( ملفوظ 544)قبر پر پھول چڑھانا

ارشاد فرمایا کہ ایک صوفی غیر متشرع الہ آباد کے میرے پاس گنگوہ میں آئے اور پھولوں کا ایک ہار مجھے دے کر کہا کہ آج ایک باغ میں سے پھول لایا تھا کچھ تو حضرت شاہ عبدلقدوس صاحب کے ہاں چڑھائے اور کچھ اس میں کا بچا ہوا تمہارے پاس لے آیا ـ میں نے ان سے ان کے مذاق کے موافق کہا کہ اگر کوئی شخص نہایت لطیف المزاج اسی روپیہ تولہ کا عطر لگاتا ہو اور آپ اس کے پاس بالکل معمولی اور خراب چار آنہ تولہ کا عطر لے جاکر اس کے کپڑوں میں لگا دیں تو کیا اس کو ناگوار نہ ہوگا ـ سو یہ حضرت اولیاء اللہ جنت کے روائح ( خوشبوؤں ) سے مشرف ہو چکے ہیں اور ان روائح اور دنیا کے پانچ پھولوں میں یہی نسبت ہے تو ان کے قبور پر ان پھولوں کا چڑھانا ان کو کیسے گوارا ہوگا ـ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور توبہ کر لی اور کہنے لگے آئندہ ایسا نہیں کروں گا ـ