ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کوئی قاعدہ کلیہ اس طریق کا نہیں کیونکہ یہ طریق عشق ہے اور عشق کا انضباط ہی کیا مردہ کا کیا انضباط وہ تو زندہ کے ہاتھ میں ہے مردہ بدست زندہ مشہور ہے اسی کو مولانا نے کہاہے
خفتہ از احوال دنیا روز و شب چوں قلم در پنجہ تقلیب رب
( حق تعالیٰ کا عاشق دنیا کے رات دن کے احوال سے بے خبر ہوتا ہے جیسے کہ قلم دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح عاشق ) احکام خداوندی کا تابع ہوتا ہے ۔ 12)
البتہ صاحب مقام راسخ ہوتا ہے اس میں انقلاب کم ہوتا ہے بخلاف صاحب حال کے کہ اس کی کیفیا ت میں بکثرت انقلاب ہوتا ہے اور نا واقف لوگ صاحب کیفیات ہی کوزیادہ کامل سمجھتے ہیں حالانکہ کوئ چیز نہیں اصل چیز مقام گومقام بھی ایک اصطلاح میں حال ہی ہے مگر ہے راسخ اوراس درجہ کے شخص کے واردات بھی قابل اتباع ہوتے ہیں گودوسروں کے لیے نہ سہی مگر خود اس کے لئے قابل اتباع ہوتے ہیں حتی کہ اگر وہ ان واردات کا اتباع نہ کرے تواس کو کچھ نہ کچھ بستی میں ایک بزرگ رہتے تھے ایک اور مسافر بزرگ اس بستی میں آئے انہوں نے ان سے ملنے کا ارادہ کیا مگر ان کے قلب پروارد ہوا کہ مت جاؤ یہ نہیں گئے تھوڑی دیر بعد پھرارادہ کیا کہ ملنا چاہئے پھر وارد ہوا کہ مت جاؤ اس پرخیال ہوا کہ وجہ کیا ایک بزرگ اورنیک شخص ہیں معلوم ہوتا ہے کہ خیال بے بنیاد ہے ضرور ملنا چاہئے اٹھ کر چل دیئے تھوڑی چلے تھے ٹھوکر لگی اور گر کرٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی المام ہوا کہ تمیں ملنے سے منع کیا گیا تھا اس منع کی کیوں مخالفت کی بعد میں ممانعت کی معلوم ہوئی کہ وہ بزرگ بدعتی تھے جن کی ملاقات سے منع کیاگیا تھا تو وارد کی عدم اتباع پراس قسم کی تکوینی سزا ہوجاتی ہے مگر اخروی سزا نہیں ہوتی بس یہ ضررہوتا ہے اوروجہ اس کی غور سے کام نہ لینا ہے ملامت اس پرہوتی ہے کہ واقعہ میں تحقیق اوراختیار کیوں نہیں کی اس طریق میں بہت ہی دقیق باتیں پیش آتی ہیں اس واقعہ میں احتیاط یہی تھی کہ نہ ملتے کیونکہ اگر وہ شخص واقع میں بزرگ ہی تھے تب بھی ان سے ملنا کوئی واجب تونہ پھر اصول صحیحہ سے تحقیق کرسکتے ہیں ایسے امور میں خاص سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے ۔
