ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ فطری رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں ـ امالہ کی ضرورت ہے ـ وہ چیزیں اپنی ذات میں مذموم نہیں اس لئے کہ فطری ہیں ـ ان کا فطری ہونا دیک کر حکماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے ـ کہ ریاضت اور مجاہدہ سے کچھ نفع نہیں ہوتا ـ جو چیزیں جبلی ہیں وہ نہیں بدل سکتی ـ اس لئے سعی اور کوشش بیکار ہے ـ یہ حکماء سمجھے نہیں ـ مجاہدہ سے جبلی اور فطری کا ازالہ نہیں کیا جاتا ـ اس میں تو حکمتیں ہیں ـ اس لئے ااس کو باقی رکھا جاتا ہے ـ البتہ وہ کبھی اپنے اختیار سے اعتدال سے بڑھ جاتی ہیں ـ ریاضت اور مجاہدہ سے وہ اعتدال پر آجاتی ہیں ـ
