ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نفاست و صفائی میں اور تزئین میں کیا فرق ہے فرمایا کہ صفائی تو یہ ہے کہ میل کچیل نہ ہو چاہے کپڑا گھٹیا اور پھٹا ہی سہی مگر ہو صاف اور تزئین میں یہ ہوتا ہے کہ کپڑا قیمتی ہو خوبصورت ہو وضع قطع بھی درست ہو غرضیکہ نفاست اور تزئین میں زمین آسمان کا فرق ہے سو صفائی تو ہرحال میں محمود ہے اور تزئین بعض حالات میں مزموم بھی ہے ـ اسی مذمومہ کی نسبت کہا گیا ہے ـ
عاقبت سازد ترا از دین بری ایں تن آرائی وایں تن پروری
( یہ تن پردی اور بناؤ سنگار آخر کا تجھ کو دین سے بالکل خالی کر دے گا ـ )
