( ملفوظ 533)رسول کے قوم کے ہم زبان ہونے سے عموم رسالت میں کمی نہیں آتی

ارشاد فرمایا کہ آلہ آباد میں ایک دفعہ جانا ہوا ـ اور سید اکبر حسین صاحب جج اس زمانہ میں کسی منتہی طالب علم سے عربی پڑھتے تھے انہوں نے طالب علم مذکور سے سوال کیا کہ : وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر رسول کی زبان اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے اور یہ یقینی بات کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان عربی تھی اس بناء پر یہ ہونا چاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم یعنی جن کی طرف آپ مبعوث ہوئے صرف اہل عرب ہوں حالانکہ خود قرآن میں آپ کا رسول الی کافتہ الناس ہونا ـ مصرح ہے اور عقیدہ بھی یہی ہے اور یہ صریح تعارض ہے طالب علم مزکور نے جواب دیا مگر ان کی تشفی نہ ہوئی اس طالب علم نے آ کر مجھے ذکر کیا میں نے اوس کی زبانی کہلا بھیجا کہ قرآن میں بلسان قومہ آیا ہے ـ بلسان امتہ نہیں آیا جو یہ شبہ ہو ـ اور قوم کہتے ہیں برادری اور خاندان کو پس وہ امت کا مرادف نہیں ہے اور قوم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بلا شک عرب قریش ہی تھے مگر اس امت کا خاص عرب ہونا کیسے لازم آیا ـ پس رسالت عام ہے قوم اور غیر قوم کو ـ اس جواب کو انہوں نے بہت ہی پسند کیا