ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں جو قواعد اور ضوابط مقرر ہوئے ہیں اگر ان کے مصالح لکھواؤں تو اچھا خاصہ ایک رسالہ تیار ہوجائے جیسے آیات کا شان نزول ہے اسی طرح ان قواعد اور ضوابط کا بھی شان نزول ہے اور یہ سب کچھ اپنی اور دوسروں کی راحت رسانی کے واسطے ہے ورنہ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ ان قواعد اور ضوابط کی وجہ سے مجھ پر ہروقت خوف طاری رہتا ہے کہ قیامت میں تجھ سے بھی قواعد دقیقہ کا مواخذہ نہ ہونے لگے اس لئے نہ مجھ کو ان پر ناز ہے اور نہ میں اپنی اصلاح سے بے فکر ہوں ہمیشہ دعاء کرتا ہوں کہ اے اللہ ! میں ضعیف ہوں اس لئے میں نے ضوابط مقرر کئے ہیں کہ بے ضابطگی کا متحمل نہیں آپ تو ضعیف نہیں آپ ضابطہ سے کام نہ لیجئے ۔ غرض ! مجھ کو سخت خوف ہے میں بے فکر نہیں بلکہ ڈرتا ہوں کہ اگر حق تعالٰے نے میرےساتھ اسی طرح ضابطہ کا برتاؤ کیا تو میرا تو کوئی بھی ٹھکانہ نہیں اور یہ چیز یں کی نہیں بلکہ خود ذلیل ہیں ضعف کی ناز کی ان میں کوئی بات نہیں ہے اس لئے ڈرتا ہوں اور اپنی اصلاح کا خیال رکھتا ہوں ۔
