( ملفوظ 169) ملقب بہ تنبیہ الاحزاب علی ضرورۃ الحجاب : ( یعنی پردہ کی ضرورت )

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بے پردگی اعلی درجہ ک بے حیائی اور بے غیرتی ہے نصوص اور مسائل کے خلاف ہونے کے علاوہ بے پردگی خود ایک غیرت کی چیز ہے جو کہ فطری ہے ان بے حسوں میں غیرت بھی رہی مجھ کو تو مسلمانوں کی اس حالت پر بے حد صدمہ اور رنج ہے کیا کروں اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہو تو ایک دن میں ان کو درست کر دوں حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں ایک شخص ضبیع نام مدینہ میں وارد ہوا اور قرآن شریف کے متشابہات میں سوال جواب کرنا شروع کیا آپ نے حاضر ہونے کا حکم دیا اور سر پر قمچیاں مارنا شروع کیں بس دماغ درست ہو گیا پھر اس کو وطن واپس کر دیا اور حضرت ابوموسٰی اشعری کو جو کہ عامل تھے لکھ دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو اس کے پاس کوئی نہ بیٹھے کزافی روح المعانی ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نعل دار جاتا روشن دماغ ہے واقعی صحیح ہے اور یہ فرمایا کرتے تھے جہاں چار کتابیں آسمان سے نازل ہوئی ہیں تو توریت ، زبور ، انجیل ، قرآن اگر ان سے عملی فیصلہ نہ ہو تو اس کے لئے ایک پانچویں چیز بھی حق تعالی نے نازل فرمائی ہے وہ اس آیت کے مذکور ہے : وانزلنا الحدید فیہ باس شدید ـ
یعنی لوہے کو بھی نازل فرمایا ہے مراد اس سے سیف ہے اس سے عملی فیصلہ ہو جاتا ہے اسلام میں آج کل یہ ہی تو نہیں رہی اسی کی ساری خرابی ہے آزادی کا زمانہ ہے جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے اس آزادی سے یہاں تک نوبت آگئی ہے کہ عام پلیٹ فارموں پر بے پردگی کے متعلق لیکچر دیئے جاتے ہیں قرآن و حدیث میں تحریف کی جاتی ہے اور ان تازہ تحریکات کی بدولت اور زیادہ گمراہی کا دروازہ کھل گیا لوگ دلیر ہو گئے اور ان آزاد لوگوں کو زیادہ جرات مولویوں کی شرکت سے پیدا ہوئی اگر یہ جماعت الگ رہتی تو ان کو اتنا حوصلہ نہ ہوتا اس لئے مولویوں کی شرکت کی وجہ سے عوام ان قصوں میں شریک ہو گئے اور ان بد دینوں کو ان کے گمراہ کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا اورجن لوگوں نے خدا ترسی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ دین محفوظ رہے ان تحریکات سے علیحدگی رکھی ان پر قسم قسم کے الزام اور بہتان باندھے گئے بدنام کیا گیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سی آئی ڈی کے محکمہ سے تنخواہ پانے والے ہیں اور جا بجا مسلمانوں کو قتل اور مسجدوں کو شہید کرنا شروع کیا تب حقیقت منکشف ہوئی کہ واقعی ہم کہاں اور کس طرف جارہے تھے یہ اس کا نتیجہ ملا کہ خدا کے دشمن کے ساتھ سازش کی تحید اور رسالت کے منکروں کو مسلمانوں کے مجمع میں مذکر بنایا مساجد کے ممبروں پر ان کو بٹھایا یہ ہیں عقلا بیدار مغز یہ ہیں روشن دماغ جن کے دماغوں میں گیس کے انڈے اور بجلیاں اگر اس سے دماغ روشن ہو تو پھر دیکھو کہ خدا کی اعانت خدا کی امداد خدا کی رحمت خدا کی نصرت تمہارے سروں پر بادل کی طرح سایہ افگن ہو اور اس وقت تمام عالم کی غیر مسلم اقوام بھی مل کر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیوں کہ گدا گری کرتے پھرتے ہو تمہارے گھر کے اندر خود خزانہ دفن ہے اگر تم کو خبر نہں تو جن کو خبر ہے ان سے دریافت کرو اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرو ان کی جوتیاں سیدھی کرو ان کی ناز برادری کرو پھر دیکھو کہ کیا کچھ ملتا ہے کور باطن دوسری قوموں کی ترقی اور دولت کو دیکھ کر رال ٹپکاتے پھرتے ہیں تم کو خود ایک اتنی زبر دست دولت سے نوازا گیا ہے کہ وہ دولت اور کسی کو حاصل ہی نہیں اور اس دولت کے سامنے تمام ترقیاں اور دولتیں گرد ہیں وہ اپنے خناس کو دماغ سے نکال دو تب دیکھو ابھی تک تو بتوں ہی کی پرستش میں گزری ہے ذرا خدا کی پرستش کر کے بھی دیکھ لو اگر اعتقاد سے نہیں تو بطور امتحان ہی سہی اسی کو فراماتے ہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آذموں را یک زمانے خاک باش
در بہاراں کے شود سر سبز سنگ خاک شوتا گل بروید رنگ رنگ
برسوں تک تو سخت پتھر کی طرح رہا ہے ـ آزمائش کے لئے چند ہی روز کے لئے خاک کی طرح نرم ہو جاؤ دیکھ زمانہ بہار کی پتھر سر سبز نہیں ہوتا اور خاک میں رنگ رنگ کے پھول کھلتے ہیں ـ 12 ـ میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ اس کے بعد پھر تم ہی تم نظر آؤ گے میں یہ کہہ رہا تھا کہ ساری خرابی آزادی کے سبب ہے ایک صاحب کا واقعہ یاد آیا کہ وہ پردہ کے خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ کا خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ سے نکالئے گھر گئے اور اپنی بیوی کو بے پردگی پر راضی کر کے نکال لائے مگر کپڑے وہی ہندستانی گلبدن کا پاجامہ وغیرہ اتفاق سے ایک مرتبہ ان کو سفر پیش آیا تو ریل کے اندر فسٹ کلاس کے درجہ میں سفر کیا اس لئے بڑے آدمی تھے ایک اسٹیشن پر کسی چیز کی ضرورت ہوئی خاوند صاحب تو چیز لینے گئے اور وہاں پر ایک انگریز کوئی بڑا افسر اس درجہ میں آکر بیٹھا اس نے اس عورت کو دیکھ کر کہا کہ تم رنڈی ہے تم کیوں اس درجہ میں بیٹھی ہو کسی دوسری جگہ جاؤ اس عورت نے کہا کہ میں رنڈی نہیں ہوں گھر ستن ہوں اس پر جھگرا ہو ہی رہا تھا کہ خاوند صاحب تشریف لے آئے انہوں نے بھی اس انگریز سے کہا کہ یہ ہماری منکوحہ ہے اس نے کہا کہ ہم کو ہندستان میں اتنا زمانہ گزر گیا ہم نے کبھی کسی شریف عورت کی صورت نہیں دیکھی تم جھوٹ بولتے ہو یہ رنڈی ہے اور تم اس کے آشنا ہو یہ صاحب اسٹیشن ماسٹر کو بلا کر لائے اس نے تصدیق کی کہ میں ان کو جانتا ہوں یہ ان کی بیوی ہیں پھر اس نے مزاحمت تو نہیں کی مگر نفرت ظاہر کر کے خود دوسرے ڈبہ میں جا بیٹھا اب غور کیجئے ایک انگریز بے دین بے قید بے باک مگر اس قدر غیرت آئی کہ ہندستان میں شریف عورت اس طرح کیوں بے محابا پھرتی ہے اپنی عورت کے لئے تو ان کی بے حیائی کو گوارا کر لیا مگر ہندستانی عورت کیلئے گوارا نہیں کیا جہاں تک تتبع کیا گیا پردہ کے مخالف یا تو رذیل ہیں یا بدمعاش رذیل تو اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اپنی خواہشات کو پورا کریں ایک صاحب کا دوسرا واقعہ ہے منصوری پہاڑ پر اپنی نیوی کو ساتھ لئے جا رہے تھے چند بدمعاشوں نے مل کر یہ حرکت کی کہ دو نے اس کے خاوند کو پکڑ لیا اور بقیہ اس کو لے گئے اور زبردستی منہ کالا کیا پھر دو پھر ان دو نے بھی کیا یہ نتائج ہیں بے پردگی کے اس کے بعد اس شخص کو ہوش آیا اور اپنی بیوی کو پردہ کرایا تجربہ سے قبل تو احکام کی ان لوگوں کے قلوب میں وقعت اور عظمت ہوتی ہی نہیں ایسے کور مغز ہیں ـ
30/ ذی الحجہ 1350 ہجری مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ