بعض لوگوں کو رسوم شادی میں جو بنا پر تفاخر صاحب تقریب کرتا ہے کسی کے شریک نہ ہونے پر یہ شبہ ہو جاتا ہے کہ ریا و نمونہ متعلق قلب کے ہے اور قلب کا حال معلوم نہیں ہو سکتا ـ بجواب اس کے ارشاد فرمایا کہ ریا جس طرح اظہار سے معلوم ہو سکتی ہے اسی طرح قرائن سے بھی معلوم ہو سکتی ہے حدیث میں آیا ہے ـ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن طعام المتبارین یہ ظاہر ہے کہ فخر کرنے والے زبان سے نہیں کہتے کہ ہم فخر کے لئے کر رہے ہیں ـ پس اگر قرائن اس میں معتبر نہ ہوتے تو اس حدیث پر عمل کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہوتی ـ اس سے معلوم ہوا کہ قرائن سے بھی فخر معلوم ہو سکتا ہے
