( ملفوظ 318)پوری عبارت بیان نہ کرنے پر مواخزہ

ایک شخص آ کر خاموش بیٹھ گئے ـ حضرت والا کے دریافت فرمانے پر بھی پوری بات اور اپنا تعارف نہ کرایا ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص حاجت لے کر آوے اس کو خود کہنا چاہئے کیا یہ میرا ذمہ ہے کہ میں پوچھا کروں کس کس سے پوچھوں ـ میں ان چیزوں کی بھی تعلیم کرتا ہوں ـ اس لئے بدنام ہوں ـ مگر لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کے غلام ہو جاؤ سو مجھ سے غلام نہیں بنا جاتا ـ اس غلامی کا نام رکھا ہے ـ اخلاق قیامت تک بھی اختیار کرنے کہ لئے تیار نہیں یہ تو اعلی درجہ کی بد اخلاقی ہے ـ جس سے لوگوں کا دین خراب ہو اور وہ جہل میں مبتلا رہیں ـ