ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو آجکل میدان میں آگئے ہیں یہ نہ کسی اور کام کے رہے اور نہ میدان ہی میں کچھ کیا اورکہیں نہ جنگ ہی ہے اور اگر ہے تو صرف آپس میں میدان کی تیاری کرلی اور کوئی نہیں ملا تو آپس ہی میں قوت صرف فرمانے لگے جیسے ایک راجہ کے لڑکے کی حکایت ہے کہ استاد نے مارا راجپوت توتھا ہی تلوار نکال کراستاد پرحملہ کیا استاد بھاگ پڑا اورراجہ سے شکایت کی کہ لڑکے نے یہ گستاخی کی راجہ نے کہا کہ یہ بڑی بدشگونی ہوئی کہ تم بھاگ پڑے یہ اول مرتبہ اس کا حملہ تھا وہ خالی گیا اب ساری عمر اسی طرح رہے گا اس لئے تم کو سزائے قید دی جاتی ہے یہ ہی حالت ان کی ہے جیسے وہ لڑکا آپس والے مشق کرتا تھا اسی طرح یہ لوگ آپس ہی والوں پرمشق کرتے ہیں ۔
19/ ربیع الاول ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ
