانی ظاہر ہے کہ صرف معصیت سے ہے اللہ تعالٰی سب سے بچاوے ـ

( ملفوظ 190)سچا آدمی محبوب ہوتا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس میں مکرو فریب نہ سچا ہو یہ ادا مجھ کو بہت پسند ہے اور یہ ادا جس میں بھی ہو وہ مجھ کو محبوب ہے ـ

( ملفوظ 189)علوم نقشبندیہ کے اور جانبازی چشتیہ کی

ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ علوم کا تو میں نقشبندیوں کا معتقد ہوں ان میں بڑے بڑے علماء گزرے ہیں اور چشتیوں میں اس قدر علماء نہیں گزرے مگر جانباز چشتیوں میں زیادہ ہیں یہ بات دوسروں میں اس درجہ کی نہیں ـ

( ملفوظ 188) چشتیہ کا مذہب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتی بچارے تو نہ کسی کا بدنام کرنے کی پروا کرتے ہیں اور نہ کسی کے نیک نام کرنے کی پرواہ کرتے ہیں ان کا مذہب تو یہ ہے ـ
گرچہ بد نامی ست نزوعاقلان مانمی خواہیم ننگ و نام را
عاشق بدنام کو پروائے ننگ و نام اور جو خود ناکام ہو اس کو کسی سے کام کیا
( اگرچہ عاقلوں کے نذدیک یہ بات بدنامی کی ہے مگر ہم ننگ و نام کے خواہشمند نہیں ـ 12 ـ )

( ملفوظ 187) سماع اور خواجہ نقشبندی

ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ سماع کے متعلق حضرت بہاء الدین نقشبندی نے فرمایا ہے نہ انکا میکنم و نہ این کار مکینم اور قاضی صاحب پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ بھی منکر نہیں تارک ہیں ـ

( ملفوظ 186) بزرگوں کی عظمت سے نور ایمان قوی ہوتا ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بزرگوں کی عظمت قلب میں ہوتو اس سے نور ، ایمان قوی ہوتا ہے دین میں رسوخ ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 185) خالی رائے دینے والوں کا علاج

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ رائے دینا بہت آسان ہے مگر جب کچھ کام کرنا پڑے اور وہ آسان ہوتا ہے مگر سب ختم ہو جاتے ہیں

( ملفوظ 184) صرف بیعت ہو جانا کافی نہیں

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ قلب میں وساوس آتے ہیں اس کے واسطے کوئی ورد بتلا دو یہ صاحب ایک بہت بڑے شیخ سے مرید ہیں لیکن آج تک یہ خبر نہیں کہ ورد سے بھی وسوسوں کا علاج ہوتا ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ فقط بیعت سے کچھ کام نہیں چلتا تعلیم و تنظیم کی ضرورت ہے اس پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کہ سخت ہے بس یہ سختی ہے کہ میں ناواقفوں کو واقف بناتا ہوں کیا یہ بھی جرم ہے ایک قصبہ ہے تیتروں وہاں سے بہت سی عورتیں بیعت ہونے آئیں ایک چھکڑا کیا بھرا ہوا تھا اس میں ایک جھگڑا بھرا ہوا تھا میں نے بیعت کرنے سے اس بناء پر انکار کر دیا کہ تم اپنے اپنے خاوندوں سے پوچھ کر نہیں آئی ہو میں بیعت نہ کروں گا میں نے بعد میں سنا کہ ان عورتوں نے کہا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی اچھا تھا ترت یعنی فورا مرید کرلے تھا میں نے کہا کہ بالکل سچی بات ہے دونوں جز صحیح ہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا اچھا ہونا اور میرا برا ہونا مگر بلانے کون گیا تھا تم یہاں پر آو اور آکر مرید ہو سب خفا ہو کر چلی گئیں ـ

( ملفوظ 181)نہ قلب میں غل ( بالکسر ) نہ زبان پر غل بالضم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے ذرہ برابر الحمداللہ بغض نہیں یا خلش نہیں نہ قلب میں غل ( بالکسر ) نہ زبان پر غل ( بالضم اور الحمد اللہ دوسرے بھی میرے ساتھ ایسے ہی ہیں اہل وطن کو اکثر دیکھا ہے کہ مخالفت ہے نہ تعظیم ہے ہاں محبت سب کو ہے حتی کہ ہنود کو بھی بھنگی چماروں تک بھی محبت ہے بعض لوگ ان ہی اہل وطن میں ایسے بھی ہیں جو تحریکات کے زمانہ سے اختلاف رکھتے ہیں مگر ہمیشہ سے جب ملتے ہیں جھک کر سلام کرتے ہیں میں بھی خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ آپ کا فضل ہے رحمت ہے ورنہ مجھ میں ایسا کونسا سر خاب کا پر ہے ـ