( ملفوظ 613)رذائل پر عمل کرنے سے مؤاخذہ ہوتا ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس پر مؤاخذہ نہ ہو گا کہ تمہارے اندر رذائل مثلا بخل کیوں تھا اس کے اقتضاء پر عمل کرنے پر مواخذہ ہو گا یہی وجہ ہے کہ محققین کے نزدیک ان رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں امالہ کی ضرورت ہے یعنی صرف بدل دیا جائے محقق بزرگ نے اسی امالہ کے لئے یہ کوشش کی ہے کہ ان رذائل کو مضمحل کر دیا جائے کہ امالہ کے وقت مقاومت سہل ہو اور یہ بھی اکثر ہی ہے ورنہ اگر بالکل بھی سہولت نہ ہو تب بھی ضرر نہیں کیونکہ اصل مامور بہ تحصیل ہے اعمال کی اور تسہیل تبرع ہے اس باب میں میرا ایک وعظ ہے التحصیل و التسہیل یہ وعظ قابل دید ہے اس میں الحمد للہ اس مبحث کے متعلق قریب قریب سب ضروری ضروی باتیں بیان میں آ گئی ہیں یہ میں نہیں کہتا کہ اس میں کوئی نقص نہیں وہ ایک پکی ہوئی روٹی ہے ممکن ہے کہ کہیں سے جل بھی گئی ہو مگر انشاء اللہ تعالی زیادہ حصہ کارآمد ہے ۔