( ملفوظ 328) رذائل کے ازالہ کی نہیں امالہ کی ضرورت ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ فطری رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں ـ امالہ کی ضرورت ہے ـ وہ چیزیں اپنی ذات میں مذموم نہیں اس لئے کہ فطری ہیں ـ ان کا فطری ہونا دیک کر حکماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے ـ کہ ریاضت اور مجاہدہ سے کچھ نفع نہیں ہوتا ـ جو چیزیں جبلی ہیں وہ نہیں بدل سکتی ـ اس لئے سعی اور کوشش بیکار ہے ـ یہ حکماء سمجھے نہیں ـ مجاہدہ سے جبلی اور فطری کا ازالہ نہیں کیا جاتا ـ اس میں تو حکمتیں ہیں ـ اس لئے ااس کو باقی رکھا جاتا ہے ـ البتہ وہ کبھی اپنے اختیار سے اعتدال سے بڑھ جاتی ہیں ـ ریاضت اور مجاہدہ سے وہ اعتدال پر آجاتی ہیں ـ