(ملفوظ 199) صفائی معاملات میں بڑی راحت ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معاملہ کی صفائی بڑی راحت کی چیز ہے مگر لوگ اس سے برا مانتے ہیں یہ سب رسم کی خرابی ہے اور بدمعاملگی سے تکلیف سب کو ہوتی ہے مگر بے حسی ہوگئی ہے ان ہی باتوں کو میں مٹانا چاہتا ہوں اسی بدخلق مشہور کیا جاتا ہوں اب میں اکیلا کہاں تک اصلاح کروں ۔ یک اناروصد بیمار کا مصداق ہورہا ہے مگر پھر بھی بحمد اللہ بہت کام ہوگیا اور گو عمل عام نہ ہوا ہومگر علم تو بہت عام ہوگیا اوراس اصلاح میں میں سب مصلحین کا جو ساکت ہیں وقایہ بن گیا ورنہ سب ہی بدنام ہوتے اب اور حضرات تواپنے اخلاق متعارفہ کی وجہ سے لوگوں کو کچھ کہتے نہیں اور میرے اندر یہ اخلاق متعارفہ بحمداللہ ہیں نہیں اس لئے میں ہی روک ٹوک کرتا ہوں اس لئے مجھ کو ہی بدنام کرتے ہیں مگر مجھ کو اس کی پرواہ نہیں کیا کریں بدنام ہوتا کیا ہے ان کے بدنام کرنے کی وجہ سے میں اپنا مسلک اور اپنا طرز تھوڑا ہی بدل سکتا ہوں جس کو یہ طرز پسند نہ ہو وہ یہاں نہ آئے بلانے کون جاتا ہے بقول غالب
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں