ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے قصبہ والوں کومیرے ساتھ عقیدت زیادہ ہے مگر محبت ہے اور عقیدت سے تومجھ پربوجھ ہوتا ہے ہاں محبت سے خط ہوتا ہے اور اگردونوں چیریں جمع ہوجاویں تو عقیدت پرمحبت کو غالب کرنا چاہئے ایک صاحب نے عرض کیا کہ عقیدت ہی سے تومحبت ہوتی ہے فرمایا کہ اول تو یہ غلط ہے بدون عقیدت بھی محبت ہوتی ہے دیکھئے اہل وعیال سے محبت ہوتی ہے عقیدت نہیں ہوتی پھر اگرشروع میں ایسا ہوا بھی ہومگر ترتب آثار کے وقت بناء عقیدت کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا صرف محبت ہی موثر ہوتی ہے دیکھئے صحابہ کو حضورﷺ سے جو محبت ہوئی گو وہ رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر جب خدمت کرتے تھے اس وقت رسالت کا خیال بھی نہ آتا تھا مثلا ہدیہ وغیرہ جودیتے تھے رسالت کی بناء پرتھوڑا ہی دیتے تھے توابتداء میں محبت رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر اس کے بعد کرتے تھے وہ صرف محبت کی وجہ سے ۔
