( ملفوظ 628) سچی دوستی کون سی ہے ؟

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل دوستی کا نام ہی نام رہ گیا ہے ورنہ حقیقت تو قریب قریب مفقود کے ہے حضرت مولانا گنگوہی کی مجلس میں حافظ محمد احمد صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب حاضر تھے جن کی دوستی مشہور و معروف تھی حضرت نے ان سے دریافت فرمایا کہ کبھی تم میں اور ان میں بے لطفی یا لڑائی بھی ہوتی ہے یا نہیں عرض کیا کہ حضرت کبھی کبھی ہو جاتی ہے فرمایا کہ یہ دوستی پائیدار ہے درخت وہ مستحکم ہوتا ہے کہ جس پر آندھی آ چکی ہو پھر اپنی جڑوں کو نہ چھوڑا ہو ۔ بس دوستی بھی وہی ہے کہ باہم لڑائی بھی ہو جائے اور تعلقات باقی رہیں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر ایک دوست دوسرے سے کہے کہ قرض دے دو اور وہ دریافت کرے کہ کتنا وہ بزرگ کہتے ہیں کہ وہ دوستی کے لائق نہیں اس سے قطع تعلق کر دو دوست وہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب لا کر سامنے رکھ دے یہ ہیں اس کے حقوق پھر ایک دوسری حکایت فرمائی کہ ایک دوست نے دوست کو رات کے وقت مکان پر جا کر آواز دی وہ ذرا تاخیر سے آیا اور اس حیثیت سے کہ ہتھیاروں سے مزین ایک حسین و جمیل لونڈی شمع لئے ہوئے اور ایک غلام ایک توڑا روپوں کا کندھے پر لادے ہوئے اس نے پوچھا یہ کیا قصہ ہے کہا کہ جب تم نے آواز دی تو مجھ کو خیال ہوا کہ بے وقت دوست نے آواز دی ہے نہ معلوم کیا قصہ ہے اور مجھ کو کئی احتمال ہوئے ایک یہ کہ ممکن ہے کہ کسی دشمن سے مقابلہ ہو تو ہتھیاروں سے ٹھیک ہو کر آیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی انیس کی ضرورت ہے تو یہ لونڈی لایا اس کو رکھو نکاح کرا دوں گا اور ممکن ہے کہ کسی خادم کی ضرورت ہو یہ غلام موجود ہے اور ممکن ہے کہ روپیہ کی ضرورت ہو روپیہ بھی حاضر ہے اس نے کہا کہ مجھ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں محض تمہارے دیکھنے کو دل چاہتا ہے تو حضرت دوستی تو یہ ہوتی ہے محض آپس میں باتیں کر لینے کا نام دوستی نہیں ۔