ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں مدت سے خود اس مسئلہ کی تلاش میں تھا کہ قنوت نازلہ اگرپڑھے توکب تک پڑھا کرے بہت سے علماء سے دریافت کیا کسی نے شافی جواب نہیں دیا اب بحمداللہ حدیث سے سمجھ میں آگیا کہ حضورﷺ سے ایک ماہ سے زائد منقول نہیں حالانکہ حوادث بعد میں بھی باقی رہتے تھے اس سے زیادت زیادت علی المنقول ہے رہا یہ شبہ کہ جب حوادث رفع نہ ہوں تو دعاء کیسے منقطع کردی جاوے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ تک پڑھنے کی برکت سے ان شاءاللہ رحمت ہوجائے گی نیز عقلا اس کو اس طرح سمجھ لیجئے کہ اگر کسی پرکوئی حادثہ آجائے تو کیا جب تک وہ حادثہ رہے برابر ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہے یہ تکلیف مالایطاق کیسے ہوسکتی ہے آخر انقطاع گواوقاب خاصہ کے لئے یہاں بھی پایا گیا تو نفس انقطاع کی مشروعیہ ثابت ہوگئی باقی ویسے مثل دوسری دعاؤں کے دعاء کرتے رہنا مسنونہ ہے کلام دعا بضمن قنوت میں ہے ۔
14/ ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چارشنبہ
