ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میرے ایک لڑکا ہے اس کو قوت حافظہ کی کمی کی شکایت ہے فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس کے لئے یہ فرمایا کرتے تھے کہ صبح کے وقت روٹی پر الحمد شریف لکھ کر کھلایا جائے حافظہ کے لئے مفید ہے میں نے اس میں بجائے روٹی کے بسکٹ کی ترمیم کردی ہے کیونکہ بوجہ ملاست (چکنا ہونیکے ) اس پر لکھنے مین سہولت ہوتی ہے پھر ایک سوال پر فرمایا کہ حضرت کم ازکم چالیس روز کھانے کو فرمایا کرتے تھے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ان تعویز گنڈوں میں عامل کی قوت خیالیہ کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کلمات کی قید نہیں چنانچہ حضرت سید صاحب بریلوی تعویذ میں صرف یہ لکھ دیا کرتے تھے خدا وند اگر منظور داری حاجتش رابر آری جس کام کے لئے دیتے حق تعالی پورا فرمادیتے ایک صاحب نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت اس عبارت کو یوں کردیا جاوے موزوں شعر ہوجائے
خدا وند اگر منظورداری بفضلت حاجت اورا براری حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھائی تم شاعر ہو تم اسی طرح کرلیا کرو ہم بزرگوں کے کلام میں تصرف کرنا خلاف ادب سمجھتے ہیں ان کو حضرت نے بے ادب بنادیا مگر نہایت لطیف عنوان سے جیسے قرآن میں حق تعالی فرماتے ہیں ومالی لااعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھ کو پیدا کیا ) ان حضرات کی ہربات میں لطافت ہوتی ہے اگر معمولی سے معمولی بھی فرماتے ہیں اس میں بھی نور ہوتا ہے اثر ہوتا ہے ایسے ہی ایک شخص حضرت مولانا گنگوہی کی خدمت میں آیا اس نے ایک ضرورت کیلئے تعویز مانگا غالبا نکاح کرنا چاہتا تھا آپ نے انکا ر کردیا اس نے اصرار کیا آپ نے لکھ کردے دیا اے اللہ یہ مانتا نہیں میں جانتا نہیں آپ جانیں اور آپ کا بندہ بہت جلد وہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور جیسے ان کی معمولی باتوں میں نور اور اثر ہوتا ہے ایسے ہی معمولی باتوں میں علوم بھی ہوتے ہیں ۔
