( ملفوظ 32) پرانی باتوں میں نور اور برکت ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پرانی باتوں کو چھوڑ دینا چاہئے اب زمانہ ترقی کررہا ہے نئی باتیں اختیار
کرنا چاہئے صاحب پرانی باتوں میں نور ہے برکت ہے اور پرانی توز میں بھی آسمان بھی ہے ان کو بھی چھودو اور خود اپنا وجود بھی تو پرانا ہوگیا اس کو بھی چھوڑ دو کیا لغوی باتیں ہیں کام کی چیز تو پرانی ہوکر ایسی ہوجاتی ہے جس
کو مولانا فرماتے ہیں
خود قوی ترمی شود خمر کہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( جس کے پاس عشق آگیا اس کی عقل پراگندہ ہوگئی جب صبح آجاتی ہے تو شمع روشنی پھیلا نے میں مجبور ہو جاتی ہے عقل مثل کو توال کے ہے جس سلطان عشق آگیا تو بیچارہ عقل کوتوال کو نہ میں دبک جاتا ہے ۔ 12)