ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے زمانہ کے بدعتی بھی اللہ اللہ کرنیوالے ہوتے تھے مجھ کو اکثر ملنے کا اتفاق ہوا ان میں شرارت نہ تھی جیسے آج کل کے اکثر بدعتی ہیں بلکہ بعضے فاسق فاجر تک ہیں ان کو کبائر تک میں ابتلا ہے اور ایک بات بزرگوں میں اور بھی تھی کہ مدار نہ تھے اوراہل علم سے نفرت نہ تھی اہل علم کا ادب واحترام قلب میں تھا آج کل کے اکثر بد عتیوں میں یہ سب باتیں مفقود ہیں ہمارے ایک ماموں صاحب صوفی تھے ان کا قدم تصوف میں درجہ غلو تک پہنچ گیا تھا مولانا شہید رحمتہ اللہ علیہ کے عاشق تھے اوریہ فرمایا کرتے تھے کہ پیرزادے جو حضرت شہید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو برا کہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ ان کی روٹیوں میں کھنڈت پڑگئی بھلا جس شخص نے اپنا مال اور جان سب اللہ کے واسطے صرف کردیا ہو کیا اس کو برا کہا جائے اور اس پرطعن کیا جائے ماموں صاحب میں یہ بات خاص تھی کہ تارک الدنیا سے ان
کو عشق کا درجہ ہوتا تھا یہ اس وقت کے بدعتیوں کی حالت تھی اب تو نہایت ہی بدین ہیں دلوں میں اہل علم سے بغض و عداوت ہے شب وروز فسق وفجور
میں مبتلاء ہے مراد ہے امر دپرستی تو ان کی مثل شیر شکر کے ہے الاماشاءاللہ ۔
