(ملفوظ 295 )ریل میں عورتوں کے ساتھ ہونے سے پریشانی

ایک مولوی صاحب عورتوں کا سفر ریل میں ساتھ ہونا اور اس پرپریشانی اور تکلیف کا ہونا بیان کررہے تھے حضرت والا نے فرمایا کہ میں تو ریل کو زندہ جنازہ کہا کرتا ہوں اور عورتوں کو زندہ اسباب مگر مردہ اسباب سے زیادہ تکلیف دہ ۔ مردہ اسباب کو قلی نوکر کے سر پر رکھ سکتے ہیں مگر ان زندہ کوکیا کرے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ یہ ہندوستان کی عورتیں جنت کی حوریں ہیں یہ ان میں ایک خاص بات ہے کہ اگرخداوند بیوی کو چھوڑ کرچلاجائے توجس کونے پر چھوڑ کرجائے گا دس برس کے بعد پھر اس ہی کونے میں بیٹھی ملے گی ۔ یہ اثرہے ۔ صفت قاصرات الطرف ۔ کا جو حوروں کے باب میں وارد ہے یہ ضرور ہے کہ ان میں سلیقہ نہت کم ہے مگر عفیف ہونا اتنی بڑی صفت ہے کہ اس کے سامنے ان کا پھوڑپنا کچھ بھی اثر نہیں رکھتا میں تو یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ پھوڑ عورت عفیف ضرورہوتی ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ ہرعفیف پھوڑ بھی ہو پس اگرعورت کا پھوڑ پن ناگوار ہوتو اس کی عفت پرنظر کرکے اس آیت کو پڑھ لیا کرو حق تعالٰی فرماتے ہیں : فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ یعنی ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو نا پسندہو اور اللہ تعالیٰ اسی میں خیرکثیر رکھ دیں یہ ہی کیا تھوڑی بات ہے کہ وہ بیبیاں سوائے ہمارے کسی پر نظر کرتیں حضرت باستثسناء شاذونا عورت کو وسوسہ بھی نہیں ہوتا غیر مردوں کا ایک مولوی صاحب نے اپنے ایک خادم سے اپنا ایک واقعہ بیان کیا اس خادم نے مجھ سے ورایت کی کہ میں نے ایک بہلی کا کرایہ کیا جب بہلی شہر کے کنارے پر پہنچی تووہاں اس بہلی والے کا مکان تھا وہاں اس نے بہلی کو روکا اس کی بیوی اس کو کھانا دینے آئی وہ بہلی بان اس قدر بدشکل تھا کہ شاید ہی کوئی اور دوسرا ایسا ہو اور وہ ایسی حسین کہ شاید ہی کوئی اور دوسری ہومگر میں اس وقت اس کو دیکھ رہا تھا کہ یہ میری طرف بھی نظر کرتی ہے یا نہیں مگر اس نے ایک نظر بھی اس طرف نہیں دیکھا اور شوہر کو کھانا دے چلی گئی اسی کو فرماتے ہیں
دلارامے کہ واری دل دروبند ٭ وگر چشم از ہمہ عالم فروبند
( جو ایک محبوب حاصل ہوگیا ہے ۔ اسی سے دل لگائے رہو ۔ باقی سارے جہان کی طرف سے آنکھ بند کرلو ۔ 12 )
فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ہندوستان کی عورتیں حوریں ہیں جن کی صفت میں ارشاد ہے : فیھن قصرات الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولاجآن ۔ ( ان میں نیچی نگاہ والیاں ہوں گی کہ ان لوگوں سے پہلے ان پر نہ توکسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے ۔12) یعنی ان باغوں کے مکانات میں ایسی عورتیں ہیں کہ سوائے اپنے شوہر کے کسی طرف نظر نہیں کرتیں ۔ ستی ہونے کی رسم ہندوستان ہی میں تھی گوقبیح ہے مگر منشا اس کا محض محبت تھا ۔ نارعشق کی نسبت یہ باراض پر آسان تھی کہ اگر زندہ رہوں گی تو نازعشق میں جلتی رہوں گی ۔ یہ بھی تجربہ سے معلوم ہو ا کہ دوسرا شوہر کرکے بھی عورت پہلے شوہر کو بھولتی نہیں اب دوسرے شوہر کو دانشمندی سے کام لینا چاہئے کہ اس کے دل کو اپنے ہاتھ میں رکھے اور اس کے اس معاملہ میں سختی نہ کرے مثلا اگروہ سابق خاوند کے لئے دعا کرے یا ایصال ثواب کرے یہ ساتھ دیتا رہے اگر مزاحمت کرے گا اس کوسخت صدمہ ہوگا اور پھر آپس میں بے لطفی پیدا ہوجانے کو اندیشہ ہے اس ہی لئے بعض حکماء نے سرسری نظرسے منع کیا ہے بیوہ عورت سے نکاح نہ کرے میں کہتا ہوں کہ جب شرعا کوئی قباحت نہیں تو نکاح ضرور کرلے مگر اس کی دلجوئی کا بہت زیادہ اہتمام رکھے تاکہ اس کو دل میں کوئی اور شکایت پیدا نہ ہو ۔