ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بین ظاہر طور پر ہر وقت مشاہدہ ہوتا ہے کہ رزق میں کوئی تدبیر کافی موثر نہیں ایک ہی تدبیر دو شخص کرتے ہیں ایک کامیاب ہوتا ہے دوسرا ناکام ایک ہی سامان کی دو دوکانیں پاس پاس ہیں ایک چلتی ہے دوسری نہیں چلتی پس نہ اسکے ہونے پر ناز چاہیئے اور نہ اسکے نہ ہونے پر مایوس ہونا چاہیئے فقہا نے اس روز کو خوب سمجھا ہے افلاس کی حالت میں افلاس کا حکم کیا کما ذکر وہ فی باب الحجر الدین اور غنا کی حالت میں غنی کو رزق قاضی نہ لینے کی اجازت نہیں دی اور تصریح فرمائی ہے کہ اگر قاضی کو مالی وسعت ہو اور بیت المال سے کچھ ملے تو لے لے انکار نہ کرے اس لئے کہ بعد میں اگر قاضی کا تقرر ہوگا اور اس میں وسعت پر کیا اختیار ہے اگر وسعت نہ رہی تو پھر مشکل پڑے گی ـ
