ایک صاحب نے پرچہ کے ذریعہ سے حضرت والا سے درخواست کی کہ میرا جی چاہتا ہے پنچ روپیہ پیش کرنے کو ان صاحب نے بھی بذریعہ خط حاضری کی اجازت چاہی تھی ـ اور اس ہی شرط پر اجازت ملی تھی کہ یہاں پر آکر مجلس میں خاموش بیٹھے رہو ـ مکاتبت مخاطبت نہ کروـ اور ان کی تعلیم حضرت والا کے ایک اجازت یافتہ صاحب کے سپرد تھی ـ اس پر حضرت والا نے مواخزہ فرمایا کہ مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہ تھی ـ تو یہ پرچہ لکھنا مکاتبت مخاطبت میں داخل نہیں ہے اور کیا یہ صریح امر کی مخالفت نہیں ہے ـ عرض کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اصلاح کے متعلق مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں ـ فرمایا کہ یہ تم نے کیسے سمجھ لیا اور یہ اجتہاد کیسے کر لیا ـ نیز اصلاح تو دین ہے اور روپیہ دینا دنیا ہے تو جب دین ہی کے لئے اجازت نہ تھی مکاتبت مخاطبت کی تو دنیا کے لئے تو کیسے ہو سکتی ہے ـ کیا مجھ کو آپ نے بے حس ، بے غیرت ، بے شرم ، بے حیا ، سمجھا ہے ـ دوسری تکلیف مجھ کو یہ ہوئی کہ میں نے آپکو مکاتبت مخاطبت کی بھی اجازت نہ دی اور آپ مجھ کو روپیہ دیں تو کیا مجھ کو غیرت نہ آئے گی کہ ایک شخص تو میرے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہے اور میں اسکے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہا ہوں ـ تیسرے محسن کا خواہ مخواہ قلب پر اثر ہوتا ہے تو میں آزادی سے تمھاری اصلاح لئے نہیں کر سکتا اس وقت تم نے مجھ کو سخت تکلیف پہنچائی ـ بے حد دل دکھایا تمھارے نفس کا کید ہے ـ تم یہ سمجھے کہ روپیہ لیکر نرم ہو جائے گا ـ مراعات کرے گا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ محسن کے ساتھ دل چاہتا ہے کہ ہماری طرف سے بھی کوئی ایسی بات ہو کہ جس سے اسکا دل خوش ہو ـ غرض تم نے کئی طرح کی تکلیف دی ـ ایسی حالت میں تمہارا روپیہ لینا کیا بے غیرتی اور بے حیائی نہیں ہے ـ
