ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی تو ظاہری وضع بھی سادی رہتی تھی کوئی پہنچانتا بھی نہ تھا ایک مرتبہ حضرت حاجی رحمہ اللہ دہلی تشریف رکھتے تھے دیکھا ایک جگہ مجمع ہے اور دردنامہ غمناک جوکہ حضرت کی تصنیف پڑھا جارہا ہے حضرت بھی مستمعین ( سننے والوں ) میں شریک ہوگئے اورکسی نے پہچانا بھی نہیں ایک بارپانی پت تشریف لے جارہے تھے راستہ میں دیکھا کوئی عاشق یہی دردنامہ پڑھتا جارہا ہے فرماتے تھے کہ میں نے کہا کیوں بک بک لگا رہاہے اس نے حضرت کوسختی سے جواب دیا کہ توکیا جانے حضرت کے پانی پت پہنچنے کے بعد شہرت ہوئی یہ شخص بھی ملاقات کو آیا حضرت کو پہچان کر بہت شرمندہ ہوا اور حضرت سے معافی چاہی حضرت نے فرمایا کہ بھائی تم نے کوئی بری بات تو نہیں کہی تھی یہی توکہا تھا کہ توکیا جانے واقعی میں تمہاری حالت کو کیا جانوں ، یہ حالت تھی سادگی کی اپنے بزرگوں کی اور ادب تورنگ ہی بدل گیا ڈھنگ ہی نرالے ہیں مجھ کوتودیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایک دم کایا پلٹ ہوگئی ۔
