فرمایا کہ کسی نے دریافت کیا ہے کہ : لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک سے معلوم ہوتا ہے کہ نعوذباللہ آپ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں فرمایا معاقب میں جواب میں یہ بات آئی کہ جب کوئی شخص نہایت خائف ہوتا ہے تو وہ ڈر کر کہا کرتا ہے کہ مجھ سے جو قصور ہو گیا ہو معاف کر دیجئے حالانکہ اس سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہوتا اور دوسرا اس کی تسلی کے لئے کہدیتا ہے کہ اچھا ہم نے تمہارا سب معاف کیا اسی طرح چونکہ اس خیال سے آپ کو غم رہا کرتا تھا کہ مجھ سے کوئی لغزش نہ ہو حق تعالی نے تسلی فرمادی ـ
