ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ آج کل رسمی پیر جن کا مقصود جاہ طلبی اور مال طلبی کے سوا کچھ نہیں باوجود بیحد مداہنت کے یہ بھی مصیبت ہی میں رہتے ہیں ایک پیر صاحب یہاں پر آئے تھے کہ میں قرضدار ہوں کہیں کسی کو کچھ لکھ دو وجہ قرض کی یہ بیان کی کہ مرید کھا گئے اور دیا کچھ نہیں یہ انجام ہے لنگرخانہ کا میں تو کہا کرتا ہوں کہ آدمی لنگر دینے کی وجہ سے لنگڑ دین ہو جاتا ہے اور قرض بھی چاہتے تھے تین چار ہزار کی رقم میں نے پوچھا ادا کہاں سے کرو گے ۔ کہتے ہیں کہ مریدوں سے وصول کر کے دے دوں گا بے چارے پھر بھی مریدوں کے معتقد تھے ان کے نہ دینے پر بھی اعتقاد نہیں ٹوٹا خلوص ہو تو ایسا ہو چاہے فلوس نہ ہو ۔
