( ملفوظ 308)صفائی معاملات کا قحط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ روزمرہ کے معاملات میں لوگ ادھوری بات کرتے ہیں جس سے دوسرے کو پریشانی ہوتی ہے تکلیف ہوتی ہے ہمشہ اس کا خیال رکھنا چاہئے گویا یہ کل سلوک ہے کہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے آج کل لوگوں نے وظائف اور اور اد کو اصل سمجھ کر معاشرت کے تمام احکام سے نظرہٹالی جوسخت دھوکہ ہے اور اشد غلطی ہے بات ہمیشہ پوری کہنا چاہیے پوری بات کرنے سے کبھی پریشانی نہیں ہوتی میں تو رات دن اسی ہی کی تعلیم کرتا ہوں ۔ ایک صاحب یہاں پر تشریف لائے تھے پہلا مو قع تھا مجھ کو اجنبی شخص کے خدمت کرنے سے بجائے راحت کے گرانی اور کلف ہوتی ہے میں مکان کے ارادہ سے چلا انہوں نے دوڑ کرجوتے کا جوڑا میرے ہاتھ میں سے لینا چاہا میں نے انکار کیا اس پراصرار کیا سخت پریشانی ہوئی میں نے کہا کہ اپنا جی چاہا کرتے ہو تو کرلو جوتہ لئے کھڑے رہو میں ننگے پیر چلا جاؤں گا لوگ اس طرح پرایذائیں پہنچاتے ہیں کچھ نہیں محض تمرد اور سرکشی ہے اطاعت کا مادہ ہی لوگوں میں نہیں رہا کہاں تک اصلاح کی جائے ۔