( ملفوظ 465)قرآن میں عورتوں کی صفات

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بیہودہ ہیں جو عورتوں کے لئے عرفی ترقی کو کمال سمجھتے ہیں حق تعالٰی نے عورتوں کی صفات بیان کی ہیں فرماتے ہیں ـ ان الذین یر مون المحصنٰت الغٰفلٰت المؤمنات ۔ اس میں غافلات کو مدح میں فرمایا ہیکہ جن چیزوں سے اسکا تعلق نہیں اسکی خبر بھی نہ ہونا چاہیئے چناچہ محصنات عفیفات کو غیر مردوں کا خطرہ بھی ذہن میں نہیں آتا اسی باب میں ان کا یہ مذہب ہوتا ہے ـ
دلا را مے کے داری دل درو بند ، وگر چشم از ہمہ عالم فروبند ،
( جو محبوب حاصل ہے اوسی سے دل لگاؤ سارے عالم کی طرف سے آنکھیں بند کر لو 12 عے )
پس اصلی زیور عورت کا عفت ہے خواہ سلیقہ میں کچھ کمی ہی ہو اسی کو فرماتے ہیں : فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔
اکثر پھوڑ عورتوں میں ایک ایسی خوبی ہوتی ہے جو بعض اوقات عاقلہ اور عالمہ میں بھی نہیں ہوتی اور وہ عفیف ہونا ہے ـ